تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 105. Al-Fil · Ayah 4
تَرْمِیْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ۪ۙ﴿4﴾
- تَرْمِيْهِمْپھینکتے تھے
- بِحِجَارَةٍکنکریاں
- مِّنْسے
- سِجِّيْلٍسنگ گل
Translation · Tadabbur-e-Quran
تم ان کو مارتے تھے سنگ گل کے قسم کے پتھروں سے ،
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
مفسرین کی ایک عام غلط فہمی: اب آخر میں بتایا کہ اس لشکر جرار کے تباہ کرنے میں کتنا حصہ عربوں کا ہے اور کتنا قدرت کا۔ فرمایا کہ تم ان کو پتھروں اور کنکروں سے مار رہے تھے، پس خدا نے ان کو کھانے کے بھس کی طرح پامال کر دیا۔ یعنی اس لشکر جرار کے مقابلے میں تمہاری یہ مدافعت نہایت کمزور تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی تائید غیبی سے تمہاری یہی کمزور مدافعت اتنی مؤثر بنا دی کہ وہ کھانے کے بھس کی طرح پامال ہو کر رہ گئے۔
ہمارے مفسرین تو عام طور پر کہتے ہیں کہ قریش نے ابرہہ کا کوئی مقابلہ نہیں کیا بلکہ ان کے سردار، عبدالمطلب قوم کو لے کر پہاڑوں میں جا چھپے اور خانہ کعبہ کو خدا کے سپرد کر دیا کہ جس کا یہ گھر ہے وہ خود اس کی حفاظت کر لے گا۔ ان کے نزدیک ’تَرْمِیْ‘ کا فاعل ’طَیْرًا اَبَابِیْلَ‘ ہے۔ یعنی چڑیوں نے ابرہہ کی فوجوں پر سنگ باری کر کے ان کو پامال کر دیا۔ اگرچہ اس قول پر تمام مفسرین متفق ہیں لیکن گوناگوں وجوہ سے یہ بالکل غلط ہے جن میں سے بعض کی طرف ہم اشارہ کریں گے:
۱۔ اس میں شبہ نہیں کہ اس موقع پر قریش پہاڑوں میں چلے گئے تھے۔ لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ مدافعت سے کلیۃً دست بردار ہو کر پہاڑوں میں جا چھپے تھے، بلکہ ابرہہ کی عظیم فوج کے مقابل میں مدافعت کی واحد ممکن شکل جو وہ اختیار کر سکتے تھے یہی تھی اس وجہ سے انھوں نے یہی اختیار کی اور اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے مطابق کہ بندہ جب اپنے امکان کے حد تک اپنا فرض ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اس کی مدد فرماتا ہے، اس نے قریش کی مدد فرمائی۔
