Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 107. Al-Maa'un · Ayah 1

  1. اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُكَذِّبُ بِالدِّیْنِؕ﴿1﴾

    1. اَرَءَيْتَکیا تم نے دیکھا
    2. الَّذِيْوہ جو کہ
    3. يُكَذِّبُجھٹلاتا ہے
    4. بِالدِّيْنِروز جزا وسزا کو
Translation · Tadabbur-e-Quran
دیکھا تم نے اس کو جو جزاء و سزا کو جھٹلاتا ہے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
مکہ کا قارون: ’اَرَءَ یْتَ‘ کے اسلوب خطاب پر اس کے محل میں گفتگو ہو چکی ہے۔ یہ اسلوب کسی کی طرف تعجب اور نفرت کے ساتھ متوجہ کرنے کے لیے آتا ہے۔ لفظ ’دِیْن‘ یہاں جزاء و سزا کے معنی میں ہے جس طرح ’مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ‘ (الفاتحہ) میں ہے۔ ’اَلَّذِیْ‘ سے کون مراد ہے؟ اس کی وضاحت یہاں نہیں ہے لیکن قرینہ دلیل ہے کہ اشارہ ابولہب کی طرف ہے۔ یہ ایک نہایت مال دار بخیل تھا جو حرم کے بیت المال (رفادہ) پر سورہ کے زمانۂ نزول میں، قابض تھا۔ آگے اس کے ذلیل کردار اور اس کی تباہی کا ذکر ایک مستقل سورہ۔۔۔ اللہب۔۔۔ میں آ رہا ہے۔ اس سورہ کی تفسیر سے واضح ہو جائے گا کہ اس نے رفادہ کو اپنی ذاتی جائداد بنا لیا تھا۔ اس کی آمدنی اپنے ذاتی مقاصد میں اس نے استعمال کی اور اس کی بدولت مکہ کا قارون بن گیا۔ یہاں اصل مقصود کلام تو اس کی شقاوت کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ جو شخص اتنا قسی القلب ہے کہ وہ یتیموں کو دھکے دیتا ہے اس سے کسی خیر کی توقع کس طرح کی جا سکتی ہے کہ وہ بیت اللہ کے کسی شعبہ کا ذمہ دار بن سکے لیکن بات ایسے اسلوب میں فرمائی ہے جس سے اس کا وہ باطن بھی سامنے آ گیا ہے جو اس کی اس قساوت کا اصل سبب ہے۔ آخرت کا منکر بے غرض انفاق نہیں کر سکتا: ’یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ‘ کی صفت اس کے باطن پر عکس ڈال رہی ہے کہ وہ آخرت اور جزاء و سزا کا جھٹلانے والا ہے۔ جو شخص آخرت کا منکر ہو گا اس کے اندر اس انفاق کا کوئی محرک سرے سے باقی رہ ہی نہیں جاتا جو خدا کی خوشنودی اور خالصۃً خدمت خلق اور ہمدردئ غرباء کے لیے ہو۔ ایسا شخص اگر کچھ خرچ کرتا ہے تو اپنی کسی ذاتی غرض یا ریاء و نمائش کے لیے کرتا ہے۔ بے غرض فیاضی صرف اسی شخص کے اندر پیدا ہوتی ہے جو آخرت کی جزاء و سزا پر صدق دل سے ایمان رکھتا ہے۔ سورۂ لیل میں اس حقیقت پر یوں روشنی ڈالی گئی ہے: فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰی وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی فَسَنُیَسِّرُہ لِلْیُسْرٰی وَاَمَّا مَنْم بَخِلَ وَاسْتَغْنٰی وَکَذَّبَ بِالْحُسْنٰی فَسَنُیَسِّرُہ لِلْعُسْرٰی.(الیل ۹۲: ۵-۱۰) ’’پس جس نے دیا اور ڈرا اور اچھے انجام کی اس نے تصدیق کی تو ہم اس کے لیے آسان راہ ہموار کریں گے اور جس نے بخل کیا اور بے پروا ہوا اور اس نے اچھے انجام کی تکذیب کی تو ہم اس کو دشوار راہ پر ڈالیں گے۔‘‘