تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 8. Al-Anfaal · Ayah 53

  1. ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ یَكُ مُغَیِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰى قَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ﴿53﴾

    1. ذٰلِكَیہ
    2. بِاَنَّاس لیے کہ
    3. اللّٰهَاللہ
    4. لَمْ يَكُنہیں ہے
    5. مُغَيِّرًابدلنے والا
    6. نِّعْمَةًکوئی نعمت
    7. اَنْعَمَهَااسے دی
    8. عَلٰي قَوْمٍکسی قوم کو
    9. حَتّٰيجب تک
    10. يُغَيِّرُوْاوہ بدلیں
    11. مَاجو
    12. بِاَنْفُسِهِمْان کے دلوں میں
    13. وَاَنَّاور یہ کہ
    14. اللّٰهَاللہ
    15. سَمِيْعٌسننے والا
    16. عَلِيْمٌجاننے والا
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
یہ اس لیے کہ جو نعمت خدا کسی قوم کو دیا کرتا ہے جب تک وہ خود اپنے دلوں کی حالت نہ بدل ڈالیں خدا اسے نہیں بدلا کرتا۔ اور اس لیے کہ خدا سنتا جانتا ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اللہ ظالم نہیں لوگ خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ اپنی دی ہوئی نعمتیں گناہوں سے پہلے نہیں چھینتا۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی ان باتوں کو نہ بدل دیں جو ان کے دلوں میں ہیں۔ جب وہ کسی قوم کی باتوں کی وجہ سے انہیں برائی پہنچانا چاہتا ہے تو اس کے ارادے کوئی بدل نہیں سکتا۔ نہ اس کے پاس کوئی حمایتی کھڑا ہوسکتا ہے۔ تم دیکھ لو کہ فرعونیوں اور ان جیسے ان سے گذشتہ لوگوں کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ انہیں اللہ نے اپنی نعمتیں دیں وہ سیاہ کاریوں میں مبتلا ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے دیئے ہوئے باغات چشمے کھیتیاں خزانے محلات اور نعمتیں جن میں وہ بد مست ہو رہے تھے سب چھین لیں۔ اس بارے میں انہوں نے اپنا برا آپ کیا۔ اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا۔
Tafseer Ibn-e-Kaseer - 8 : 53