تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 108. Al-Kawthar · Ayah 1
اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ﴿1﴾
- اِنَّآ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَبیشک ہم نے آپ کو عطا کیا۔ کوثر
Translation · Tadabbur-e-Quran
ہم نے تم کو بخشا کوثر
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
لفظ ’کوثر‘ کی تحقیق: ’کَوْثَرٌ‘ مبالغہ ہے ’کُثْرٌ‘ کا۔ ’کُثْرٌ‘ کے معنی دولت و ثروت کے ہیں۔ اس وجہ سے ’کَوْثَرٌ‘ کے معنی ہوں گے بڑی کثرت اور بڑی برکت و ثروت والا۔ یہ تسمیہ کے لیے بھی مستعمل ہے اور بطریق صفت بھی اس کا استعمال عام ہے۔
ازروئے عربیت یہاں ’کوثر‘ کی تین تاویلیں ممکن ہیں:
۱۔ یہ اسمیت کی طرف متنقل ہو کر کسی خاص چیز کے لیے مخصوص ہو گیا ہو جس کا نام اللہ تعالیٰ نے ’کَوْثَر‘ رکھا ہو۔
۲۔ اس کو کسی ایسے موصوف محذوف کی صفت مانیے جس کے ساتھ اس کو خصوصیت ہو۔ مثلاً کہتے ہیں ’مرد عَلٰی جرد‘ یعنی ’رجال مرد عَلٰی خیر جرد‘ (نوخیز جوان اصیل گھوڑوں پر) قرآن مجید میں ہے: ’وَالذّٰرِیٰتِ‘ (الذاریات ۵۱: ۱) یعنی ’والریاح الذّٰریٰت‘ (غبار اڑانے والی ہواؤں کی قسم)۔ ......... لیکن یہ اسی صورت میں جائز ہے جب صفت اس موصوف کے لیے اس طرح مخصوص ہو کہ یا تو صفت کا ذکر کرتے ہی موصوف ذہن میں آ جائے یا کوئی واضح قرینہ اس کی طرف اشارہ کر دے۔
۳۔ تیسری شکل یہ ہے کہ اس کو اسمائے صفت کی طرح اس کے عموم ہی پر باقی رکھیے۔ اس صورت میں اس سے ہر وہ چیز مراد لی جا سکے گی جس میں خیرکثیر ہو۔ البتہ قرائن کے اشارہ سے بعض افراد صفت پر اس کی دلالت زیادہ واضح ہو گی۔
’کوثر‘ کے باب میں سلف کے اقوال: لفظ کی لغوی تحقیق کے بعد اب یہ دیکھیے کہ سلف نے اس کے کیا معنی لیے ہیں۔
ابن جریر نے ’کوثر‘ کی تاویل میں تین قول نقل کیے ہیں:
۱۔ ’کوثر‘ جنت میں ایک نہر ہے۔ یہ حضرت عائشہ، حضرت ابن عباس، حضرت ابن عمر، حضرت انس، مجاہد اور ابوالعالیہ سے مروی ہے۔
۲۔ ’کوثر‘ سے مراد خیرکثیر ہے۔ یہ حضرت ابن عباس، حضرت سعید بن جبیر، عکرمہ، قتادہ، اور مجاہد سے مروی ہے۔
۳۔ ’کوثر‘ جنت میں ایک حوض ہے۔ یہ عطاء سے مروی ہے۔
ان میں سے پہلے اور تیسرے قول میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ حوض اسی نہر جاری کا ہو جس کا ذکر پہلے قول میں ہے۔ اس کے بعد صرف دو قول رہ جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس سے خاص چیز مراد لی جائے، مثلاً ’حوض محشر‘ یا ’نہر جنت‘۔ دوسرا یہ کہ اس کو عام رکھا جائے تاکہ ہر وہ چیز مراد لی جا سکے جس میں خیرکثیر ہو۔
