Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 106. Quraish · Ayah 4

  1. الَّذِیْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ١ۙ۬ وَّ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ۠ع﴿4﴾

    1. الَّذِيْٓجو، جس
    2. اَطْعَمَهُمْانہیں کھانا دیا
    3. مِّنْ جُوْعٍبھوک سے
    4. وَّاٰمَنَهُمْاور انہیں امن دیا
    5. مِّنْ خَوْفٍخوف سے، میں
Translation · Tadabbur-e-Quran
جس نے انہیں قحط کے سبب سے کھلایا اور خوف کے سبب سے امن بخشا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’جوع‘ اور ’خوف‘ کا خاص مفہوم: ’الَّذِیْٓ اَطْعَمَہُمْ مِّنْ جُوْعٍ۵ وَّاٰمَنَہُمْ مِّنْ خَوْفٍ‘۔ اس ٹکڑے میں ’مِنْ‘ میرے نزدیک سببیلہ ہے اور ’جوع‘ اور ’خوف‘ کے الفاظ خاص مفہوم میں استعمال ہوئے ہیں۔ ’جوع‘ سے مراد کسی علاقہ کی وہ خاص حالت ہے جو غذائی اشیاء و اجناس کی قلت یا نایابی سے پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح ’خوف‘ سے کسی علاقہ کی وہ حالت مراد ہے جو امن و امان کے فقدان اور جان و مال کے عدم تحفظ سے رونما ہوتی ہے۔ یہ دونوں لفظ قرآن مجید میں اس خاص مفہوم میں استعمال ہوئے ہیں۔ مثلاً: وَ لَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ.(البقرہ ۲: ۱۵۵) ’’اور ہم تمہارا امتحان کریں گے کسی قدر خوف، بھوک اور مالوں، جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔‘‘ یہ علاقہ، جس میں حرم واقع ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آمد اور بیت اللہ کی تعمیر سے پہلے امن سے بھی، جیسا کہ تفصیل گزری، محروم تھا اور غذائی وسائل سے بھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں نعمتوں سے اس علاقہ کو بیت اللہ کی برکت سے بہرہ ور کیا۔ قرآن میں اس کا ذکر جگہ جگہ قریش پر احسان کے طور پر ہوا ہے، مثلاً فرمایا ہے: اَوَلَمْ نُمَکِّنْ لَّھُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰیٓ اِلَیْہِ ثَمَرٰتُ کُلِّ شَیْءٍ.(القصص ۲۸: ۵۷) ’’کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان کے لیے تو ایک مامون حرم برپا نہیں کیا جس کی طرف ہر قسم کی پیداواریں کھنچی چلی آ رہی ہیں۔‘‘ سورۂ عنکبوت میں فرمایا ہے: اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِہِمْ.(العنکبوت ۲۹: ۶۷) ’’کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان کے لیے تو ایک مامون حرم بنایا اور لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ان کے ارد گرد سے اچک لیے جاتے ہیں۔‘‘ یہی بات جامع الفاظ میں اس سورہ میں فرمائی ہے کہ وہ اس گھر کے خداوند کی عبادت کریں جس نے غذائی اجناس کی نایابی کے سبب سے ان کے لیے غذائی ضروریات کا سامان کیا اور جان و مال کے عدم تحفظ کے سبب سے ان کے لیے امن و امان فراہم کیا۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ یہ چیزیں ان کو اس سرزمین میں حاصل ہیں تو اللہ تعالیٰ کی عنایت ہی سے حاصل ہیں۔ ان کے سبب سے استکبار میں مبتلا ہونے کے بجائے ان پر اپنے رب کا شکر واجب ہے اور شکر کا تقاضا رب کی بندگی اور اطاعت ہے نہ کہ نافرمانی و سرکشی۔