تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 7. Al-A'raaf · Ayah 93
فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ١ۚ فَكَیْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ۠ع﴿93﴾
- فَتَوَلّٰيپھر منہ پھیرا
- عَنْهُمْان سے
- وَقَالَاور کہا
- يٰقَوْمِاے میری قوم
- لَقَدْالبتہ
- اَبْلَغْتُكُمْمیں نے پہنچا دئیے تمہیں
- رِسٰلٰتِپیغام (جمع)
- رَبِّيْاپنا رب
- وَنَصَحْتُاور خیر خواہی کی
- لَكُمْتمہاری
- فَكَيْفَتو کیسے
- اٰسٰيغم کھاؤں
- عَلٰيپر
- قَوْمٍقوم
- كٰفِرِيْنَکافر (جمع)
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
تو شعیب ان میں سے نکل آئے اور کہا کہ بھائیو میں نے تم کو اپنے پروردگار کے پیغام پہنچا دیئے ہیں اور تمہاری خیرخواہی کی تھی۔ تو میں کافروں پر (عذاب نازل ہونے سے) رنج وغم کیوں کروں
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
قوم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آچکنے کے بعد حضرت شعیب ؑ وہاں سے چلے اور بطور ڈانٹ ڈپٹ کے فرمایا کہ میں سبکدوش ہوچکا ہوں۔ اللہ کا پیغام سنا چکا، سمجھا بجھا چکا، غم خواری ہمدردی کرچکا۔ لیکن تم کافر کے کافر ہی رہے اب مجھے کیا پڑی کہ تمہارے افسوس میں اپنی جان ہلکان کروں ؟