Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 10. Yunus · Ayah 33

  1. كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ فَسَقُوْۤا اَنَّهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ﴿33﴾

    1. كَذٰلِكَاسی طرح
    2. حَقَّتْسچی ہوئی
    3. كَلِمَتُبات
    4. رَبِّكَتیرا رب
    5. عَلَيپر
    6. الَّذِيْنَوہ لوگ جو
    7. فَسَقُوْٓاانہوں نے نافرمانی کی
    8. اَنَّھُمْکہ وہ
    9. لَا يُؤْمِنُوْنَایمان نہ لائیں گے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اسی طرح تیرے رب کی بات ان لوگوں پر پوری ہوچکی ہے جنہوں نے نافرمانی کی ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَي الَّذِيْنَ فَسَقُوْٓا اَنَّھُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ۔ ہدایت و ضلالت کے باب میں سنت الٰہی : " کذلک " کا اشارہ مشرکین کی اس متضاد و متناقض روش کی طرف ہے ہے جو اوپر مذکور ہوئی اور کلمہ رب سے مراد وہ سنت الٰہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہدایت و ضلالت کے باب میں مقرر فرمائی ہے اور جس کی وضاحت ایک سے زیادہ مقامات میں ہوچکی ہے۔ اللہ تعالیٰ ایمان وہدایت کی راہ انہی لوگوں پر کھولتا ہے جو اپنے عقل و دل کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، جو لوگ عقل و فطرت کو ٹھکرا کر اپنی خواہشوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں اللہ تعالیٰ ایسے فاسقوں کے اوپر ان کی اختیار کردہ ضلالت ہی کو مسلط کردیتا ہے۔ چناچہ ان لوگوں پر بھی ان کی پسندیدہ ضلالت مسلط ہوچکی ہے اور اب یہ ایمان کی طرف آنے والے نہیں ہیں۔ دوسرے مقام میں وما یضل بہ الا الفاسقین کے الفاظ میں بھی یہ سنت الٰہی بیان ہوئی ہے۔ یہ آیت آنحضرت ﷺ کی طرف بطور التفات کے ہے۔ آپ کو تسلی دی گئی ہے کہ ان لوگوں کی روش سے پریشان نہ ہوں۔ یہ سنت الٰہی کی زد میں آئے ہوئے لوگ ہیں۔ ایسے لوگوں سے متعلق اتمام حجت کے د تمہاری ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے۔