تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 5. Al-Maaida · Ayah 101

  1. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْئَلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَسْئَلُوْا عَنْهَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَنْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ﴿101﴾

    1. يٰٓاَيُّھَااے
    2. الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاایمان والے
    3. لَا تَسْئَلُوْانہ پوچھو
    4. عَنْسے۔ متعلق
    5. اَشْيَآءَچیزیں
    6. اِنْ تُبْدَجو ظاہر کی جائیں
    7. لَكُمْتمہارے لیے
    8. تَسُؤْكُمْتمہیں بری لگیں
    9. وَاِنْاور اگر
    10. تَسْئَلُوْاتم پوچھوگے
    11. عَنْهَاان کے متعلق
    12. حِيْنَجب
    13. يُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُنازل کیا جارہا ہے قرآن
    14. تُبْدَ لَكُمْظاہر کردی جائینگی تمہارے لیے
    15. عَفَا اللّٰهُاللہ نے درگزر کی
    16. عَنْهَااس سے
    17. وَاللّٰهُاور اللہ
    18. غَفُوْرٌبخشنے والا
    19. حَلِيْمٌبردبار
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
مومنو! ایسی چیزوں کے بارے میں مت سوال کرو کہ اگر (ان کی حقیقتیں) تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں بری لگیں اور اگر قرآن کے نازل ہونے کے ایام میں ایسی باتیں پوچھو گے تو تم پر ظاہر بھی کر دی جائیں گی (اب تو) خدا نے ایسی باتوں (کے پوچھنے) سے درگزر فرمایا ہے اور خدا بخشنے والا بردبار ہے