Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 109. Al-Kaafiroon · Ayah 1

  1. قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ﴿1﴾

    1. قُلْ يٰٓاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَکہدیجئے اے کافرو
Translation · Tadabbur-e-Quran
کہہ دو ، اے کافرو !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’قُلْ‘ اعلان کے مفہوم میں: ’قُلْ‘ یہاں اعلان کر دینے کے معنی میں ہے۔ اس معنی میں یہ قرآن میں استعمال ہوا ہے۔ اس سورہ کا مضمون اعلان کا مقتضی تھا تاکہ جو مفسدین کفر اور اسلام کے درمیان سمجھوتے کے خبط میں مبتلا تھے وہ بھی اپنی سعئ نامراد سے مایوس ہو جائیں اور جو سادہ لوح اس طرح کی تجویزیں پیش کرنے والوں کو امن پسند اور صلح جُو گمان کر رہے تھے ان پر بھی اصل حقیقت واضح ہو جائے کہ یہ صلح و امن کی راہ نہیں بلکہ فساد کی مستقل پرورش کی راہ ہے۔ ائمۂ کفر سے خطاب: ’یٰٓاَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ‘ کا خطاب ظاہر ہے کہ قریش کے ان ائمۂ کفر سے ہے جو آنحضرت ﷺ کی دعوت کے مخاطب اول تھے لیکن آپ کی برسوں کی جدوجہد کے بعد ان کے رویہ میں کوئی تبدیلی ہوئی تو یہ ہوئی کہ انھوں نے کفر اور اسلام دونوں کا ایک ملغوبہ تیار کرنے کا مطالبہ کیا۔ رسول اتمام حجت کا کامل ذریعہ ہوتا ہے۔ اگر اس کی محنت بھی ان کو متاثر نہ کر سکی تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ پھر کوئی بھی دوسری ایسی چیز نہیں رہ گئی تھی جو ان کی حالت میں کوئی تبدیلی پیدا کر سکے۔ چنانچہ ان لوگوں کے بارے میں آگے اس سورہ میں جس مایوسی کا اظہار فرمایا گیا ہے وہ بالکل صحیح ثابت ہوئی۔ ان میں سے کوئی بھی اسلام لانے والا نہیں بنا بلکہ ہر ایک اپنے غرور اور انانیت کا شکار ہوا۔ دو سوال اور ان کے جواب: یہاں اس خطاب سے متعلق دو سوال پیدا ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ قرآن میں عام طور پر قریش کے لیڈروں کو اس طرح کے سخت خطاب سے کہیں مخاطب نہیں کیا گیا ہے، پھر اسی سورہ کی کیا خصوصیت ہے کہ اس میں ان کو ’یٰٓاَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ‘ سے خطاب کیا گیا۔ دوسرا یہ کہ قریش بلکہ اہل عرب بالعموم خدا کے منکر نہیں بلکہ اس کے شریک ٹھہرانے والے تھے تو قرآن نے ان کو ’اے کافرو‘ کیوں کہا، ’اے میرے مشرکو‘ سے کیوں نہیں خطاب کیا؟ ان دونوں سوالوں کے جواب اگرچہ اس کتاب میں جگہ جگہ دیے جا چکے ہیں اور تمہید میں بھی اس کی طرف اشارہ ہو چکا ہے لیکن ہم یہاں پھر ان کو صاف کیے دیتے ہیں۔ جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے اس کا جواب یہ ہے کہ حضور نے یہ انداز خطاب اس وقت اختیار فرمایا ہے جب اچھی طرح اتمام حجت کر دینے کے بعد، قوم کے رویہ سے بالکل مایوس ہو کر، اللہ تعالیٰ کے اذن سے، آپ نے ہجرت کا فیصلہ فرما لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ رسول کو ہجرت کا حکم اسی وقت دیتا ہے جب قوم کے رویہ سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اس کے اندر ایمان قبول کرنے کی صلاحیت باقی نہیں رہی ہے اور اس کی مکابرت اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ اگر اس کا مزید تعاقب کیا گیا تو اندیشہ ہے کہ خدانخواستہ وہ رسول کو قتل کر دے۔ اس مرحلے میں رسول کے لیے یہ بات بالکل معقول ہوتی ہے کہ وہ قوم اور قوم کے معبودوں سے اپنی کامل بیزاری کا اعلان کر کے ان سے الگ ہو جائے اور چونکہ رسول کی دعوت سے کفر اور اسلام دونوں کی اچھی طرح وضاحت ہو چکتی ہے اس وجہ سے جو بھی اس میں سے کسی ایک کو اختیار کرتا ہے، اس کے متعلق اس شبہ کی گنجائش نہیں رہتی کہ اس نے کفر یا اسلام میں سے کسی کو بے سمجھے بوجھے اختیار کیا ہے اس وجہ سے اگر اس دور میں رسول کفر پر اڑے رہنے والوں کو ’اے کافرو‘ سے خطاب کرتا ہے تو یہ خطاب بالکل برمحل، جائز اور معقول ہوتا ہے۔ اس سے ہمارے لیے یہ تعلیم نکلتی ہے کہ جو چیز کفر یا شرک ہے اس کو کفر یا شرک بتانا اور اس سے لوگوں کو بچانے کی کوشش کرنا تو ہر مسلمان کی ہر لمحہ ذمہ داری ہے لیکن کسی فرد یا گروہ کو کافر قرار دے کر اس سے اعلان براء ت کرنا یا اپنے جملہ روابط اس سے کاٹ لینا یا اس سے اعلان جنگ کر دینا بڑی احتیاط کا متقاضی ہے۔ خاص طور پر ان لوگوں کا مسئلہ بڑا ہی مشکل ہے جو اپنی ہر گمراہی کو اسلام بنائے ہوئے ہوں اور صحیح اسلام ان کے آگے پیش کرنے کا کوئی شرعی نظام موجود نہ ہو۔ اس طرح کے حالات میں صحیح راستہ یہی ہو سکتا ہے کہ آدمی غلطیوں اور گمراہیوں پر تنقید تو کرے اور لوگوں کے ان افعال میں شرکت سے اجتناب بھی کرے جو شرکت و بدعت کی نوعیت کے ہوں لیکن ان کو کافر قرار دے کر ان سے کلیۃً علیحدگی کااعلان اس وقت تک نہ کرے جب تک اس کے لیے مجبور نہ ہو جائے یا یہ باور کرنے کے لیے اس کے سامنے معقول وجوہ نہ آ جائیں کہ اس نے لوگوں پر حق واضح کر دیا اور یہ دوسری چیز نہایت مشکل ہے۔ دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ شرک حقیقت میں کفر ہی ہے۔ دین میں ایمان صرف وہی معتبر ہے جو کامل توحید کے ساتھ ہو یعنی آدمی خدا کی ذات، اس کی صفات اور اس کے حقوق میں کسی دوسرے کو کسی پہلو سے بھی شریک نہ ٹھہرائے۔ اللہ تعالیٰ کسی کے ایمان اور اس کی بندگی کا محتاج نہیں ہے کہ وہ ہر قسم کا ایمان اور ہر قسم کی بندگی قبول ہی کر لے اگرچہ اس میں شرک کی ملاوٹ بھی ہو۔ وہ اپنی بندگی اپنی شرائط پر چاہتا ہے، نہ کہ دوسروں کی شرائط پر، اس وجہ سے ہر وہ عمل خدا کے ہاں غیرمقبول ہے جو صرف اسی کے لیے نہ کیا گیا ہو بلکہ اس میں دوسروں کو بھی شریک کر دیا گیا ہو۔ قرآن کے فلسفہ کی رو سے اس شخص میں جو خدا کا منکر ہے اور اس شخص میں جو اس کو مانتا ہے لیکن خدائے واحد کی حیثیت سے نہیں بلکہ بہت سے دیوتاؤں میں سے ایک دیوتا یا سب سے بڑے دیوتا کی حیثیت سے مانتا ہے، کوئی فرق نہیں ہے۔ یہ دونوں ہی خدا کے منکر یا دوسرے الفاظ میں کافر ہیں۔ اس لیے کہ شرک کے ساتھ خدا کو ماننا اس کی تمام اعلیٰ صفات کی نفی ہے اور صفات کی نفی کے ساتھ اس کو ماننا اس کے نہ ماننے کے ہم معنی ہے۔ قرآن نے یہاں ان مشرکوں کو کافر کہہ کر اسی حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے کہ شرک درحقیقت کفر ہی ہے، کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ یہ کسی درجے میں بھی کفر کے مقابلے میں اہون یا قابل لحاظ ہے۔