Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 11. Hud · Ayah 80

  1. قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِیْۤ اِلٰى رُكْنٍ شَدِیْدٍ﴿80﴾

    1. قَالَاس نے کہا
    2. لَوْ اَنَّکاش کہ
    3. لِيْمیرے لیے (میرا)
    4. بِكُمْتم پر
    5. قُوَّةًکوئی زور
    6. اَوْ اٰوِيْٓیا میں پناہ لیتا
    7. اِلٰيطرف
    8. رُكْنٍ شَدِيْدٍمضبوط پایہ
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس نے کہا کاش میرے پاس تم سے مقابلہ کی قوت ہوتی یا میں کسی طاقت ور سہارے کی پناہ لے سکتا ! !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قَالَ لَوْ اَنَّ لِيْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِيْٓ اِلٰي رُكْنٍ شَدِيْدٍ۔ حضرت لوط کی طرف سے قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی آخری کوشش حضرت لوط کی زبان سے یہ فقرہ انتہائی اضطراب اور غنڈوں کے رویہ سے آخری درجے میں مایوس ہوجانے کے بعد نکلا ہے۔ فرمایا کہ کاش ! میرے پاس یا تو خود اپنی اتنی قوت و جمعیت ہوتی کہ تم سے نبٹ سکتا یا کوئی ایسا صاحب جمعیت اور باثر شخص ہی ہوتا کہ میں اس کی پناہ لے سکتا اور وہ مجھے تمہاری چیرہ دستیوں سے بچا سکتا۔ یہ آخری فقرہ بھی حضرت لوط نے قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے فرمایا۔ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ عرب میں کسی مصیبت زدہ اور مظلوم کو پناہ دینا، جب کہ وہ طالب پناہ ہو بڑے شرف کی بات سمجھی جاتی تھی اور اسی طرح کسی طالب پناہ کو پناہ نہ دینا انتہائی رذالت کی دلیل تھی۔ حضرت لوط نے یہ فقرہ فرما کر گویا آخری حجت بھی تمام کردی۔ اس حجت کے تمام ہوجانے کے بعد فرشتوں نے حقیقت سے پردہ اٹھا دیا اور بولے۔ (اگلی آیت دیکھیے)