تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 7. Al-A'raaf · Ayah 82
وَ مَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ﴿82﴾
- وَمَااور نہ
- كَانَتھا
- جَوَابَجواب
- قَوْمِهٖٓاس کی قوم
- اِلَّآمگر
- اَنْیہ
- قَالُوْٓاانہوں نے کہا
- اَخْرِجُوْهُمْانہیں نکال دو
- مِّنْسے
- قَرْيَتِكُمْاپنی بستی
- اِنَّهُمْبیشک
- اُنَاسٌیہ لوگ
- يَّتَطَهَّرُوْنَپاکیزگی چاہتے ہیں
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
تو ان سے اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا اور بولے تو یہ بولے کہ ان لوگوں (یعنی لوط اور اس کے گھر والوں) کو اپنے گاؤں سے نکال دو (کہ) یہ لوگ پاک بننا چاہتے ہیں
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
قوم لوط پر بھی نبی کی نصیحت کار گر نہ ہوئی بلکہ الٹا دشمنی کرنے لگے اور دیس نکال دینے پر تل گئے، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مع ایمانداروں کے وہاں سے صحیح سالم بجا لیا اور تمام بستی والوں کو ذلت و پستی کے ساتھ تباہ و غارت کردیا، ان کا یہ کہنا کہ یہ بڑے پاکباز لوگ ہیں بطور طعنے کے تھا اور یہ بھی مطلب تھا کہ یہ اس کام سے جو ہم کرتے ہیں دور ہیں پھر ان کا ہم میں کیا کام ؟ مجاہد اور ابن عباس کا یہی قول ہے۔