تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 109. Al-Kaafiroon · Ayah 4
وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْۙ﴿4﴾
- وَلَآ اَنَا عَابِدٌاور نہ میں عبادت کرنیوالا
- مَّا عَبَدْتُّمْجسکی تم عبادت کرتے ہو
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور نہ میں پوجنے والا ہوا جن کو تم نے پوجا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ماضی سے متعلق موقف کا اظہار: اوپر کا اعلان تو، جیسا کہ واضح ہوا، مستقبل سے متعلق ہے۔ اب یہ ماضی سے متعلق بھی آپ نے اپنا موقف واضح فرما دیا کہ ماضی میں بھی کبھی میں ان چیزوں کا پرستار نہیں رہا ہوں جن کی تم نے پرستش کی۔ صاحب کشاف نے اس آیت کی یہی تاویل کی ہے اور مجھے زبان اور نظام دونوں پہلوؤں سے یہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔
’وَلَآ اَنَا عَابِدٌ‘ کا جملہ اسمیہ ہے! اس وجہ سے اس کے حاضر، ماضی اور مستقبل میں سے کسی کے ساتھ مقید ہونے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ یہ تینوں زمانوں کے ساتھ یکساں مربوط ہو سکتا ہے بشرطیکہ قرینہ ان میں سے کسی کو ترجیح نہ دے دے۔ یہاں ’مَّا عَبَدْتُّمْ‘ چونکہ ماضی ہے اس وجہ سے یہ واضح قرینہ ہے کہ ’وَلَآ اَنَا عَابِدٌ‘ کی نفی ماضی ہی سے متعلق ہے یعنی میں پہلے بھی کبھی ان چیزوں کا پوجنے والا نہیں رہا ہوں جن چیزوں کو تم نے پوجا۔
کلام کا فائدہ: اس کلام کا فائدہ یہ ہو گا کہ اس اعلان براء ت کی شدت میں اس سے بڑا اضافہ ہو جائے گا جو اوپر کی آیت میں کیا گیا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہو گا کہ جب میں تمہارے ان بتوں کو اپنی زندگی کے اس دور میں بھی کبھی خاطر میں نہیں لایا جب میں شرف نبوت سے مشرف اور نور وحی سے منور نہیں ہوا تھا تو اب جب کہ میں براہ راست اپنے رب سے ہدایت حاصل کر رہا ہوں تمہاری اس ضلالت میں کس طرح مبتلا ہو سکتا ہوں۔ مطلب یہ ہوا کہ کوئی دور بھی میری اور تمہاری زندگی میں اگر ایسا گزرا ہوتا جب میں تمہارے اس دین شرک میں شریک رہا ہوتا تو تم مجھ سے یہ توقع کر سکتے تھے کہ شاید میں سابق دین پھر اختیار کرنے پر آمادہ ہو جاؤں گا لیکن جب میرا دامن جاہلیت میں بھی شرک سے داغ دار نہ ہوا تو اب مجھ سے اس کی توقع تم کیسے کر رہے ہو!