تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 6. Al-An'aam · Ayah 116
وَ اِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ﴿116﴾
- وَاِنْاور اگر
- تُطِعْتو کہا مانے
- اَكْثَرَاکثر
- مَنْجو
- فِي الْاَرْضِزمین میں
- يُضِلُّوْكَوہ تجھے بھٹکا دیں گے
- عَنْسے
- سَبِيْلِراستہ
- اللّٰهِاللہ
- اِنْنہیں
- يَّتَّبِعُوْنَبیروی کرتے
- اِلَّامگر (صرف)
- الظَّنَّگمان
- وَاِنْ هُمْاور نہیں وہ
- اِلَّامگر
- يَخْرُصُوْنَاٹکل دوڑاتے ہیں
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور اکثر لوگ جو زمین پر آباد ہیں (گمراہ ہیں) اگر تم ان کا کہا مان لو گے تو وہ تمہیں خدا کا رستہ بھلا دیں گے یہ محض خیال کے پیچھے چلتے اور نرے اٹکل کے تیر چلاتے ہیں
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
بیکار خیالوں میں گرفتار لوگ
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اکثر لوگ دنیا میں گمراہ کن ہوتے ہیں جیسے فرمان ہے آیت (وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِيْنَ) 37۔ الصافات :71) اور جگہ ہے آیت (وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ) 12۔ یوسف :103) گو تو حرص کرے لیکن اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں۔ پھر یہ لوگ اپنی گمراہی میں بھی کسی یقین پر نہیں صرف باطل گمان اور بیکار خیالوں کا شکار ہیں اندازے سے باتیں بنا لیتے ہیں پھر ان کے پیچھے ہو لیتے ہیں، خیالات کے پرو ہیں تو ہم پرستی میں گھرے ہوئے ہیں یہ سب مشیت الٰہی ہے وہ گمراہوں کو بھی جانتا ہے اور ان پر گمراہیاں آسان کردیتا ہے، وہ راہ یافتہ لوگوں سے بھی واقف ہے اور انہیں ہدایت آسان کردیتا ہے، ہر شخص پر وہی کام آسان ہوتے ہیں جن کیلئے وہ پیدا کیا گیا ہے۔