اوپر آپ پڑھ آئے ہیں کہ ابرہہ کا لشکر ساٹھ ہزار تھا اور اس کے ساتھ ہاتھیوں کا ایک دستہ بھی تھا۔ اتنی بڑی فوج کا مقابلہ میدان میں نکل کر اور صف بندی کرکے، تلواروں کے ذریعہ سے کرنا، قریش کے لیے ناممکن تھا۔ وہ اگر اپنا پورا زور و اثر استعمال کرتے تو بھی شاید دس بیس ہزار سے زیادہ آدمی اکٹھے نہ کر پاتے، اس وجہ سے انھوں نے اپنے لیے بہترین جنگی پالیسی یہی خیال کی کہ میدان میں نکل کر مقابلہ کرنے کے بجائے پہاڑوں میں محفوظ ہو جائیں اور وہاں سے گوریلوں کے طریقہ پر، جس حد تک ان کے اقدام میں مزاحمت پیدا کر سکتے ہیں، کریں۔ یہ اسی طرح کی ایک تدبیر تھی جس طرح کی تدبیر مسلمانوں نے غزوۂ احزاب کے موقع پر اختیار کی۔ یعنی مدینہ کے ارد گرد خندق کھودی اور اس کے اندر محفوظ ہو کر دشمن کا مقابلہ کیا۔
۲۔ جن لوگوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ قریش نے کوئی مزاحمت نہیں کی، ان کا دعویٰ واقعات کے بھی خلاف ہے اور قریش کی حمیت و غیرت کے بھی۔ تمام مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ ابرہہ کی فوجیں جن راستوں سے گزریں ان کے عرب قبائل نے ان کو مزاحمت کے بغیر گزرنے نہیں دیا بلکہ یہ جانتے ہوئے کہ اس دل بادل فوج سے ان کے لیے عہدہ برآ ہونا ممکن نہیں ہے انھوں نے مزاحمت کر کے شکست کھانا تو گوارا کیا لیکن یہ ننگ نہیں گوارا کیا کہ دشمن خانہ کعبہ پر حملہ کرنے کے لیے ان کے حدود کے اندر سے، آسانی سے، گزر جائے۔ صرف ایک قبیلہ، بنو ثقیف نے اہل عرب کی اس عام حمیت کے خلاف روش اختیار کی۔ اس کے بعد ایک فرد، ابورغال نے ابرہہ کی فوج کو مکہ کا راستہ بتایا لیکن اس قبیلہ کو اس بے حمیتی کی سزا یہ ملی کہ پورے عرب میں اس کی آبرو مٹ گئی اور ابورغال کا حشر یہ ہوا کہ اس کی قبر پر اہل عرب ایک مدت تک لعنت کے طور پر سنگ باری کرتے رہے۔ غور کیجیے کہ جب چھوٹے چھوٹے قبائل نے اس بے جگری سے دشمن کا مقابلہ کیا تو قریش اس کے آگے اس بے حمیتی کا اظہار کس طرح کرتے کہ اس کو بے روک ٹوک اللہ کے گھر پر قابض ہو جانے دیتے۔ اور اگر انھوں نے واقعی بغیر کسی مزاحمت کے اس کو راہ دے دی تھی تو ابورغال نے کیا گناہ کیا تھا کہ اس کی قبر پر وہ سنگ باری کرتے رہے۔ بہرحال یہ بات کسی طرح صحیح نہیں ہے کہ وہ بغیر کوئی مزاحمت کیے پہاڑوں میں جا چھپے۔ قریش کی غیرت و حمیت ہمیشہ مشہور رہی ہے۔ انھوں نے کبھی معمولی باتوں میں بھی کوئی ایسی کمزوری نہیں دکھائی جس سے ان کی غیرت و حمیت پر حرف آئے، تو وہ بیت اللہ کے معاملہ میں ایسی بے حمیتی کا ثبوت کیونکر دے سکتے تھے جس پر ان کی دینی و دنیوی دونوں سیادتوں کا انحصار تھا۔ بیت اللہ کے بعد ان کے پاس بچ کیا رہتا تھا جس کے لیے وہ پہاڑوں میں چھپ کر زندگی بچانے کی تمنا کرتے!