استاذ امام مولانا فراہی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے حسن تدبر سے ان دونوں قولوں میں نہایت خوبی سے تطبیق پیدا کر کے دونوں کو ایک کر دیا ہے۔ انھوں نے سورہ کے موقع و محل اور اس کی اندرونی شہادتوں سے ’کوثر‘ سے مراد خانۂ کعبہ کو لیا ہے جو گوناگوں پہلوؤں سے خیرکثر کا خزانہ بھی ہے۔ اور اس دنیا میں اس نہر کوثر کا مجاز بھی ہے جو نبی کریم ﷺ کو جنت میں ملنے والی ہے۔ انھوں نے جن قرائن اور شہادتوں کی روشنی میں یہ بات فرمائی ہے اس کی وضاحت اپنی تفسیر سورۂ کوثر میں فرمائی ہے۔ وہ کوثر کے باب میں اقوال سلف کے درمیان تطبیق دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’پچھلی فصلوں میں معلوم ہو چکا ہے کہ سلف نے ’کوثر آخرت‘ کے بارے میں اختلاف نہیں کیا ہے بلکہ لفظ کی عمومیت اور صیغۂ ماضی کی رعایت سے وہ چیزیں بھی اس کے دائرہ میں داخل کر دی ہیں جو داخل ہو سکتی تھیں تاکہ لفظ عام، وسیع اور اپنی دلالت میں اسم بامسمّٰی (کوثر) ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کے مفسرین نے اس میں جستجو اور کاوش جائز سمجھی۔۱ اگر اس کے متعلق کچھ کہنا بدعت و ضلالت ہوتا تو وہ خاموش رہتے اور سلف بھی اس میں کسی قسم کا اختلاف نہ کرتے۔ اس وجہ سے میں اگر کسی ایسی تاویل کا سراغ لگاؤں جو ’زمین کے کوثر‘ (خانۂ کعبہ) اور ’آسمان کے کوثر‘ کو ایک کر دے تو جس طرح میں سلف کو اس کی تاویل میں ایک دوسرے کے خلاف نہیں پاتا اسی طرح اپنے کو بھی ان کے خلاف نہ سمجھوں گا البتہ یہ فرق ہو گا کہ انھوں نے اس کو عام قرار دے کر اس سے حوض یا نہر جنت سمجھی اور ان کے ماسوا ہر وہ چیز جس میں خیر کثیر ہو، مثلاً قرآن، حکمت، اسلام، نبوت جن کو حوض یا نہر سے کوئی مناسبت نہیں ہے، مگر میں اس سے وہ چیز مراد لوں گا جس کو حوض یا نہر سے نہایت واضح مشابہت ہے، جس کی کیفیات آنحضرت ﷺ نے بیان فرمائی ہیں اور جس کی حقیقت و روحانیت شب معراج میں آپ کے سامنے بے نقاب ہوئی۔‘‘
اس تمہید کے بعد مولانا علیہ الرحمۃ ان اشارات کی تفصیل کرتے ہیں جن سے ان کے قیاس کی تائید ہوتی ہے۔ وہ فرماتے ہیں:
۱۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے نفوس کے اندر خدا کی طرف ایک فطری شوق و رغبت موجود ہے نفس انسانی اس چیز سے محروم رہ کر تسلی نہیں پا سکتا۔ انسان کی یہی فطرت مذاہب و ادیان کے وجود کا باعث ہوئی ہے۔ .............. اب سونچو کہ اس فطری اشتیاق اور چاہ کی موزوں تعبیر پیاس کے سوا کس چیز سے ہو سکتی ہے؟ زبور میں یہی تعبیر باربار استعمال ہوئی ہے۔ اگر یہ صحیح ہے تو اس کو پیش نظر رکھ کر ان عاشقان الٰہی کے حال پرغور کرو جو حج کے ایام میں سراپا شوق و آرزو بن کر بیت اللہ کے اردگرد جمع ہوتے ہیں۔ کیا ان کی مثال ان خشک لب پیاسوں کی نہیں ہے جو شدید تشنگی سے مضطر ہو کر کسی حوض کے پاس جمع ہو گئے ہوں؟ اگر یہ مشابہت واضح ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ خانۂ کعبہ ان کے لیے اس دنیا میں اس حوض کوثر کی مثال ہے جس پر میدان حشر میں وہ یکجا ہوں گے۔
