Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 110. An-Nasr · Ayah 2

  1. وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًاۙ﴿2﴾

    1. وَرَاَيْتَاور آپ دیکھیں
    2. النَّاسَلوگ
    3. يَدْخُلُوْنَداخل ہورہے ہیں
    4. فِيْمیں
    5. دِيْنِ اللّٰهِاللہ کا دین
    6. اَفْوَاجًافوج در فوج
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور لوگوں کو دیکھو کہ وہ فوج در فوج خدا کے دین میں داخل ہو رہے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اس عظیم بشارت کا سب سے نمایاں پہلو: یہ اس عظیم بشارت کا سب سے زیادہ نمایاں پہلو ہے جو اوپر مذکور ہوئی۔ آنحضرت ﷺ کا اپنی قوم سے جو جھگڑا تھا وہ دنیا کی کسی غرض کے لیے نہیں تھا، صرف اللہ کے دین کے لیے تھا۔ آپ چاہتے تھے کہ قریش کے لیڈر اس امانت کا حق ادا کریں جو بیت اللہ کی صورت میں ان کی تحویل میں ہے۔ اگر وہ اس کے لیے تیار نہیں ہیں تو پھر ان کو اس پر قابض رہنے اور اللہ کے بندوں کو اللہ کے دین سے بجبر و ظلم روکنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اس مذہبی جبرکو (جس کو قرآن نے فتنہ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے) ختم کرنے کے لیے آپ نے قریش کو مکہ سے بے دخل کیا اور چونکہ دین کی راہ میں جو رکاوٹ تھی وہ صرف لیڈروں کے جبر و استبداد ہی کے سبب سے تھی، عوام کے دلوں میں اس کے خلاف کوئی بدگمانی نہیں تھی اس وجہ سے اس استبداد کے بند ٹوٹتے ہی لوگ رکے ہوئے سیلاب کی طرح قبول اسلام کے لیے ٹوٹ پڑے۔ فتح مکہ سے پہلے جو لوگ قبول اسلام کے لیے حضور کی خدمت میں آتے وہ ڈرتے ڈرتے آتے۔ اس وقت تک اسلام قبول کرنا تو درکنار اسلام اور مسلمانوں کے حق میں ہمدردی کا کوئی کلمہ کہنا بھی عام لوگوں کے لیے ایک خطرہ مول لینے کے حکم میں تھا۔ اوپر ہم ذکر کر آئے ہیں کہ اس دور میں انصار کے بعض وفود آنحضرت ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کرنے آئے تو قریش کے لیڈروں نے ان کو ڈرایا کہ آپ لوگ ان سے بیعت کر رہے ہیں تو یاد رکھیں کہ یہ بیعت اسود و احمر سے جنگ کے ہم معنی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کے استبداد کی موجودگی میں وہی لوگ اسلام لانے کا حوصلہ کر سکتے تھے جو پہاڑوں سے لڑ جانے کا حوصلہ رکھتے ہوں لیکن جب یہ استبداد پاش پاش ہو گیا تو پھر کوئی مزاحمت باقی نہیں رہ گئی۔ لوگ ہر طرف سے اس طرح مدینہ کی طرف بڑھے گویا اس چشمۂ حیواں پر پہنچنے کے لیے پیاس سے تڑپ رہے تھے۔ یہی فتح ہے جس نے ملک کے حالات میں وہ تبدیلی پیدا کی کہ لوگ اپنے دین کے انتخاب کے معاملے میں بالکل آزاد ہو گئے اور سرزمین عرب سے اس فتنہ کا بالکلیہ خاتمہ ہو گیا جس کے بل پر قریش کے لیڈر لوگوں کے دین و ایمان کے مالک بنے بیٹھے تھے۔ اس بشارت کے پردے میں گویا نبی ﷺ کو یہ بتا دیا گیا کہ اب جلد وہ وقت آنے والا ہے کہ لوگ قریش کے ظلم و استبداد سے بالکل آزاد ہو کر اللہ کے دین کی طرف دوڑیں گے اور کسی کی مجال نہ ہو گی کہ ان کی راہ میں کوئی مزاحمت پیدا کر سکے۔ یہ چیز اس بات کی نہایت محکم دلیل ہے کہ اس سے مراد فتح مکہ ہی ہے۔ اس کے سوا کوئی اور فتح نہیں ہے جس سے یہ اثرات نمایاں ہوئے ہوں۔ جن لوگوں نے اس سے کوئی اور فتح مراد لی ہے انھوں نے اس سورہ کے مضمرات اور فتح مکہ کے اثرات دونوں کا اندازہ کرنے میں غلطی کی۔