تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 108. Al-Kawthar · Ayah 2
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ﴿2﴾
- فَصَلِّپس نماز پڑھو
- لِرَبِّكَاپنے رب کیلئے
- وَانْحَرْاور قربانی دو
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو اپنے خداوند ہی کی نماز پڑھو اور اسی کے لئے قربانی کرو۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اس ذمہ داری کا بیان جس کے ساتھ یہ عطیہ مشروط ہے: یہ اس ذمہ داری کا بیان ہے جس کے ساتھ یہ عطیہ مشروط ہے۔ ہر حق کے ساتھ ذمہ داری کا ہونا لازمی اور اس کے ادا کرنے ہی پر اس حق کے قیام و بقاء کا انحصار ہوتا ہے۔ کوئی حق بھی ذمہ داری کے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔ اوپر ہم اشارہ کر چکے ہیں کہ قریش کو اللہ تعالیٰ نے اس گھر کی تولیت نہایت اہم ذمہ داریوں کے ساتھ سونپی تھی جس میں سے اہتمام نماز اور انفاق (جس کی ایک معروف شکل بیت اللہ کے تعلق سے قربانی بھی ہے) کو خاص اہمیت حاصل تھی لیکن انھوں نے نماز اور قربانی دونوں ضائع کر دیں۔ نماز کے ضائع کرنے کی جو شکل ہوئی اس کی تفصیل اوپر گزر چکی۔ قربانی انھوں نے یوں ضائع کی کہ شرک میں مبتلا ہو جانے کے سبب سے ان کی قربانی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے نہیں رہ گئی بلکہ اس میں ان کے شرکاء و اصنام بھی شریک ہو گئے۔ یہاں جب اس عطیۂ گرامی کے نبی ﷺ کو بخشے جانے کا اعلان فرمایا تو ساتھ ہی اس گھر سے متعلق ان دو بڑی ذمہ داریوں کی یاددہانی بھی فرما دی جو اس کے مدعی متولیوں نے ضائع کر دی تھیں اور جن کے ضائع کرنے کے جرم ہی میں وہ اس منصب سے معزول کیے جانے کے مستحق قرار پائے۔
قربانی کے لیے یہاں ’نَحْرٌ‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو اونٹ کی قربانی کے لیے معروف ہے لیکن یہ اپنے عام استعمال میں دوسرے بہائم کی قربانی کے لیے بھی آتا ہے۔ یہاں خاص طور پر اس لفظ کے استعمال سے مقصود ابراہیمی قربانی کی طرف اشارہ کرنا ہے اس لیے کہ اونٹ کی قربانی ملت ابراہیم میں ایک محبوب قربانی تھی جس کو یہود نے اپنی بدعتوں کے تحت حرام قرار دے رکھا تھا۔ بعض لوگوں نے ’نَحْرٌ‘ کے معنی نماز میں سینہ پر ہاتھ باندھنے کے لیے ہیں، لیکن لفظ کے معنی اختیار کرنے میں موقع و محل کا لحاظ نہایت ضروری ہے۔ یہاں یہ معنی لینے کا کوئی محل نہیں ہے۔ نماز اور قربانی کے حکم کے لیے موزوں موقع اس وجہ سے پیدا ہوا ہے کہ لفظ ’کوثر‘ جیسا کہ وضاحت ہو چکی ہے، یہاں اپنے مجازی مفہوم یعنی خانۂ کعبہ کے لیے استعمال ہوا ہے۔
نماز کے ساتھ قرآن میں بالعموم انفاق یا زکوٰۃ کا حکم آیا ہے لیکن یہاں قربانی کا ذکر آیا ہے، اس کی وجہ ظاہر ہے کہ بیت اللہ جس طرح نماز کا مرکز ہے اسی طرح قربانی کا بھی مرکز ہے اور اس قربانی کا ایک خاص پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے غرباء و مساکین اور ضیوف الٰہی کی خدمت ہوتی ہے یعنی دوسرے روحانی مقاصد کے ساتھ ساتھ قربانی سے وہ مقصد بھی پورا ہوتا ہے جو انفاق کا ہے۔