تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 6. Al-An'aam · Ayah 34
وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا١ۚ وَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَكَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ﴿34﴾
- وَلَقَدْ كُذِّبَتْاور البتہ جھٹلائے گئے
- رُسُلٌرسول (جمع)
- مِّنْ قَبْلِكَآپ سے پہلے
- فَصَبَرُوْاپس صبر کیا انہوں نے
- عَلٰيپر
- مَا كُذِّبُوْاجو وہ جھٹلائے گئے
- وَاُوْذُوْااور ستائے گئے
- حَتّٰىیہانتک کہ
- اَتٰىهُمْان پر آگئی
- نَصْرُنَاہماری مدد
- وَلَا مُبَدِّلَنہیں بدلنے والا
- لِكَلِمٰتِ اللّٰهِاللہ کی باتوں کو
- وَاور
- لَقَدْالبتہ
- جَآءَكَآپ کے پاس پہنچی
- مِنْسے (کچھ)
- نَّبَاِىخبر
- الْمُرْسَلِيْنَرسول (جمع)
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور تم سے پہلے کبھی پیغمبر جھٹلائے جاتے رہے تو وہ تکذیب اور ایذا پر صبر کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد پہنچتی رہی اور خدا کی باتوں کو کوئی بھی بدلنے والا نہیں۔ اور تم کو پیغمبروں (کے احوال) کی خبریں پہنچ چکی ہیں (تو تم بھی صبر سے کام لو)