Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 100. Al-Aadiyaat · Ayah 8

  1. وَ اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌؕ﴿8﴾

    1. وَاِنَّهٗاور بیشک وہ
    2. لِحُبِّمحبت میں
    3. الْخَيْرِمال و دولت
    4. لَشَدِيْدٌالبتہ سخت
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور وہ دولت کا رسیا ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
کردار کی گواہی: یہ اس کے ناشکرے پن پر اس کے کردار سے دلیل پیش کی ہے کہ وہ مال کی محبت میں غرق ہے۔ وہ اپنے گھوڑوں کو تو دیکھتا ہے کہ وہ جان کی بازی لگا کر اور نیزوں کے مقابل میں سینہ سپر ہو کر جو کچھ حاصل کرتے ہیں سب مالک کے حوالے کرتے ہیں، اپنے کسی حق کا مطالبہ نہیں کرتے، مالک جو کچھ ان کے آگے ڈال دیتا ہے اس پر قانع رہتے ہیں، لیکن اس کا حال یہ ہے کہ یہ جو کچھ اپنے رب کی بخشش و عنایات سے پاتا ہے اس کو اپنی تدبیر و قابلیت کا کرشمہ سمجھتا ہے اور اس پر مار گنج بن کر بیٹھ رہتا ہے، اس میں مالک کا کوئی حق تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہوتا اور اگر کوئی اس کے لیے اس کو یاددہانی کرے تو اس کو جواب دیتا ہے کہ اس کے مال کو خدا سے کیا تعلق۔ یہ تو اس نے اپنی محنت و قابلیت سے حاصل کیا ہے: ’إِنَّمَا أُوۡتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ عِندِیْ‘ (القصص ۲۸: ۷۸) (یہ تو مجھے اس علم کی بدولت ملا ہے جو میرے اپنے پاس ہے)۔ لفظ ’خَیْر‘ یہاں مال کے معنی میں ہے۔ اس معنی میں یہ عربی میں معروف ہے اور قرآن میں بھی یہ اس معنی میں استعمال ہوا ہے۔ محبت کی اصلی حق دار وہ ذات ہے جو انسان کی خالق و مالک ہے اور جس کے فضل سے انسان کو وہ سب کچھ ملتا ہے جو اس دنیا میں وہ پاتا ہے۔ چنانچہ قرآن نے سچے اہل ایمان کی تعریف یہ فرمائی ہے کہ جب ان کے سامنے کوئی مرحلہ ایسا آتا ہے جس میں ان کے نفس اور ان کے رب کے مطالبات میں تصادم ہوتا ہے تو وہ اپنے رب کی محبت میں مضبوط ثابت ہوتے ہیں اور نفس کے مطالبے کو ٹھکرا دیتے ہیں: ’وَالَّذِیْنَ آمَنُوۡا أَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ‘ (البقرہ ۲: ۱۶۵) (اور جو اہل ایمان ہوتے ہیں وہ سب سے زیادہ سخت اللہ کی محبت میں ہوتے ہیں)۔ اس کے برعکس حال ان لوگوں کا ہوتا ہے جو ناشکرے اور ناسپاس ہوتے ہیں، وہ اپنے رب سے زیادہ اپنے مال کے پرستار ہوتے ہیں۔