تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 106. Quraish · Ayah 2
اٖلٰفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّیْفِۚ﴿2﴾
- اٖلٰفِهِمْان کا مانوس کرنا
- رِحْلَةَسفر
- الشِّتَآءِسردی
- وَاور
- الصَّيْفِگرمی
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس وابستگی کے سبب سے جو سردی اور گرمی کے سفر کے ساتھ ان کو ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اجمال کے بعد تفصیل: یہ سابق ’اِیْلَاف‘ سے بدل ہے۔ پہلے بات مجمل طور پر کہہ کر ناتمام چھوڑ دی ہے تاکہ سننے والوں میں سوال پیدا ہو جائے کہ قریش کی کون سی وابستگی، کس پہلو سے زیربحث ہے؟ یہ اسلوب کلام قرآن میں بعض دوسرے مقامات میں بھی اختیار کیا گیا ہے۔ اس کا پہلا فائدہ تو یہ ہوتا ہے کہ مخاطب بات کو سننے کے لیے بیدار ہو جاتا ہے اور دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی نوعیت اجمال کے بعد گویا تفصیل کی ہوتی ہے اس وجہ سے بات اچھی طرح ذہن نشین ہو جاتی ہے۔
قریش کے تجارتی سفروں کی نوعیت: فرمایا کہ یہاں خاص طور پر قریش کی جس وابستگی کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے وہ ان کی وہ وابستگی ہے جو ان کو اپنے گرمی و سردی کے دونوں تجارتی سفروں کے ساتھ ہے۔ یہ واضح رہے کہ سردیوں میں قریش کے تجارتی قافلے یمن کا سفر کرتے اور گرمیوں میں شام و فلسطین کا۔ ان تجارتی قافلوں کے ساتھ پوری قوم کا مال اور سرمایہ ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں بہت سے تاجر ایسے ہوتے ہیں جو دوسروں کے ایجنٹ کے طور پر کام کرتے اور ان کے واسطہ سے وہ لوگ بھی اس نفع بخش تجارت میں حصہ دار بن جاتے جو خود یہ کام نہیں کر سکتے تھے۔ یہی سفر درحقیقت اہل مکہ کی تمام دولت و ثروت کا ذریعہ تھے۔ اس طرح ان کی تمام قابل فروخت اشیاء دوسری منڈیوں میں پہنچتیں اور دوسرے بازاروں کی ضروری اشیاء ان کے صارفین کو حاصل ہوتیں۔ یہ تجارتی گزرگاہیں قریش کے لیے رگ جان کی حیثیت رکھتی تھیں۔ اگرچہ یہ بین الاقوامی گزرگاہیں تھیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ صحیح معنوں میں محفوظ صرف قریش کے لیے تھیں، دوسروں کو ان میں وہ تحفظ نہیں حاصل تھا جو قریش کو حاصل تھا۔ دوسروں کے قافلے ان میں علانیہ لٹ جاتے، ان کو قدم قدم پر راہ میں واقع قبیلوں سے اجازت حاصل کرنی پڑتی اور اس کے لیے بھاری بھاری معاوضے ادا کرنے پڑتے، لیکن قریش کے لیے کوئی خطرہ نہیں تھا۔ وہ اپنے تمام سامان تجارت کے ساتھ بے خطر گزرتے اور کسی کا ان سے تعرض کرنا تو درکنار، راہ کے قبائل اپنے اپنے حدود میں ان کے لیے بدرقہ فراہم کرتے کہ یہ لوگ بیت اللہ کے خادم، اس کے متولی اور حاجیوں کی خدمت کرنے والے ہیں۔ اسی نسبت کو قرآن نے یہاں یاد دلایا ہے کہ اپنی دنیوی کامیابیوں کے نشہ میں اس گھر کے رب کو نہ بھولو، تمہاری دنیوی کامیابیاں بھی اسی گھر کے طفیل سے ہیں اور اسی وقت تک تم ان کے حق دار ہو جب تک تم اس گھر کے وفادار ہو۔
