Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 105. Al-Fil · Ayah 5

  1. فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ۠ع﴿5﴾

    1. فَجَعَلَهُمْپس ان کو کردیا
    2. كَعَصْفٍبھوسہ کی طرح
    3. مَّاْكُوْلٍکھائے ہوئے
Translation · Tadabbur-e-Quran
بالآخر ان کو اللہ نے کھائے ہوئے بھس کی طرح کردیا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت بیان فرمائی ہے کہ اگرچہ تمہاری مدافعت کمزور مدافعت تھی لیکن جب تم حوصلہ کر کے مدافعت کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی سنت کے مطابق تمہاری مدد کے لیے اپنی شان دکھائی اور ان کو کھانے کے بھس کی طرح پامال کر دیا۔ کسی شے کا نام اس کے انجام کے اعتبار سے رکھنا عربی زبان کا ایک معروف اسلوب ہے۔ ’کَعَصْفٍ مَّاْکُوْلٍ‘ اسی نوع کی ترکیب ہے۔ یہاں یہ بات نگاہ میں رہے کہ ’رمی‘ کی نسبت تو مخاطب کی طرف کی ہے لیکن ان کو کھانے کے بھس کی طرح کر دینا اللہ تعالیٰ نے اپنی شان بتائی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ابرہہ کے لشکر کو پامال کردینا تنہا عربوں کی سنگ باری کے بس کی بات نہ تھی اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی شان دکھائی اور یہ شان ان کی سنگ باری کے پردے میں دکھائی۔ ہم پیچھے بعض عینی شاہدوں کا یہ بیان نقل کر آئے ہیں کہ ابرہہ کی فوجوں پر حاصب بھی چلی تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حاصب اسی وقت چلی ہے جب عربوں نے وادئ محسر کے کنکروں سے ان پر پتھراؤ کیا۔ یاد ہو گا کہ غزوۂ خندق کے موقع پر بھی ہوا نے مسلمانوں کی مدد کی تھی اسی طرح کی مدد اس موقع پر بھی نمودار ہوئی۔ ہم پیچھے یہ اشارہ کر آئے ہیں کہ ابرہہ کی فوجوں کے مقابل میں قریش نے اس سے ملتی جلتی تدبیر اختیار کی جو مسلمانوں نے احزاب کے مقابل میں اختیار کی۔ ایک سوال اور اس کا جواب: اب صرف ایک سوال قابل غور رہ جاتا ہے۔ وہ یہ کہ اگر واقعہ یہ ہے کہ ابرہہ کی فوجوں کی پامالی چڑیوں کی سنگ باری سے نہیں بلکہ عربوں کی سنگ باری اور حاصب کے ذریعہ سے ہوئی، چڑیاں صرف لاشوں کو کھانے آئی تھیں، تو ترتیب کلام یوں ہونی چاہیے تھی کہ ’تَرْمِیْھِمْ بِحِجَارَۃٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ فَجَعَلَھُمْ کَعَصْفٍ مَّاْکُوْلٍ وَّاَرْسَلَ عَلَیْھِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَ‘ یہ سوال جن لوگوں کے ذہن میں ہوا ہے ہمارے نزدیک وہ عربیت کے ایک خاص اسلوب بلاغت سے نا آشنا ہیں۔ وہ یہ کہ بعض مرتبہ کسی نتیجۂ خیر یا شر کی مبادرت ظاہر کرنے کے لیے اس کو فعل کی پوری تفصیل سے پہلے ہی ظاہر کر دیتے ہیں۔ دعاؤں کی قبولیت کی مبادرت ظاہر کرنے کے لیے قرآن نے یہ اسلوب جگہ جگہ اختیار کیا ہے اور ہم اس کی وضاحت کرتے آ رہے ہیں۔ یہاں سورۂ نوح سے ہم ایک مثال پیش کرتے ہیں: قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ اِنَّھُمْ عَصَوْنِیْ وَاتَّبَعُوْا مَنْ لَّمْ یَزِدْہُ مَالُہٗ وَوَلَدُہٗ اِلَّا خَسَارًا وَمَکَرُوْا مَکْرًا کُبَّارًا وَقَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِھَتَکُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا وَّلَا یَغُوْثَ وَیَعُوْقَ وَنَسْرًَا وَقَدْ اَضَلُّوْا کَثِیْرًا وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا ضَلٰلًا مِمَّا خَطِیْٓئٰتِھِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا فَلَمْ یَجِدُوْا لَہُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَنْصَارًا وَقَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ دَیَّارًا اِنَّکَ اِنْ تَذَرْھُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَکَ وَلَا یَلِدُوْٓا اِلَّا فَاجِرًا کَفَّارًا.(نوح ۷۱: ۲۱-۲۷) ’’نوح نے فریاد کی، اے میرے رب! انھوں نے میری نافرمانی کر دی اور ان لوگوں کی پیروی کی جن کے مال اور اولاد نے ان کے خسارے ہی میں اضافہ کیا اور انھوں نے بڑی بڑی چالیں چلیں اور اپنی قوم کو ورغلایا کہ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑیو اور نہ چھوڑیو وَدّ کو اور نہ سُوَاع کو اور نہ یغوث، یعوق اور نسر کو (اور اے میرے رب) انھوں نے ایک خلق کثیر کو گمراہ کر رکھا ہے اور تو ان ظالموں کی گمراہی ہی میں اب اضافہ کر، پس وہ اپنے گناہوں کی پاداش میں پانی میں غرق اور آگ میں داخل کیے گئے اور اللہ کے مقابل میں وہ اپنے لیے کوئی مددگار نہ پا سکے اور نوح نے کہا، اے میرے رب! تو ان کافروں میں سے زمین پر ایک متنفس بھی نہ چھوڑ۔ اگر تو ان کو چھوڑے رکھے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور صرف نابکاروں اور ناشکروں ہی کو جنم دیں گے۔‘‘ ان آیات پر تدبر کی نظر ڈالیے تو معلوم ہو گا کہ حضرت نوح علیہ السلام کی دعا کے پہلے ہی فقرے کے بعد ان کی قوم کا انجام رکھ دیا گیا ہے اور ان کی باقی دعا مؤخر کر دی گئی ہے حالانکہ انجام بہرحال پوری دعا کے بعد ہی سامنے آیا ہو گا۔ اس کی وجہ اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ قبولیت دعا کی مبادرت ظاہر کرنے کے لیے ترتیب کلام میں تقدیم یا تاخیر کر دی گئی! بالکل اسی طرح اس سورہ میں، ابرہہ کی فوجوں کا انجام ظاہر کرنے کے لیے ان پر چڑیوں کے بھیجے جانے کا ذکر پہلے کیا اور ان کے پامال ہونے کا ذکر اس کے بعد کیا۔ سورہ کا مزاج چونکہ قریش پر امتنان و احسان کا تھا اس وجہ سے بلاغت کا تقاضا یہی تھا کہ دشمن کی بدانجامی کی تصویر پہلے سامنے آئے۔ استاذ امام حمید الدین فراہی علیہ الرحمۃ نے اس سورہ کی تفسیر نہایت مفصل لکھی ہے۔ میں نے بقصد اختصار ان کی کتاب کی بعض باتیں اس میں نہیں لی ہیں حالانکہ وہ تفسیر کے پہلو سے نہایت اہمیت رکھنے والی ہیں۔ مولانا نے حج کے سلسلہ میں ’رمی جمرات‘ کی سنت کو اسی ’رمی‘ کی یادگار قرار دیا ہے اور بعض دوسری تحقیقات بھی نہایت اہم بیان فرمائی ہیں۔ اس کتاب کے قارئین کو میرا مشورہ یہ ہے کہ وہ مولانا کی تفسیر بھی ضرور پڑھیں۔ اس سے ان کے زاویۂ نگاہ میں وسعت بھی پیدا ہو گی اور وہ فرق بھی سامنے آئے گا جو ان کے اور میرے نقطۂ نظر میں، بہت باریک سا، ہے۔