Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 110. An-Nasr · Ayah 1

  1. اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ﴿1﴾

    1. اِذَا جَآءَجب آجائے
    2. نَصْرُ اللّٰهِاللہ کی مدد
    3. وَالْفَتْحُاور فتح
Translation · Tadabbur-e-Quran
جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اللہ تعالیٰ کی خاص مدد: یہاں اللہ تعالیٰ کی مدد اور فتح کا جس اہتمام خاص کے ساتھ ذکر ہوا ہے اور اس کے بعد نبی ﷺ کو حمد و تسبیح کی جو ہدایت فرمائی گئی ہے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس سے عام مدد اور عام فتح مراد نہیں ہے بلکہ وہ مدد اور فتح مراد ہے جو سنت الٰہی کے مطابق اللہ کے رسولوں کو ان کے مخالفوں کے مقابل میں اس وقت حاصل ہوئی ہے جب رسولوں نے اللہ کا پیغام پہنچانے میں اپنی ساری طاقت نچوڑ دی اور قوم رسول کی تکذیب اور اس کی دشمنی پر اس طرح اڑ گئی ہے کہ یہ توقع کرنے کی گنجائش باقی ہی نہیں رہ گئی ہے کہ اس کے رویے میں کوئی تبدیلی واقع ہو سکے گی۔ اس مدد کے ظہور کا وقت: سورۂ یوسف میں اس نصرت الٰہی کے ظہور کے لیے یہ ضابطہ بیان ہوا ہے کہ جب اللہ کے رسول اپنی قوم کے ایمان سے مایوس ہو گئے ہیں اور قوم نے اپنے رویہ سے ثابت کر دیا ہے کہ العیاذ باللہ وہ رسول کے انذار کو بالکل جھوٹ اور لاف زنی خیال کرتی ہے تب اللہ کی یہ مدد ظہور میں آئی۔ حَتّٰٓی اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوْٓا اَنَّھُمْ قَدْ کُذِبُوْا جَآءَ ھُمْ نَصْرُنَا.(یوسف ۱۲: ۱۱۰) (یہاں تک کہ جب رسول قوم کے ایمان سے مایوس ہو گئے ہیں اور قوم کے لوگوں نے گمان کر لیا ہے کہ ان کو جھوٹ موٹ عذاب سے ڈرایا گیا ہے تب ہماری مدد رسولوں کے پاس آ گئی۔) یہی بات دوسرے الفاظ میں یوں ارشاد ہوئی ہے: فَصَبَرُوْا عَلٰی مَا کُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰٓی اَتٰھُمْ نَصْرُنَا.(الانعام ۶: ۳۳) (پس وہ (رسول) ثابت قدم رہے قوم کی طرف سے تکذیب اور ایذا رسانیوں کے باوجود یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آ گئی۔) موعود و منتظر فتح: اسی طرح ’اَلْفَتْحُ‘ پر الف لام اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ اس سے مراد موعود و منتظر فتح ہے جو اللہ کے رسولوں اور ان کے ساتھیوں کے لیے سنت الٰہی کا تقاضا ہے، جس کا اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا اور جس کے وہ اپنی زندگی کے سخت سے سخت مرحلے میں بھی منتظر و متوقع رہے ہیں۔ اسی فتح کی طرف سورۂ صف کی اس آیت میں اشارہ ہے جس کا حوالہ ہم اوپر دے چکے ہیں: ’وَاُخْرٰی تُحِبُّوْنَھَا نَصْرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَفَتْحٌ قَرِیْبٌ‘ (الصف ۶۱: ۱۳) (اور ایک دوسری فیروزمندی بھی ہے جس کو تم عزیز رکھتے ہو یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد اور جلدی ظاہر ہونے والی فتح) قرآن مجید کے دوسرے مقامات میں بھی اس کا ذکر اسی اجمال کے ساتھ ہوا ہے جس طرح یہاں ہوا ہے لیکن یہ چیز پہلے سے ذہنوں میں موجود تھی اس وجہ سے، اجمال کے باوجود، اس کے سمجھنے میں لوگوں کو کوئی تردد پیش نہیں آیا۔ مثلاً فرمایا ہے: ’لَا یَسْتَوِیْ مِنْکُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقٰتَلَ‘ (الحدید ۵۷: ۱۰) (تم میں سے وہ لوگ جو فتح سے پہلے انفاق اور جہاد کریں گے اور جو بعد میں کریں گے دونوں درجے میں یکساں نہیں ہوں گے)۔ یہاں دیکھ لیجیے اس بات کی وضاحت نہیں ہے کہ کون سی فتح مراد ہے لیکن ہر شخص سمجھتا ہے کہ اس سے فتح مکہ مراد ہے اس لیے کہ وہی فتح تھی جو جدوجہد کرنے والوں کے اعمال کی قدر و قیمت کے گھٹانے اور بڑھانے کے معاملے میں ایک میزان کا کام دے سکتی تھی۔ اس سے پہلے متعدد غزوات میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہو چکی تھی اور اس کے بعد بھی فتوحات حاصل ہوئیں لیکن نہ ان میں سے کسی کا یہ درجہ تھا کہ نام لیے بغیر اس کی طرف ذہن منتقل ہو سکیں اور نہ مسلمانوں کی اجتماعی زندگی پر ان کا یہ اثر پڑا کہ اس سے پہلے اور اس کے بعد کی نیکیوں کی قدر و قیمت میں ان کے سبب سے وہ تفاوت واقع ہوا ہو جو اس فتح کے سبب سے واقع ہوا۔ اس فتح کے بعد عرب میں کفر نے اسلام کے آگے اس طرح گھٹنے ٹیک دیے کہ اس کے لیے پھر سر اٹھانے کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔ اس سے بعثت محمدی کا اصل مقصد گویا پورا ہو گیا چنانچہ نبی ﷺ نے اس فتح کے بعد خانۂ کعبہ کے دروازے پر جو خطبہ دیا اس میں آپ نے فرمایا کہ: لا الٰہ الَّا اللّٰہ وحدہٗ. صدق وعدہ ونصر عبدہ وھزم الاحزاب وحدہ. (اللہ واحد کے سوا کوئی معبود نہیں، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنے بندے کی مدد فرمائی اور اس نے یکہ و تنہا دشمنوں کی تمام جماعتوں کو شکست دی۔) اس خطبہ کے بعد ہی آپ نے قریش کے ان سرغنوں کی طرف توجہ فرمائی جو اس سے پہلے تو پرے جما جما کر آپ سے لڑتے رہے تھے لیکن اس وقت محکمومانہ حاضر اور تقدیر کے فیصلہ کے منتظر تھے۔ آپ نے ان کو مخاطب کر کے سوال کیا کہ کیا تم جانتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہوں! سب نے بیک زبان جواب دیا کہ آپ شریف بھائی اور شریف بھائی کے بیٹے ہیں! آپ نے ان کا یہ جواب سن کر فرمایا کہ جاؤ، میں نے تم سب کی جان بخشی کی! فتح و نصرت تائید الٰہی سے حاصل ہوتی ہے: یہاں نصرت اور فتح دونوں کا ذکر جس طرح ساتھ ساتھ ہوا ہے اس سے یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ کسی کو کوئی فتح اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر حاصل نہیں ہوتی اس وجہ سے کسی کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی فتح پر اترائے اور اس گھمنڈ میں مبتلا ہو کہ یہ اس کی اپنی تدبیر جنگ ہے اور مہارت و بسالت کا کرشمہ ہے بلکہ اس کو اللہ تعالیٰ ہی کی تدبیر و حکمت کا کرشمہ سمجھنا چاہیے۔ چنانچہ اوپر ہم نے نبی ﷺ کے خطبہ کا جو حوالہ دیا ہے اس سے بھی یہ بات نکلتی ہے کہ آپ نے دشمنوں کی تمام پارٹیوں کی ہزیمت کو تنہا اپنے رب ہی کی قدرت کا کرشمہ قرار دیا، اس کا کریڈٹ نہ خود لینے کی کوشش کی نہ اس میں کسی اور کو حصہ دار بنایا۔ اس سورہ میں آپ کی حمد و تسبیح کی جو ہدایت فرمائی گئی ہے اس سے بھی یہی حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اس فضل و انعام پر شکر کا اصل حق دار اللہ تعالیٰ ہی ہے اس وجہ سے زیادہ سے زیادہ اس کی حمد و تسبیح ہونی چاہیے۔