۲۔ آنحضرت ﷺ نے ہماری مسجدوں کو نہر سے تشبیہ دی ہے۔ صحیح بخاری میں ہے:
ارء یتم لو ان نھرًا بباب احدکم یغتسل فیہ کل یوم خمسا (الحدیث)
’’بھلا بتاؤ اگر تم میں سے کسی کے دروازہ پر ایک نہر ہو جس میں وہ روزانہ پانچ مرتبہ نہاتا ہو تو کیا اس کے اوپر کچھ میل کچیل باقی رہے گا۔‘‘
یہ تمثیل بھی اصلاً پانی ہی کی ہے۔ پانی جس طرح سیرابی کا ذریعہ ہے اسی طرح طہارت کا بھی ذریعہ ہے اور یہ معلوم ہے کہ ہماری تمام نمازوں کا سرچشمہ بیت اللہ ہے۔ اس اعتبار سے ہماری تمام مسجدیں گویا اس سرچشمہ کی نہریں ہیں جن سے ہم سیرابی اور پاکی حاصل کرتے ہیں۔
۳۔ خانہ کعبہ کے اجتماع سے جس طرح دوسری امتوں کے مقابل میں امت مسلمہ کی کثرت کا اظہار ہوتا ہے اسی طرح حوض کوثر پر اس کے اجتماع سے بھی، جیسا کہ روایات سے معلوم ہوتا ہے، اس کی کثرت کا اظہار ہو گا۔ اس کثرت کے ظاہر کرنے کی بہترین شکل یہی تھی کہ کسی ایک مخصوص مقام پر اس کا اجتماع ہو۔ اس اجتماع سے دوسری امتیں اندازہ کرتی ہیں کہ زائرین بیت اللہ کا یہ متلاطم سمندر اس بحر بیکراں کا صرف ایک قطرہ ہے جو پورے کرۂ ارض پر پھیلا ہوا ہے۔ پس جس طرح حوض کوثر پر اس کے اجتماع سے دوسرے انبیاء علیہم السلام کی امتوں پر اس کی کثرت واضح ہو گی اسی طرح موسم حج میں خانہ کعبہ کے پاس اس کا اجتماع اظہار کثرت کا ایک جلوہ ہے۔ غور کرو، لفظ ’کوثر‘ ان دونوں کی مطابقت کس خوبی سے واضح کر رہا ہے۔
۴۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ آپ اپنی امت کو حوض کوثر پر وضو کے آثار سے پہچانیں گے۔ یہ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ جو لوگ خلوص قلب کے ساتھ اس گھر کی زیارت کریں گے وہی لوگ آخرت میں اس حوض پر آئیں گے جو اس گھر کی حقیقت ہے۔
۵۔ فتح مکہ کو اللہ تعالیٰ نے امت کی کثرت کا سبب بنایا چنانچہ حج اکبر کے بعد لوگ گروہ در گروہ اسلام میں داخل ہوئے۔
۶۔ مسجد حرام کو اللہ تعالیٰ نے مبارک (سرچشمۂ خیر و برکت) کہا ہے:
اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًا وَّھُدًی لِّلْعٰلَمِیْنَ.(آل عمران ۳: ۹۶)
’’بلاشبہ خدا کا پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کے لیے تعمیر ہوا وہی ہے جو مکہ میں ہے، سرچشمۂ خیر و برکت اور لوگوں کے لیے نشان ہدایت۔‘‘
