Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 105. Al-Fil · Ayah 1

  1. اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِؕ﴿1﴾

    1. اَلَمْ تَرَکیا تم نے نہیں دیکھا
    2. كَيْفَ فَعَلَکیسا کیا
    3. رَبُّكَتمہارا رب
    4. بِاَصْحٰبِوالوں کے ساتھ
    5. الْفِيْلِہاتھی
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے خداوند نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
خطاب کی نوعیت: ’اَلَمْ تَرَ‘ کے خطاب کی نوعیت ہم جگہ جگہ واضح کرتے آ رہے ہیں کہ اگرچہ یہ لفظاً واحد ہے لیکن اس کا استعمال بیشتر جمع کو مخاطب کرنے کے لیے ہوتا ہے اور یہ طرز خطاب گویا مخاطب گروہ کے ایک ایک فرد کو فرداً فرداً متوجہ کرتا ہے۔ یہاں مخاطب قریش ہیں۔ ان کو مخاطب کر کے توجہ دلائی ہے کہ اصحاب فیل کے ساتھ تمہارے رب نے جو معاملہ کیا، کیا وہ تم نے نہیں دیکھا؟ یہ امر ملحوظ رہے کہ اصحاب الفیل کے واقعہ پر ابھی زیادہ زمانہ نہیں گزرا تھا۔ آنحضرت ﷺ کی ولادت با سعادت عام الفیل ہی کے دوران میں ہوئی ہے اس وجہ سے اس سورہ کے نزول کے وقت بہت سے ایسے لوگ رہے ہوں گے جنھوں نے اس واقعہ کا بچشم خود مشاہدہ کیا ہو گا اور اگر مشاہدہ نہیں کیا ہو گا تو اس تواتر کے ساتھ سنا ہو گا کہ وہ مشاہدہ ہی کے حکم میں ہے۔ اس وجہ سے ’اَلَمْ تَرَ‘ کا خطاب یہاں بالکل اپنے موزوں محل میں ہے۔ اصحاب الفیل کون تھے؟ قرآن نے یہاں ان ہاتھی والوں کی کوئی تفصیل بیان نہیں کی ہے کہ وہ کون تھے، کہاں سے آئے تھے اور ان کے آنے کا مقصد کیا تھا؟ اجمال کے ساتھ صرف ان کے انجام کی طرف اشارہ کر کے بات ختم کر دی ہے۔ اس اجمال کی وجہ یہ ہے کہ مخاطب گروہ کو ان کا سارا واقعہ معلوم تھا۔ ’اصحاب الفیل‘ کے الفاظ سے ان کا تعارف ہی یہ سمجھ جانے کے لیے کافی تھا کہ یہ اشارہ یمن کے حبشی حکمران، ابرہہ کی طرف ہے جس کے حملہ آور لشکر کے ساتھ کوہ پیکر ہاتھی بھی تھے۔ ہاتھیوں والے لشکر کا تجربہ عربوں کو پہلی بار اسی جنگ میں ہوا اس وجہ سے اسی نام سے انھوں نے اس حملہ کو یاد رکھا جس سے اس کی سنگینی کا اظہار ہوتا ہے۔ ہاتھی ایک ہی تھا یا اس سے زیادہ تھے قرآن کے الفاظ سے دونوں ہی مفہوم نکل سکتے ہیں لیکن چونکہ ’صاحب الفیل‘ نہیں بلکہ ’اصحاب الفیل‘ کہا گیا ہے اس وجہ سے متبادر یہی ہوتا ہے کہ ہاتھی ایک سے زیادہ تھے اور روایات سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہاتھیوں کا ایک پورا دستہ فوج کے ساتھ تھا جس سے اس کی قوت اور ہیبت میں بڑا اضافہ ہو گیا تھا۔ ابرہہ اور اس کا کردار: ابرہہ کو اگرچہ بعض مورخین نے ایک بردبار حکمران لکھا ہے لیکن اس کے حالات زندگی سے اس حسن ظن کی تائید نہیں ہوتی بلکہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک موقع پرست، غدار اور نہایت متعصب عیسائی تھا۔ اس نے خود حبش کے بادشاہ کے ساتھ غداری کی جس کی فوجوں کے ذریعہ سے اس نے یمن پر قبضہ کیا تھا، اس کی تفصیل تاریخوں میں موجود ہے، لیکن یہاں اس سے تعرض کا موقع نہیں ہے۔ یمن پر قبضہ کرنے کے بعد اس نے نہ صرف اس کے یہودی بادشاہ کو قتل کیا بلکہ وہاں سے یہود اور یہودیت کا بیخ و بُن سے خاتمہ کر دیا۔ ابرہہ کی چال اور اس کی ناکامی: عیسائیت کے تعصب کے جنون میں اس نے یہ اسکیم بنائی کہ عربوں کو عیسائی بنا لے۔ اس اسکیم کو بروئے کار لانے کے لیے اس نے یمن کے دارالسلطنت صنعاء میں ایک عظیم الشان گرجا بنوایا اور حبش کے نجاشی کو، جس کے نائب السلطنت کی حیثیت سے وہ یمن پر حکومت کر رہا تھا، اس نے لکھا کہ میں نے ایک ایسا گرجا تعمیر کرایا ہے جس کی نظیر چشم فلک نے نہیں دیکھی ہو گی۔ میں چاہتا ہوں کہ عربوں کے حج کا رخ بھی اسی کی طرف موڑ دوں اور ان کے مکہ کے معبد کو ڈھا دوں۔ اس کے بعد اس نے کعبہ پر حملہ کا جواز پیدا کرنے کے لیے مشہور کیا کہ اس کے تعمیر کردہ گرجا کو کسی عرب نے بقصد توہین ناپاک کیا ہے۔ یہ واقعہ اول تو بالکل جھوٹ معلوم ہوتا ہے، عرب ہمیشہ تلوار کے دھنی رہے ہیں، بہادر قوموں کے افراد اس طرح کی پست حرکتیں نہیں کیا کرتے، لیکن بالفرض صحیح بھی ہو تو کسی ایک شخص کا انفرادی فعل اس بات کو جائز ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہے کہ اس کا انتقام پوری قوم سے لیا جائے، یہاں تک کہ اس جرم کی پاداش میں ان کے دینی معبد کو ڈھا دینے کی جسارت کی جائے لیکن عیسائیوں کے جذبات بھڑکانے اور نجاشی کی تائید حاصل کرنے کے لیے اس جھوٹ کو خوب شہرت دی گئی یہاں تک کہ ساٹھ ہزار کا لشکر جرار، جس کے ساتھ نو دس ہاتھی بھی تھے، جمع کر کے مکہ پر حملہ کر دیا گیا۔