بیت اللہ کے ساتھ قریش کے تعلق کی تاریخ: قریش کے متعلق یہ بات یاد رکھیے کہ بیت اللہ کے ساتھ ان کے تعلق کی نوعیت یہ نہیں ہے کہ باہر سے کوئی قبیلہ آیا ہو، وہ مکہ میں بسا ہو اور پھر اس گھر کا متولی بن بیٹھا ہو بلکہ جس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس گھر کو تعمیر کیا اسی وقت حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ان کی ذریت کو اس گھر کے پاس بسایا تاکہ یہ اس مشن کو پورا کریں جو اس گھر کے ساتھ وابستہ ہے اور اسی وقت ان کے لیے امن اور رزق کی دعا کی جس کی برکات کا ذکر سابق سورہ میں بھی ہوا اور اس سورہ میں بھی آ رہا ہے۔ گویا قریش کو ان کی تاریخ یاد دلائی جا رہی ہے کہ اس گھر کے ساتھ ان کا تعلق اتفاقی نہیں بلکہ ایک خاص مشن اور مقصد پر مبنی اور شرائط کے ساتھ مشروط ہے جس کو وفاداری کے ساتھ نباہنے ہی میں ان کی دنیا اور آخرت کی فلاح ہے۔ اگر وہ اس کو بھول بیٹھے تو سب کچھ کھو بیٹھیں گے۔ سورۂ ابراہیم میں اس حقیقت کی یاددہانی یوں فرمائی گئی ہے:
وَاِذْ قَالَ اِبْرٰھِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّاجْنُبْنِیْ وَبَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ۵ رَبِّ اِنَّھُنَّ اَضْلَلْنَ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّہ مِنِّیْ وَمَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّکَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ہ رَبَّنَآ اِنِّیْٓ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَھْوِیْٓ اِلَیْہِمْ وَارْزُقْھُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّھُمْ یَشْکُرُوْنَ.(ابراہیم ۱۴: ۳۵-۳۷)
’’اور یاد کرو جب کہ ابراہیم نے دعا کی: اے میرے رب! اس سرزمین کو امن کی سرزمین بنا اور مجھ کو اور میرے بیٹوں کو اس بات سے محفوظ رکھ کہ ہم بتوں کو پوجیں؛ اے میرے رب! ان بتوں نے لوگوں میں سے ایک خلق کثیر کو گمراہ کر رکھا ہے۔ پس جو میری پیروی کریں وہ تو مجھ سے ہیں اور جو میری نافرمانی کریں تو تو غفور رّحیم ہے۔ اے ہمارے رب! میں نے اپنی ذریت میں سے کچھ کو ایک بن کھیتی کی وادی میں، تیرے محترم گھر کے پاس، بسایا ہے تاکہ وہ نماز کا اہتمام کریں تو تو لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کر اور ان کو پھلوں کی روزی دے تاکہ وہ تیرے شکرگزار رہیں۔‘‘
ان آیات سے واضح ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ان کی ذریت کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ کے جوار میں جو بسایا تو ان مقاصد کی تکمیل کے لیے بسایا جو اس گھر کی تعمیر سے مدنظر تھے۔ اسی مقصد کی خاطر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کے لیے امن و رزق اور مرجعیت خلق کی دعا فرمائی جو قبول ہوئی اور ہر دور میں ان کو یہ نعمتیں حاصل رہیں۔ اسی چیز کی یہاں قریش کو یاددہانی فرمائی ہے کہ اس گھر کے ساتھ اپنے اس تعلق کو نہ بھولو، آج بھی تمہیں جو مرجعیت خلق حاصل ہے اور جس سے اپنے تجارتی سفروں میں فائدہ اٹھا رہے ہو اسی گھر کی برکت سے ہے۔ یہ انتہائی ناسپاسی ہو گی کہ اس کے تعلق سے تمہیں جو دنیوی فوائد حاصل ہیں ان سے تو بہرہ مند رہو اور اس کے جو حقوق و فرائض تم پر عائد ہوتے ہیں ان کو یکسر فراموش کر دو۔ یہ گھر خدائے واحد کی بندگی کے لیے تعمیر ہوا۔ اس کے مقصد تعمیر میں یہ بات شامل ہے کہ بتوں کی پرستش کی لعنت سے خلق کو بچایا جائے۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسی وجہ سے اس کو الگ تھلگ ایک وادی غیر ذی زرع میں بنایا لیکن تم نے اس کے کونے کونے میں بتوں کو لا بسایا یہاں تک کہ اب خدا تو اس گھر میں بالکل اجنبی ہو کے رہ گیا ہے البتہ اصنام کی خدائی اس کے ہر گوشہ پر قائم ہے۔