ہم نے اختصار کے خیال سے صرف چند اہم اشارات یہاں نقل کیے ہیں۔ جن لوگوں کو تفصیل مطلوب ہو وہ مولانا علیہ الرحمۃ کی تفسیر سورۂ کوثر کی مراجعت کریں۔
مولانا فراہی رحمۃ اللہ علیہ نے آگے چل کر اپنی تفسیر میں یہ بھی واضح فرمایا ہے کہ نہر کوثر درحقیقت کعبہ اور اس کے ماحول کی روحانی حقیقت ہے۔ ایک ضروری اقتباس اس سلسلے کا بھی ملاحظہ فرمائیے:
’’معراج میں جو نہر کوثر آنحضرت ﷺ کو مشاہدہ کرائی گئی اس کی صفات پر جو شخص بھی غور کرے گا اس پر یہ حقیقت منکشف ہو جائے گی کہ نہر کوثر درحقیقت کعبہ اور اس کے ماحول کی روحانی حقیقت ہے۔ اس کے متعلق مختلف طریقوں سے جو روایات منقول ہیں ان کی قدرمشترک یہ ہے کہ ’کوثر‘ ایک نہر ہے، اس کے کناروں پر مجوف موتیوں کے محل ہیں۔ اس کی زمین یاقوت و مرجان اور زبرجد کی ہے۔ اس میں ظروف ہیں جو آسمان کے ستاروں کے مانند ہیں، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ شیریں اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے۔ اس کی مٹی مشک سے زیادہ خوشبودار ہے۔ اس پر چڑیاں اترتی ہیں جن کی گردنیں قربانی کے جانوروں کی طرح ہیں۔‘‘
آگے مولانا علیہ الرحمۃ ان مشاہدات پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہوئے زمین کے حوض کوثر اور آسمان کے حوض کوثر کی مشابہت یوں واضح فرماتے ہیں:
’’اب ایک لمحہ توقف کر کے کعبہ اوراس کے ماحول کے مشاہدات پر غور کرو۔ جب تمام اکناف عالم سے عشاق الٰہی کے قافلے، عشق و محبت الٰہی کی پیاس بجھانے کے لیے اس چشمۂ خیر و برکت کے پاس اکٹھے ہوتے ہیں کیا ان کے احساس روحانی میں اس مقدس وادی کے سنگ ریزے یاقوت و زمرد سے زیادہ خوش جمال، اس کی مٹی مشک سے زیادہ خوشبودار اور اس کے ارد گرد حجاج کے خیمے مجوف موتیوں کے قبّوں سے زیادہ حسین و خوبصورت نہیں ہوتے! پھر حجاج اور ان کے ساتھ قربانی کے اونٹوں کی قطاروں پر بھی نظر ڈالو۔ کیا یہ ایک چشمہ کے کنارے لمبی گردن والی چڑیوں کا جھنڈ نہیں ہے!!‘‘
اس تفصیل سے واضح ہے کہ جنت کے حوض کوثر اور خانہ کعبہ میں نسبت حقیقت اور مجاز کی ہے۔ یہی خانۂ کعبہ جنت میں حوض کوثر کی صورت میں ان لوگوں کو ملے گا جو اس پر پہنچنے کے شوق میں بیت اللہ کے حج کرتے رہے۔ سورہ کے زمانۂ نزول تک چونکہ حالات پردے میں تھے اس وجہ سے بات اشاروں میں فرمائی گئی ہے لیکن مقصد یہی ہے کہ آنحضرت ﷺ کو یہ بشارت دی جائے کہ اگرچہ آپ کے اعداء آپ کو اس گھر سے نکالنے کے درپے ہیں لیکن ہم نے یہ آپ کو بخش دیا اور یہ اس دنیا میں بھی آپ کے لیے خیر کثیر کا ضامن ہے اور آخرت کی نہر کوثر کا بھی ضامن ہے۔
_____
۱ یہ اشارہ امام رازی وغیرہ کے اقوال کی طرف ہے جن کا حوالہ مولانا فراہی نے اپنی تفسیر میں دیا ہے۔