تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 100. Al-Aadiyaat · Ayah 7
وَ اِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِیْدٌۚ﴿7﴾
- وَاِنَّهٗاور بیشک وہ
- عَلٰيپر
- ذٰلِكَاس
- لَشَهِيْدٌگواہ
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور وہ اپنے رویہ پر خود گواہ ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے: فرمایا کہ اس کے اس ناشکرے پن پر کوئی دلیل قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ خود اس پر سب سے بڑا گواہ ہے۔ یہ فقرہ اسی طرح کا ہے جس طرح سورۂ قیامہ میں فرمایا ہے:
’بَلِ الْإِنۡسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ ۵ وَلَوْ أَلْقٰی مَعَاذِیْرَہُ‘ (القیامہ ۷۵: ۱۴-۱۵)
(بلکہ انسان خود اپنے اوپر حجت ہے اگرچہ وہ کتنے ہی عذرات تراشے)۔
جو باتیں انسان کی فطرت کے بدیہی مقتضیات میں سے ہیں وہ دلیل کی محتاج نہیں ہوتیں۔ ان کے حق میں سب سے بڑی گواہی خود انسان کی فطرت اور اس کے ضمیر کے اندر موجود ہوتی ہے۔ انسان اگر ان سے گریز اختیار کرتا ہے تو اس وجہ سے نہیں کہ ان کے حق میں اس کو کوئی دلیل نہیں ملی بلکہ ان کو اپنے نفس کی سفلی خواہشوں کے خلاف پاتا ہے اس وجہ سے ان سے گریز کے لیے بہانے تلاش کرتا ہے۔ ورنہ آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ وہ خود تو صرف انہی گھوڑوں کی قدر کرتا ہے جو اس کی کوئی قابل قدر خدمت انجام دیتے ہیں لیکن اپنے مالک اور رب کے متعلق یہ گمان رکھتا ہے کہ اس کے ہاں نیکو کار اور بدکار میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اس نے ان کے ساتھ جو معاملہ اس دنیا میں کیا ہے اس سے بہتر معاملہ آخرت میں کرے گا، خواہ اس کے ایک حکم کی بھی وہ تعمیل نہ کرے بلکہ ساری زندگی اپنے نفس کی غلامی میں گزارے۔