۳۔ جن لوگوں نے قریش پر اس بے حمیتی کا الزام لگایا ہے ان کے نزدیک اس سورہ کا درس گویا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس گھر کا محافظ خود ہے۔ اس کے پاسبان، دشمن سے ڈر کر، اگر اس کو چھوڑ کے بھاگ جائیں جب بھی خدا اس کی حفاظت کرے گا۔ چنانچہ جب قریش ابرہہ کی فوجوں سے ڈر کر پہاڑوں میں جا چھپے تو اللہ تعالیٰ نے ابابیلوں کے ذریعہ سے ان پر پتھراؤ کر کے ان کو بھس کی طرح پامال کر دیا۔ اگر فی الواقع اس سورہ کا درس یہی ہے تو یہ درس اللہ تعالیٰ کی سنت کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قاعدہ یہ نہیں ہے کہ بندے اپنے گھروں میں بیٹھے بیٹھے بنی اسرائیل کی طرح یہ کہیں کہ
’فَاذْھَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ھٰھُنَا قٰعِدُوْنَ‘ (المائدہ ۵: ۲۴)
(تم اور تمہارا خداوند جاؤ لڑو، ہم یہاں بیٹھتے ہیں)
اور خدا ان کے لیے میدان جیت کر ان کے لیے تخت بچھا دے اور یہ اس پر براجمان ہو جائیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ایسا کرنے والا ہوتا تو بنی اسرائیل کے ساتھ اس نے ایسا کیوں نہیں کیا؟ ان کو تو اس نے اس کی سزا یہ دی کہ چالیس سال کے لیے ان کو صحرا ہی میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ کی سنت جو قرآن سے واضح ہوتی ہے وہ تو یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کی مدد فرماتا ہے جو اپنا فرض ادا کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اگرچہ ان کی تعداد کتنی ہی کم اور ان کے وسائل کتنے ہی محدوود ہوں۔ چنانچہ قرآن نے بیت اللہ سے متعلق سورۂ بقرہ، سورۂ توبہ، سورۂ حج وغیرہ میں ہماری جو ذمہ داریاں بتائی ہیں وہ یہی ہیں کہ ہم اس کی آزادی و حفاظت کے لیے جو کچھ ہمارے بس میں ہے وہ کریں، اللہ ہماری مدد کرے گا۔ یہ کہیں نہیں کہا ہے کہ تم کچھ کرو یا نہ کرو ہماری ابابیلیں اس کی حفاظت کر لیں گی۔ بہرحال قریش نے، جو کچھ ان کے امکان میں تھا، وہ کیا۔ اگرچہ ان کی مدافعت، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، کمزور تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی حاصب کے ذریعہ سے ان کی اس کمزور مدافعت کے اندر اتنی قوت پیدا کر دی کہ دشمن کھانے کے بھس کی طرح پامال ہو گئے۔ نبی ﷺ نے بدر کے موقع پر صرف مٹھی بھر خاک قریش کے لشکر کی طرف پھینکی تھی لیکن وہی مٹھی بھر خاک ان کے لیے طوفان بن گئی اور اللہ تعالیٰ نے اس کی اہمیت یوں واضح فرمائی کہ
’وَمَارَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی‘ (الانفال ۸: ۱۷)
(اور وہ کنکریاں دشمنوں پر تم نے نہیں پھینکیں تھیں بلکہ اللہ نے پھینکیں)۔
۴۔ عبدالمطلب کا اپنے رب سے استغاثہ: عبدالمطلب نے جبل حراء پر چڑھ کر رب کعبہ سے جو استغاثہ کیا اس سے یہ بات نہیں نکلتی کہ وہ بیت اللہ کی مدافعت سے بالکل دست بردار ہو کر اور سارا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالہ کر کے، خود الگ ہو رہے ہیں بلکہ اس میں انھوں نے بعض فقرے تو ایسے کہے ہیں جن کے اندر ناز اور اعتماد کی وہ شان پائی جاتی ہے جو آنحضرت ﷺ کی اس دعا میں ہے جو آپ نے غزوۂ بدر کے موقع پر عین میدان جنگ میں فرمائی ہے۔ اس طرح کی دعا میدان جنگ چھوڑ کر بھاگنے والا نہیں کرتا بلکہ وہ شخص کرتا ہے جو اگرچہ حالات کی نزاکت سے پریشان تو ہوتا ہے لیکن اپنے رب کی قدرت سے مایوس نہیں ہوتا۔ اس دعا کو جن لوگوں نے فرار کے مفہوم میں لیا ہے انھوں نے نہایت بدذوقی کا ثبوت دیا ہے۔ میں تو جب اس کو پڑھتا ہوں مجھے اس کے اندر ایک رجز کی شان معلوم ہوتی ہے اور اس سے ایمان کی مہک آتی ہے۔ آپ بھی ذرا اپنے ذوق کو بیدار کر کے یہ اشعار پڑھیے۔ ان میں کتنی حرارت اور اللہ تعالیٰ کی غیرت کو جوش میں لانے والی کتنی مؤثر اپیل ہے!
