Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 109. Al-Kaafiroon · Ayah 3

  1. وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُۚ﴿3﴾

    1. وَلَآ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَاور نہ تم عبادت کرنے والے
    2. مَآ اَعْبُدُجس کی میں عبادت کرتا ہوں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور نہ تم پوجنے کے جسے میں پوجتا ہو ں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ایک حقیقت نفس الامری کا اظہار: ساتھ ہی ان کو اس حقیقت نفس الامری سے بھی حضور نے آگاہ فرما دیا کہ تم جو یہ گمان کیے بیٹھے ہو کہ تم اس خدا کو پوجنے والے ہو یا بن جاؤ گے جس کو میں پوجتا ہوں تو تمہارا یہ گمان محض گمان ہے۔ میرے پروردگار کی بندگی کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ بندگی صرف اسی کا حق ہے، اس میں کوئی دوسرا اس کا ساجھی نہیں ہے۔ تم اگر اپنے دیویوں دیوتاؤں سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہو تو اس کے پرستار بھی نہیں بن سکتے۔ یہ تمہارا محض مغالطہ ہے کہ تم اپنے کوخدا کی عبادت کرنے والا سمجھتے ہو۔ خدا کی عبادت کے ساتھ کوئی اور عبادت جمع نہیں ہو سکتی۔ اس کی بندگی میں داخل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ تم اپنے تمام معبودوں کو باہر چھوڑ کر آؤ۔ اگر اس کی بندگی کے ساتھ تم نے ان کی بندگی بھی جمع کرنے کی کوشش کی تو اپنے معبودوں کے پرستار تو بے شک رہو گے لیکن خدا کی بندگی میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ہو گا۔ مشرکین کے معبودوں کے لیے ’مَا تَعْبُدُوْنَ‘ کا استعمال بالکل ٹھیک ہے اس لیے کہ وہ فرضی اور وہمی چیزوں کی پوجا کرتے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ کے لیے ’مَآ اَعْبُدُ‘ کا استعمال کچھ کھٹکتا ہے۔ یہ مجانست کے اسی اصول پر استعمال ہوا ہے جس کی مثالیں عربی زبان اور قرآن دونوں میں معروف ہیں۔ مثلاً ’دِنَّاھُمْ کَمَا دَانُوْا‘ یا ’جَزآؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثْلُھَا‘ (الشوریٰ ۴۲: ۴۰) وغیرہ۔ اس اسلوب پر اس کے محل میں مفصل گفتگو ہو چکی ہے۔؂۱ _____ ؂۱ ملاحظہ ہو تدبر قرآن۔ جلد ۷، صفحہ ۱۸۱۔