Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 105. Al-Fil · Ayah 3

  1. وَّ اَرْسَلَ عَلَیْهِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَۙ﴿3﴾

    1. وَّاَرْسَلَاور بھیجے
    2. عَلَيْهِمْان پر
    3. طَيْرًاپرندے
    4. اَبَابِيْلَجھنڈ کے جھنڈ
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ان پر جھنڈ کی جھنڈ چڑیاں نہ بھیجیں ! !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ابرہہ کی فوجوں کی بربادی کی تعبیر بطریق کنایہ: یہ ابرہہ کی فوجوں کی بربادی، پامالی اور بے کسی و بے بسی سے کنایہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس طرح ان کو پامال کیا کہ کوئی ان کی لاشوں کو اٹھانے والا نہ رہا۔ وہ میدان میں پڑی رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر گوشت خوار چڑیاں بھیجیں جنھوں نے ان کا گوشت نوچا، کھایا اور وادئ مکہ کو ان کے تعفن سے پاک کیا۔ دشمن پر چڑیوں کو مسلط کرنا اس کی شکست و پامالی کی تعبیر کے لیے معروف کنایہ ہے۔ عرب شعراء نے اپنے فخریوں میں یہاں تک کہا ہے کہ جب ہماری فوجیں دشمن پر حملہ آور ہوتی ہیں تو گوشت خوار چڑیاں ہمارے ہم رکاب ہوتی ہیں، انھیں اندازہ ہو جاتا ہے کہ ہمارے حملہ سے دشمن پامال ہوں گے اور ان کو پیٹ بھر ان کا گوشت کھانے کا موقع ملے گا۔ تورات میں حضرت داؤد اور جالوت کا جو واقعہ بیان ہوا ہے اس میں بھی ہے کہ جب حضرت داؤد اس سے مقابلہ کرنے پر بضد ہوئے اور اس کی مغرورانہ باتوں کا جواب ترکی بہ ترکی دیا تو اس نے جھلا کر کہا کہ ’’اچھا آ، آج تیرا گوشت چیلوں اور کوّوں کو کھلاتا ہوں۔‘‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کو اس پر غلبہ دیا اور خود اسی کے گوشت کو چیلوں اور گِدھوں نے کھایا۔ ابابیل: ’اَبَابِیْلَ‘ سے ابابیلیں مراد نہیں ہیں، جیسا کہ عام طور پر لوگوں نے سمجھا ہے۔ یہ لفظ گھوڑوں کی جماعت اور چڑیوں کے جھنڈ کے لیے آتا ہے۔ اس کے واحد اور جمع ہونے کے باب میں اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ اس کی واحد نہیں ہے۔ بعض اس کو ’اِبَّالَۃٌ‘ کی جمع بتاتے ہیں۔ یہاں یہ ان چڑیوں کے لیے آیا ہے جو مقتولوں کی لاشیں کھانے کے لیے جمع ہو جاتی ہیں۔ ’اَرْسَلَ عَلَیْھِمْ‘ میں مسلط کر دینے کا مضمون ہے جس سے اصحاب فیل کی کس مپرسی کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ کوئی ان کی لاشوں کو ٹھکانے لگانے والا نہیں تھا۔ اس وجہ سے چڑیوں کو پوری آزادی سے ان پر تصرف کرنے کا موقع ملا۔