Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 108. Al-Kawthar · Ayah 3

  1. اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۠ع﴿3﴾

    1. اِنَّ شَانِئَكَبیشک آپ کا دشمن
    2. هُوَوہ
    3. الْاَبْتَرُدم کٹا، نامراد
Translation · Tadabbur-e-Quran
تمہارا دشمن ہی منقطع ہونے والا ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قریش کے طعنوں کا جواب: یہ قریش کے لیڈروں کی ان طعن آمیز پیشین گوئیوں کا جواب ہے جو آنحضرت ﷺ کے مستقبل سے متعلق وہ کرتے رہتے تھے۔ آپ کو کوثر دنیا اور کوثر آخرت کی بشارت دینے اور اس کی ذمہ داریاں بتانے کے بعد فرمایا کہ تمہارے دشمن کہتے ہیں کہ تمہارا کوئی مستقبل نہیں ہے، تمہاری جڑ عنقریب کٹ جائے گی لیکن حقیقت یہ ہے کہ تم کو دنیا اور آخرت دونوں کی نہایت شان دار فیروز مندیاں حاصل ہونے والی ہیں البتہ تمہارے ان دشمنوں کی جڑ کٹ کے رہے گی۔ ’شَانِئٌ‘ کے معنی مخالف اور عدو کے ہیں اور ’ابترٌ‘ اس کو کہتے ہیں جس کے اخلاف میں کوئی اس کا نام لیوا نہ رہے۔ آنحضرت ﷺ کی دعوت کی راہ میں قریش نے اپنے جبر و ظلم کے زور سے مکہ میں تو کچھ رکاوٹیں پیدا کر رکھی تھیں لیکن اطراف بالخصوص مدینہ میں بالتدریج دعوت کو فروغ حاصل ہو رہا تھا۔ اس سے قدرتی طور پر انھوں نے یہ محسوس کرنا شروع کر دیا کہ ان کے عوام اس صورت حال سے متاثر ہوں گے اور وہ ان وعیدوں کو سچ باور کرنے لگیں گے جو قرآن قریش کے لیڈروں بالخصوص حرم کے پروہتوں کو سنا رہا تھا۔ انھیں اندیشہ ہوا کہ اگر عوام کا اعتماد ان کی قیادت پر متزلزل ہو گیا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ بھی ہو گا کہ ان کا حسن ظن آنحضرت ﷺ کے ساتھ بڑھے گا اور وہ آپ کو مستقبل کے متوقع لیڈر کی حیثیت سے دیکھنے لگیں گے جس سے دعوت کی کامیابی کے امکانات بہت بڑھ جائیں گے۔ اس خطرے کے سدباب کے لیے انھوں نے آنحضرت ﷺ کے مستقبل سے متعلق مایوسی پیدا کرنے والی پیشین گوئیاں پھیلانی شروع کر دیں تاکہ لوگوں کے اندر یہ خیال زور نہ پکڑنے پائے کہ آپ کا اثر روز افزوں ترقی پذیر ہے۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے مختلف قسم کی باتیں بنائیں، ازانجملہ دعوت کی طرف انصار کے میلان کو دیکھ کر انھوں یہ بات بھی پھیلانی شروع کی کہ یہ شخص اپنے نئے دین کے سبب سے اپنی قوم اور اپنے مرکز دینی (بیت اللہ) سے کٹ چکا ہے اور اب اگر اس نے ہم سے کٹ کر اجنبیوں کے اندر یعنی انصار کے اندر پناہ لی تو اس کی مثال ایک شاخ بریدہ کی ہو گی جو درخت سے جدا ہو چکی ہے اور جس کا سوکھ جانا لازمی ہے۔ ہجرت سے متصل زمانہ میں یہ قیاس لوگ کرنے لگے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے اگر اپنی قوم اور سرزمین مکہ کو چھوڑا تو آپ انصار کے پاس جائیں گے اس لیے کہ وہی اس پوزیشن میں تھے کہ آپ کی حمایت و نصرت کر سکیں۔ چنانچہ اسی بنیاد پر قریش نے انصار کے بعض قبائل کو، جو آنحضرت ﷺ سے بیعت کرنے آئے تھے، یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اگر آپ لوگ ان کے ہاتھ پر بیعت کر رہے ہیں تو یہ سوچ کر بیعت کیجیے کہ یہ بیعت اسود و احمر سے جنگ کے لیے کر رہے ہیں۔ لیکن ان دھمکیوں کا انصار پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ آنحضرت ﷺ کے ساتھ ان کی عقیدت اور اسلام کے ساتھ ان کی محبت برابر بڑھتی گئی۔ یہ رنگ دیکھ کر اگرچہ قریش کو اپنے پروپیگنڈے میں کامیابی کی کوئی توقع باقی نہیں رہی لیکن وہ اس کے سوا اور کر بھی کیا سکتے تھے۔ وہ ہجرت سے پہلے بھی اپنے ہی عوام کو یہی باور کراتے رہے کہ انصار کی حمایت آنحضرت ﷺ کے لیے مبارک ثابت نہیں ہو گی اور ہجرت کے بعد بھی یہی باور کراتے رہے کہ اب ایک اجنبی ماحول میں العیاذ باللہ داعی اور دعوت دونوں کا خاتمہ ہو جائے گا، لیکن پیشین گوئی سچی قرآن کی ثابت ہوئی کہ آنحضرت ﷺ کے اعداء کی جڑ کٹ کے رہی اور حضرت سرور عالم ﷺ اس دنیا کے کوثر سے بھی فیض یاب ہوئے اور جنت کے کوثر پر بھی آپ سب سے پہلے پہنچیں گے اور اپنی امت کی کثرت کا مشاہدہ فرمائیں گے۔