Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 109. Al-Kaafiroon · Ayah 2

  1. لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَۙ﴿2﴾

    1. لَآ اَعْبُدُنہیں میں عبادت کرتا
    2. مَا تَعْبُدُوْنَجس کی تم عبادت کرتے ہو
Translation · Tadabbur-e-Quran
نہ میں پوجوں گا جن چیزوں کو تم پوجتے ہو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
سمجھوتے کی پیشکش کا جواب: کفر کے سرغنوں کو خطاب کر کے یہ ان کی اس پیش کش کا جواب ہے جو وہ باہمی سمجھوتے کے لیے کر رہے تھے۔ فرمایا کہ میں ان چیزوں کو نہیں پوجوں گا جن کو تم پوجتے ہو۔ گویا پہلے ہی فقرے میں ان کی توقع کا خاتمہ کر دیا۔ عام طور پر لوگوں نے ’لَآ اَعْبُدُ‘ کو حال کے مفہوم میں لیا ہے لیکن اس کو حال کے مفہوم میں لینا صاحب کشاف کے نزدیک عربیت کے خلاف ہے اور میرے نزدیک ان کی رائے صائب ہے۔ مضارع پر جب اس طرح ’لَا‘ آئے گا تو وہ مضارع کو لازماً مستقبل کے مفہوم میں کر دے گا۔ حال کے مفہوم کے لیے ’لَا‘ نہیں بلکہ ’مَا‘ کا استعمال موزوں ہے۔ علاوہ ازیں حال سے متعلق کسی نفی یا اثبات کا کوئی خاص فائدہ بھی نہیں۔ قریش میں سے ہر شخص کوعلم تھا کہ آنحضرت ﷺ ان بتوں میں سے کسی کو نہیں پوجتے۔ پھر ان کو یہ بتانے سے کیا فائدہ کہ میں ان کو نہیں پوجتا جن کو تم پوجتے ہو؟ سمجھوتے کی تجویزیں پیش کرنے سے ان کا اصلی مقصد تو یہی تھا کہ آنحضرت ﷺ اپنے اس رویے میں کچھ لچک پیدا کریں جس میں دوسرے معبودوں کے لیے سرے سے کوئی گنجائش ہی نہیں رہی ہے۔ ان کی اس توقع پر ضرب لگ سکتی تھی تو اسی صورت میں لگ سکتی تھی جب ان کو آئندہ کے لیے یہ یقین دلا دیا جائے کہ خدا کی توحید کے باب میں آپ کوئی لچک قبول کرنے والے نہیں ہیں۔ سورۂ قلم کی آیت ’وَدُّوْا لَوْ تُدْھِنُ فَیُدْھِنُوْنَ‘؂۱ (القلم ۶۸: ۹) (وہ چاہتے ہیں کہ تم کچھ نرم پڑو تو وہ بھی نرم پڑ جائیں گے) کے تحت ہم واضح کر چکے ہیں کہ قریش اپنے جبر و ظلم کے تمام حربے آزما کر ہجرت سے کچھ پہلے پہلے یہ اندازہ کر چکے تھے کہ اسلام کی روز افزوں ترقی کو روکنا ان کے امکان میں نہیں رہا۔ اب اگر کچھ امکان ہے تو صرف یہ ہے کہ دباؤ ڈال کر آنحضرت ﷺ کو اس بات پر مجبور کیا جائے کہ وہ ’’کچھ دو اور کچھ لو‘‘ کے اصول پر معاملہ کرنے کی طرف مائل ہوں یعنی جس طرح ہم اللہ تعالیٰ کے لیے ایک مقام تسلیم کرتے ہیں اسی طرح آپ ہمارے بتوں کے لیے بھی عبادت میں ایک حق تسلیم کر لیں تو یہ جھگڑا ختم ہو جائے۔ ان کو توقع تھی کہ دباؤ ڈال کر وہ آنحضرت ﷺ سے اپنا موقف تسلیم کرا لیں گے چنانچہ انھوں نے اپنا پورا زور صرف کر دیا یہاں تک کہ آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ کو حالات سے مجبور ہو کر ہجرت کی راہ اختیار کرنی پڑی لیکن دین کی بنیاد چونکہ توحید ہی پر ہے اس وجہ سے ہجرت کے امتحان سے گزرنا گوارا کر لیا گیا لیکن اس معاملے میں کوئی لچک گوارا نہیں کی گئی بلکہ صاف صاف ’لَآ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ‘ کا اعلان کر دیا گیا۔ _____ ؂۱ ملاحظہ ہو تدبر قرآن۔ جلد ہفتم، صفحات: ۵۱۶-۵۱۷۔