تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 100. Al-Aadiyaat · Ayah 6
اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌۚ﴿6﴾
- اِنَّبیشک
- الْاِنْسَانَانسان
- لِرَبِّهٖاپنے رب کا
- لَكَنُوْدٌناشکرا
Translation · Tadabbur-e-Quran
کہ انسان اپنے رب کا نہایت ناشکرا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اصل دعویٰ: یہ وہ اصل بات ہے جس پر شہادت کے لیے اوپر کی قسمیں کھائی گئی ہیں۔
’کَنُوْدٌ‘ کے معنی ہیں ناشکرا، ناسپاس، تنہا خور، اپنے مالک کی عنایتوں کا ناقدرا۔
مطلب یہ ہے کہ جو انسان گھوڑوں کی یہ ساری جاں نثاریاں دیکھتا ہے اور ان کی قربانیوں سے بہرہ مندہ ہوتا ہے لیکن اسے یہ سونچنے کی توفیق نہیں ہوتی کہ وہ بھی اپنے رب کا غلام ہے اور اس پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ بھی انہی کی طرح اپنے رب کی اطاعت میں سرگرم و سینہ سپر رہے، وہ نہایت ناشکرا اور لئیم ہے۔ کیونکہ وہ جانور ہو کر اپنے مالک کا حق پہچانتے ہیں اور یہ انسان ہو کر اپنے خداوند کا حق نہیں پہچانتا۔
گھوڑوں کے خاص طور پر ذکر کی وجہ: یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ گھوڑوں کا ذکر بطور مثال ہے۔ یہی وفاداری و جاں نثاری ان تمام حیوانات میں پائی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے مسخر کیے ہیں۔ چنانچہ قرآن نے جگہ جگہ ان کا بھی ذکر کر کے انسان کی حس شکر کو ابھارا ہے۔ خاص طور پر اونٹ کی صلاحیتوں اور خدمتوں کا ذکر تو قرآن میں متعدد جگہ آیا ہے۔ اس کی خدمت، اس کی جفاکشی اور اس کے صبر سے انسان کو سبق لینے کی دعوت دی گئی ہے کہ جس طرح وہ اپنے آقا کی تابع داری کرتا ہے اسی طرح انسان کا فرض ہے کہ اپنے اس آقا کی تابع داری کرے جس نے اونٹ جیسے عظیم اور کثیر المنافع جانور کو اس کی تابع داری میں دے دیا ہے۔
گھوڑوں کے خصوصیت سے ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ جنگ اور دفاع کے لیے خاص طور پر اس اس دور میں، بڑی اہمیت رکھتے تھے جب ہر خاندان اور قبیلہ کی حفاظت کی ذمہ داری خود خاندان و قبیلہ پر عائد ہوتی تھی۔ اس زمانے میں ہر شخص کو اپنے اہل و عیال کی حفاظت کے لیے اصیل جنگی گھوڑے رکھنے پڑتے تھے اور ان گھوڑوں کی ان کے ہاں بڑی عظمت و اہمیت تھی۔ یہ گھوڑے عربی شاعری کا خاص موضوع ہیں۔ یہاں اشعار نقل کرنے کی گنجائش نہیں ہے محض ان کے ذوق کا اندازہ کرنے کے لیے کسی حماسی کا ایک شعر نقل کرتا ہوں جو بالکل بروقت زبان قلم پر آ گیا ہے۔ شاعر کہتا ہے:
وفی فرس نھد عتیق جعلتہ
حجابا لبیتی ثم اخدمتہ عبدا
(اور میں اپنا مال ایک جوان اور اصیل گھوڑے کے لیے خرچ کرتا ہوں جس کو میں نے اپنے گھر کا پاسبان بنایا ہے اور پھر میں نے اس کی خدمت کے لیے ایک غلام رکھ چھوڑا ہے)
انسان کے لیے خاص درس: گھوڑوں کی یہ قدر و قیمت، ظاہر ہے کہ، ان کی خدمات اور جاں بازیوں کی بنا پر ہے جو وہ انسان کی انجام دیتے ہیں۔ اگر یہ خدمتیں وہ انجام نہ دیتے تو انسان نہ ان پر اپنا مال خرچ کرتا اور نہ اپنے قصیدوں میں ان کی مدح سرائی کرتا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انسان اس حقیقت سے ناواقف نہیں ہے کہ غلام کی قدر و قیمت کا انحصار اس کی خدمات پر ہے لیکن خود اپنے معاملے میں وہ اس حقیقت کو فراموش کر جاتا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ جس رب کا غلام ہے حکم تو اس کا ایک نہ مانے لیکن انعام دنیا اور آخرت دونوں میں سب سے بڑھ کر پائے۔
انسان کی ناشکری کا ایک اور پہلو بھی قابل توجہ ہے کہ انسان نہ گھوڑوں ہی کا خالق ہے اور نہ ان چیزوں ہی کا خالق ہے جن پر ان کی پرورش کا انحصار ہے تاہم وہ نہایت بے جگری سے انسان کی خدمت محض اس وجہ سے کرتے ہیں کہ خدا نے ان کو اس کی خدمت میں لگا دیا ہے۔ اس کے برعکس انسان کا حال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا بھی خالق ہے اور اس کے کام آنے والے تمام جانوروں اور معاش و معیشت کے جملہ اسباب و وسائل کا بھی لیکن وہ خدا کی بندگی کے حقوق و فرائض سے بے پروا ہے۔