اللھم ان المرء یمنع رحلہ
فامنع رحالک
(اے خدا، آدمی اپنے اہل و عیال کی حفاظت کرتا ہے تو بھی اپنے لوگوں کی حفاظت کر)
لا یغلِبنّ صلیبھم
ومحالھم ابدا محالک
(ان کی صلیب اور ان کی قوت تیری قوت پر ہرگز غالب نہ ہونے پائے)
ان کنت تارکھم وقبلتنا
فامر ما بدا لک
(اگر تو ہمارے قبلہ کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑنا چاہتا ہے تو کر جو تیری مرضی!)
کیا اس غیرت و حمیت کے شخص کے بارے میں یہ گمان کیا جا سکتا ہے کہ وہ میدان چھوڑ کر بھاگ جائے گا۔
بہرحال یہ رائے ہمارے نزدیک بالکل بے بنیاد ہے کہ قریش میدان چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔ چڑیوں نے سنگ باری کر کے ابرہہ کی فوجوں کو پامال کیا۔ ’تَرْمِیْ‘ کے فاعل، ہمارے نزدیک قریش ہیں جو ’اَلَمْ تَرَ‘ کے مخاطب ہیں۔ فعل ’تَرْمِیْ‘ چڑیوں کے لیے کسی طرح موزوں ہے بھی نہیں۔ چڑیاں اپنی چونچوں اور چنگلوں سے سنگ ریزے گرا تو سکتی ہیں لیکن اس کو ’رمی‘ نہیں کہہ سکتے۔ ’رمی‘ صرف اسی صورت میں ہو گی جب پھینکنے میں بازو یا فلاخن کا زور استعمال ہو یا ہوا کے تند و تیز تھپیڑے اس کے ساتھ ہوں۔ چنانچہ جو لوگ چڑیوں کی رمی کے قائل ہوئے ہیں انھیں بھی لفظ ’رمی‘ کھٹکا ہے۔ انھوں نے تکلف کر کے اس کی شکل یہ بیان کی ہے کہ چڑیاں مٹر کے دانوں کے برابر سنگ ریزے گراتی تھیں جو ہاتھیوں کے سواروں کے جسموں میں سے گزر کر ہاتھیوں کے جسموں میں گھس جاتے تھے۔ اس طرح انھوں نے چڑیوں کی چونچوں سے گرے ہوئے سنگ ریزوں کا مؤثر ہونا تو دکھا دیا لیکن یہ واقعہ ہے کہ اس صورت کو ’رمی‘ سے تعبیر کرنا کسی طرح موزوں نہیں ہے۔
’سجّیل‘: ’بِحِجَارَۃٍ مِّنْ سِجِّیْل‘۔ لفظ ’سِجِّیْلٌ‘ کی تحقیق اس کے محل میں ہو چکی ہے۔۱ یہ فارسی کے سنگ گل سے معرب ہے۔ اس کا ترجمہ اگر کنکر کیجیے تو میرے نزدیک یہ صحیح ہو گا۔ اوپر ہم اشارہ کر چکے ہیں کہ عربوں کی یہ مدافعت ایک کمزور مدافعت تھی۔ اصل مقابلہ تو اس صورت میں ہوتا جب کھلے میدان میں صف بندی کر کے تلواروں، نیزوں اور تیروں سے دوبدو جنگ ہوتی۔ اگر حریف کے پاس ہاتھی تھے تو ان کے پاس بھی کم از کم گھوڑے ہوتے لیکن اس طرح کی جنگ کا، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، امکان نہیں تھا اس وجہ سے قریش نے آخری چارۂ کار کے طور پر یہ راہ اختیار کی کہ جہاں داؤ لگ گیا پہاڑوں سے پتھراؤ کر کے دشمن کی راہ روکنے کی کوشش کی۔ ظاہر ہے کہ یہ مدافعت ایک کمزور مدافعت تھی اور اس کی اس کمزوری ہی کو واضح کرنے کے لیے قرآن نے ’بِحِجَارَۃٍ مِّنْ سِجِّیْل‘ کے الفاظ سے اس کی نوعیت واضح کر دی۔
_____
۱ ملاحظہ ہو تدبرقرآن۔ جلد سوم، صفحہ: ۴۰۷۔