تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 110. An-Nasr · Ayah 3
فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ١ؔؕ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠ع﴿3﴾
- فَسَبِّحْپس پاکی بیان کریں
- بِحَمْدِتعریف کے ساتھ
- رَبِّكَاپنے رب کی
- وَاسْتَغْفِرْهُاور بخشش طلب کیجئے اس سے
- ڼ اِنَّهٗ كَانَبیشک وہ۔ ہے
- تَوَّابًابڑا توبہ قبول کرنیوالا
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو اپنے خداوند کی تسبیح پڑھو اس کی حمد کے ساتھ، اور اس سے مغفرت مانگو۔ بیشک وہ بڑا ہی معاف کرنے والا ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اس آیت کے دو خاص پہلو: یہ آیت اپنے اندر یوں تو کئی پہلو رکھتی ہے لیکن دو پہلو خاص اہمیت والے ہیں۔
اول یہ اس فرض کی طرف رہنمائی کرتی ہے جو اس فتح و نصرت کے حاصل ہونے کے بعد نبی ﷺ اور آپ کی امت پر عائد ہوا۔ یعنی یہ کہ اس پر اترانے اور فخر کرنے کے بجائے لوگ اپنے رب کی حمد و تسبیح کریں، اپنی کوتاہیوں کی معافی مانگیں اور یہ توقع رکھیں کہ اللہ تعالیٰ بڑا ہی مہربان و کریم ہے۔ اس کے جو بندے اپنی کوتاہیوں کی معافی کے لیے اس سے رجوع کرتے ہیں وہ ان کی طرف رحمت کے ساتھ متوجہ ہوتا ہے۔ سورۂ کوثر میں جس طرح فرمایا ہے:
’اِنَّآ اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ‘ (الکوثر ۱۰۸: ۱-۲)
(ہم نے تم کو بخشا کوثر تو اپنے خداوند ہی کی نماز پڑھو اور اسی کے لیے قربانی کرو)
اسی طرح یہاں یہ آیت اس ذمہ داری کے بیان کے لیے بھی آئی ہے جو اس فتح و نصرت کا لازمی نقاضا ہے اور اس چیز کی بھی یہ تعلیم دے رہی ہے جو اس کے بقاء کی ضامن ہے۔ بندوں کو جو نعمت بھی حاصل ہوتی ہے اس کے ساتھ کچھ ذمہ داریاں بھی لازماً وابستہ ہوتی ہیں۔ جب تک بندے ان ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہیں وہ نعمت ان کو حاصل رہتی ہے، جب وہ ان کو بھلا بیٹھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کچھ مہلت دینے کے بعد وہ ان سے یا تو چھین لیتا ہے یا وہ اس کے سبب سے نہایت سخت آزمائشوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
دوسرا پہلو اس کے اندر آنحضرت ﷺ کے لیے بشارت کا ہے کہ اس فتح کے بعد آپ کے لیے اس عظیم فریضہ سے باعزت طور پر سبک دوش ہونے کا وقت آ جائے گا جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر ڈالا ہے۔ حضور ﷺ پر نبوت کا جو بوجھ ڈالا گیا اس کی ذمہ داریاں ادا کرنے میں آپ نے اپنی ساری طاقت جس طرح نچوڑی اور جس طرح اپنے آپ کو اس میں مصروف رکھا اس کی تفصیلات پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں۔ اس کا اندازہ کرنے کے لیے یہ کافی ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے آپ کو مخاطب کر کے نہایت محبت آمیز انداز میں عتاب فرمایا کہ:
’مَآ اَنْزَلْنَا عَلَیۡکَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰی‘ (طٰہٰ ۲۰: ۲)
(ہم نے تم پر یہ قرآن اس لیے نہیں اتارا ہے کہ تم اس کی خاطر اپنی زندگی اجیرن بنا لو)
اس حالت میں آنحضرت ﷺ کے لیے سب سے بڑی بشارت کوئی ہو سکتی تھی تو یہی ہو سکتی تھی کہ وہ دن آئے کہ آپ اس بارعظیم سے سبک دوش ہوں اور باعزت طریقے سے سبک دوش ہوں۔ چنانچہ اس سورہ نے آپ کو یہ بشارت دے دی اور فحوائے کلام سے یہ بات بھی نکلی کہ آپ اپنی ذمہ داری سے عزت و سرخروئی کے ساتھ فارغ ہوں گے۔ اس لیے کہ آیت میں آپ کو استغفار کی ہدایت کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے توّاب ہونے کی بشارت بھی دی گئی ہے۔ لفظ ’تَوَّابٌ‘ جب اللہ تعالیٰ کے لیے آتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ وہ اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان اور ان کی لغزشوں سے درگزر کرنے والا ہے۔
حضرات انبیاء علیہم السلام سے صادر ہونے والی لغزشوں کی نوعیت: یہاں نبی ﷺ کو استغفار کی جو ہدایت فرمائی گئی ہے اس کا تعلق اسی طرح کی باتوں سے ہے جن کی وضاحت ہم برابر کرتے آ رہے ہیں کہ حضرات انبیاء علیہم السلام سے اتباع ھوا کے قسم کے گناہ تو صادر نہیں ہوتے لیکن بعض اوقات کوئی نیک محرک ان کو کسی نیکی میں حد مطلوب سے متجاوز کر دیتا ہے جس کی ایک مثال سورۂ طٰہٰ کی اس آیت میں بھی موجود ہے جس کا ہم نے اوپر حوالہ دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس میں آپ کو جس بات سے ٹوکا گیا ہے وہ اتباع ھوا کے قسم کی کوئی چیز نہیں بلکہ دین میں مفرط انہماک اور ان سرکشوں کے پیچھے اپنے کو کھپانے پر ٹوکا گیا ہے جو اس نازبرداری کے اہل نہیں تھے۔
یہ بشارت اس سے زیادہ واضح لفظوں میں سورۂ فتح میں گزر چکی ہے اور ہم ہر پہلو سے اس کی وضاحت بھی کر چکے ہیں۔ آیت کا حوالہ ہم یہاں دیے دیتے ہیں جن کو تفصیل مطلوب ہو وہ تدبر قرآن میں اس کی تفسیر پڑھ لیں۔۱
اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا لِّیَغْفِرَلَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ وَیُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکَ وَیَھْدِیَکَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا.(الفتح ۴۸: ۱-۲)
’’ہم نے تمہیں ایک کھلی ہوئی فتح عطا فرمائی تاکہ اللہ تمہاری اگلی اور پچھلی لغزشیں معاف فرمائے اور تم پر اپنی نعمت تمام کرے اور تمہیں ایک سیدھی راہ کی ہدایت بخشے۔‘‘
’فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ‘ کی وضاحت اس کے محل میں ہو چکی ہے کہ جب تسبیح اور حمد کے الفاظ ساتھ ساتھ آئیں تو تسبیح کے اندر تنزیہہ کا پہلو غالب ہوتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کو ان باتوں سے پاک قرار دینا جو اس کی شان الوہیت کے منافی ہیں اور حمد کے اندر ان صفات کا اثبات ہوتا ہے جن سے وہ فی الحقیقت موصوف ہے۔ ان دونوں کے صحیح امتزاج ہی سے حقیقی توحید وجود میں آتی ہے جو ایمان کی بنیاد ہے۔
_____
۱ ملاحظہ ہو تدبر قرآن۔ جلد ششم۔ صفحات: ۴۳۶-۴۴۰۔