تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 104. Al-Humaza · Ayah 9
فِیْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ۠ع﴿9﴾
- فِيْ عَمَدٍستونوں میں
- مُّمَدَّدَةٍلمبے لمبے
Translation · Tadabbur-e-Quran
لمبے ستونوں میں جکڑے ہوئے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یہ ان کی ذلت اور بے بسی کی تصویر ہے کہ اس آگ کے اندر وہ لمبے لمبے ستونوں کے ساتھ، بھاری بھاری زنجیروں سے، جکڑے ہوئے بھی ہوں گے کہ اپنی جگہ سے ہل نہ سکیں۔ یہاں ستونوں کا ذکر ہے، سورۂ حاقہ میں اسی طرح کے مجرموں کے لیے زنجیر کا بھی ذکر ہے۔ فرمایا ہے:
خُذُوۡہُ فَغُلُّوۡہُ ۵ ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوۡہُ ۵ ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَۃٍ ذَرْعُہَا سَبْعُوۡنَ ذِرَاعًا فَاسْلُکُوۡہُ ۵ إِنَّہٗ کَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللہِ الْعَظِیْمِ ۵ وَلَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ (الحاقہ ۶۹: ۳۰-۳۴)
’’اس کو پکڑو، پھر طوق ڈالو، پھر دوزخ میں داخل کرو، پھر ایک زنجیر میں جس کا طول ستّر گز ہے، اس کو جکڑو۔ یہ خدائے عظیم پر ایمان نہیں رکھتا تھا اور مسکین کو کھلانے پر نہیں ابھارتا تھا۔‘‘