Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 109. Al-Kaafiroon · Ayah 5

  1. وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُؕ﴿5﴾

    1. وَلَآ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَاور نہ تم عبادت کرنے والے
    2. مَآ اَعْبُدُجس کی میں عبادت کرتا ہوں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور نہ تم پوجنے والے ہوئے جسے میں پوجتا آ رہا ہوں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت کا تعلق دور ماضی سے ہے: یہ آیت لفظاً تو آیت ۳ کا اعادہ ہے اس وجہ سے تکرار کا شبہ پیدا ہوتا ہے لیکن معناً یہ اس سے مختلف ہے۔ اس کا تعلق آیت ۴ کی طرح دور ماضی سے ہے جب کہ آیت ۳ کا تعلق، جیسا کہ واضح ہوا مستقبل سے ہے۔ یعنی قریش کے لیڈروں کو آگاہ فرمایا گیا ہے کہ تم اگر اس مغالطے میں مبتلا ہو کہ ماضی میں تم بھی اسی معبود کی پوجا کرتے رہے ہو جس کی میں پوجا کرتا رہا ہوں تو یہ محض تمہاری خام خیالی ہے۔ شرک کے ساتھ میرے معبود کی پرستش کا، جیسا کہ اوپر واضح ہوا، کوئی امکان ہی نہیں ہے اور تم شرک سے کبھی پاک نہیں ہوئے اس وجہ سے نہ میں کبھی تمہارا دینی بھائی بنا نہ تم میرے دینی بھائی بنے تو یہ توقع تم کس طرح کرتے ہو کہ اپنی اس گندگی میں لتھڑے ہوئے تم مجھے اپنا دینی بھائی بنانے میں کامیاب ہو جاؤ گے! یہاں باوّل وہلہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر مطلب آیت کا یہ ہے، جو ہم نے اختیار کیا ہے تو ’مَآ اَعْبُدُ‘ کی جگہ ’مَا عَبَدْتُّ‘ کیوں نہیں فرمایا؟ اس کا جواب صاحب کشاف نے یہ دیا ہے کہ ’مَا عَبَدْتُّ‘ اس لیے نہیں فرمایا کہ اس دور میں آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی بندگی نہیں کی اس وجہ سے آپ نے اس کا حوالہ نہیں دیا بلکہ صرف حال کا حوالہ دیا لیکن یہ جواب بالکل غلط ہے۔ حضرات انبیاء علیہم السلام بعثت سے پہلے بھی فطرت سلیم پر تھے اور توحید چونکہ دین فطرت ہے اس وجہ سے وہ کبھی فطرت کے خلاف شرک میں مبتلا نہیں ہوئے۔ ساتھ ہی وہ لازماً اپنے رب کی کسی نہ کسی شکل میں عبادت بھی کرتے رہے ہیں اگرچہ وہ طریقہ انھوں نے اپنے اجتہاد سے اختیار کیا ہو یا دین کی سابق روایات سے اخذ کیا ہو۔ ہمارے نبی کریم ﷺ بعثت سے پہلے بھی عبادت کرتے تھے۔ اگرچہ اس کا طریقہ واضح طور پر ہمارے سامنے نہیں ہے تاہم اتنی بات معلوم ہے کہ اس کی بنیاد حنیفیت پر تھی جس کی روایت حضرت ابراہیم و حضرت اسمٰعیل علیہما السلام کے زمانے سے کسی نہ کسی شکل میں چلی آ رہی تھی۔ اس وجہ سے ہمارے نزدیک ’مَا عَبَدْتُّ‘ نہ کہنے کی وہ وجہ صحیح نہیں ہے جو صاحب کشاف نے بیان کی ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ آپ کا تعلق صرف ماضی ہی تک محدود نہیں تھا بلکہ آپ نے جس طرح ماضی میں اپنے رب ہی کی عبادت کی اسی طرح آپ حاضر میں بھی اسی کی عبادت پر قائم تھے اس وجہ سے آپ نے ’مَآ اَعْبُدُ‘ فرمایا جس سے تسلسل اور استمرار کا اظہار ہو رہا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ تم اس خدا کے پوجنے والے ماضی میں بھی نہ بنے جس کی بندگی میں نے ماضی میں بھی کی اور اب بھی اس پر قائم و دائم ہوں۔