Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 109. Al-Kaafiroon · Ayah 6

  1. لَكُمْ دِیْنُكُمْ وَ لِیَ دِیْنِ۠ع﴿6﴾

    1. لَكُمْتمہارے لئے
    2. دِيْنُكُمْتمہارا دین
    3. وَلِيَ دِيْنِمیرے لئے ۔ میرا دین
Translation · Tadabbur-e-Quran
تمہیں تمہارا دین اور مجھے میرا دین !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آشکارا اعلان براء ت: یعنی جب میرے دین اور تمہارے دین میں کوئی اشتراک ماضی میں نہ ہوا، نہ حاضر میں ہے تو آئندہ کس طرح توقع کرتے ہو کہ ہم کسی ایک نقطہ پر مجتمع ہو سکیں گے۔ اس وجہ سے سمجھوتے کی توقع بالکل لاحاصل ہے۔ میرے لیے میرا دین ہے اور تمہارے لیے تمہارا دین۔ میں اپنے طریقہ پر کام کرتا ہوں اور تم اپنے طریقہ پر کام کرو اور دیکھو کہ انجام کار میری بات سچی ثابت ہوتی ہے یا تمہاری۔ یہی بات سورۂ انعام میں یوں ارشاد ہوئی ہے: ’قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰی مَکَانَتِکُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ‘ (الانعام ۶: ۱۳۵) (کہہ دو، اے میری قوم کے لوگو، تم اپنی جگہ پر کام کرو، میں اپنی جگہ پر کام کرتا ہوں) سورۂ ہود آیت ۹۳ اور سورۂ زمر آیت ۳۹ میں بھی دوسرے رسولوں سے یہی کلمات نقل ہوئے ہیں اور مقصود اس سے صرف اس بحث و جدال کے دروازے کو بند کرنا ہے جو مخالفین اس مقصد سے کر رہے تھے کہ نبی ﷺ ان کے موقف کو بھی تسلیم کرنے پر آمادہ ہوں۔ اس اعلان سے آپ نے ان کو آخری آگاہی دے دی کہ نہ آپ دین سے ذرہ برابر ہٹنے کے لیے تیار ہیں اور نہ ان کے دین کے لیے ہی کوئی مقام تسلیم کرنے پر آمادہ ہیں۔ حضرت ابراہیم کے اعلان کا اعادہ: عام طور پر لوگوں نے اس آیت کو رواداری کے مفہوم میں لیا ہے حالانکہ یہ کفار کے رویہ سے بیزاری بلکہ انجام کار کے اعتبار سے ان سے ابدی مفارقت اور اعلان جنگ کے مفہوم میں ہے۔ مختصر الفاظ میں یہ وہی اعلان ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کے سامنے کیا تھا، جس کا حوالہ قرآن نے ان الفاظ میں دیا ہے: قَدْ کَانَتْ لَکُمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیْٓ اِبْرٰھِیْمَ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِھِمْ اِنَّا بُرَءٰٓ ؤُا مِنْکُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کَفَرْنَا بِکُمْ وَبَدَا بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃُ وَ الْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّٰی تُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَحْدَہٗٓ.(الممتحنہ ۶۰: ۴) ’’تمہارے لیے ابراہیم اور ان کے ساتھیوں کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ یاد کرو جب کہ انھوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ہم تم سے اور ان چیزوں سے جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو بالکل بری ہیں، ہم نے تمہارے عقیدے کا انکار کیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے عداوت اور نفرت آشکارا ہو گئی تا آنکہ تم اللہ وحدہٗ لاشریک لہ پر ایمان لاؤ۔‘‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے اصحاب کا یہ اسوۂ حسنہ آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کے سامنے رکھا ہی اس لیے گیا تھا کہ اسی طرح کا اعلان براء ت آپ اور آپ کے صحابہ اپنی قوم سے کریں۔ چنانچہ اسی کی پیروی میں یہ اعلان آنحضرت ﷺ نے فرمایا تو اس کے اندر رواداری کی گنجائش کس طرح پیدا ہو سکتی ہے۔ کلام کے سیاق و سباق اور نظم کی رعایت ملحوظ نہ رکھنے سے ایک بہت بڑا نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ لوگ بیزاری اور رواداری کے کلمہ میں امتیاز سے بھی قاصر رہ جاتے ہیں اور یہ آیت اس کی ایک نہایت عبرت انگیز مثال ہے۔