Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 105. Al-Fil · Ayah 2

  1. اَلَمْ یَجْعَلْ كَیْدَهُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍۙ﴿2﴾

    1. اَلَمْکیا نہیں
    2. يَجْعَلْکردیا
    3. كَيْدَهُمْان کا داؤ
    4. فِيْ تَضْلِيْلٍگمراہی میں (بیکار)
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا ان کی چال بالکل برباد نہ کردی !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
لیکن ابرہہ کی یہ ساری تدبیریں اللہ تعالیٰ نے بالکل پائمال و رائگاں کر دیں۔ ان تدبیروں کو ’کید‘ (چال) سے تعبیر کرنے کی ایک واضح وجہ تو وہی ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا کہ ایک نہایت ظالمانہ اقدام کو جائز ثابت کرنے کے لیے ایک نہایت بے ہودہ قسم کا الزام گھڑا گیا لیکن اس کے ’کید‘ ہونے کے بعض اور پہلو بھی ہیں جن کی طرف امام فراہی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں اشارے فرمائے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: ’’۱۔ اس نے محترم مہینوں میں حملہ کیا۔ اس کو خیال تھا کہ عرب ان مہینوں میں جنگ و خونریزی سے احتراز کرتے ہیں۔ ۲۔ اس نے مکہ میں ایسے وقت میں داخل ہونے کی کوشش کی جب اہل مکہ دوسرے عربوں کے ساتھ حج کے مناسک ادا کرنے میں مصروف ہوتے ہیں۔ ۳۔ اس نے خاص طور پر قیام منیٰ کے دنوں میں حملہ کرنا چاہا کہ عرب یا تو منیٰ میں قربانی میں مصروف ہوں گے یا تھکے ماندے گھروں کو واپس آ رہے ہوں گے۔‘‘ ابرہہ کی چالوں کی ناکامی کا خدائی انتظام: اس کی ان چالوں کو ناکام کر دینے کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو انتظام فرمایا اس کا خلاصہ، واقعات سے مستنبط کر کے، مولانا فراہی رحمۃ اللہ علیہ نے ان الفاظ میں پیش کیا ہے: ’’۱۔ ان کی فوج کو وادئ محسر ہی میں روک دیا۔ ۲۔ محسر کے پتھروں سے عربوں نے اسلحہ کا کام لیا اور ان پر سنگ باری کی جس کی تفصیل آگے آئے گی۔ ۳۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ کے ان دشمنوں پر سنگ باری کرنے والی ہوا (حاصب) بھی بھیجی جس نے ان کو بالکل پامال کر دیا۔‘‘ اس ’حاصب‘ کا ذکر واقعہ کے بعض عینی شاہدوں نے کیا ہے اور ابن ہشام وغیرہ نے اپنی کتابوں میں ان شہادتوں کو نقل کیا ہے۔ مولانا فراہیؒ نے اس پر پوری تفصیل سے بحث کی ہے۔ ہم بقصد اختصار صرف دو مثالیں پیش کرتے ہیں۔ مشہور شاعر ابوقیس اس واقعہ کے سلسلہ میں قدرت الٰہی کی بعض شانوں کا ذکر کرتے ہوئے ’حاصب‘ کا ذکر یوں کرتا ہے: فارسل من ربھم حاصب یلفہم مثل لف القزم (پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر حاصب (سنگ ریزے برسانے والی آندھی) چلی جو خس و خاشاک کی طرح ان کو لپیٹ لیتی)۔ اسی طرح صیفی بن عامر نے بھی ’ساف‘ اور ’حاصب‘ کا ذکر کیا ہے۔؂۱ وہ کہتا ہے: فلما اجازوا بطن نعمان ردھم جنود الا لہ بین ساف و حاصب (جونہی وہ بطن نعمان سے آگے بڑھے، خدا کی فوجوں نے ساف اور حاصب کے درمیان نمودار ہو کر ان کو پسپا کر دیا)۔ _____ ؂۱ لفظ ’ساف‘ بھی ’حاصب‘ کی طرح تند ہوا ہی کے لیے آتا ہے۔ دونوں میں صرف درجے کا فرق ہے۔