تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 111. Al-Masad · Ayah 1
تَبَّتْ یَدَاۤ اَبِیْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ﴿1﴾
- تَبَّتْٹوٹ گئے
- يَدَآدونوں ہاتھ
- اَبِيْ لَهَبٍابولہب
- وَّتَبَّاور وہ ہلاک ہوا
Translation · Tadabbur-e-Quran
ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ خود بھی ڈھے گا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’تبت یداہ‘ کا مفہوم: ’تَبٌّ‘ کے معنی ہلاک ہونے اور خسارہ میں پڑنے کے ہیں۔ اسی سے ’تبت یدا فلان‘ کا محاورہ نکلا ہے جس کے معنی یہی ہو سکتے ہیں کہ فلاں کے دونوں ہاتھ حصول مقصد میں ناکام وعاجز رہے۔ دونوں ہاتھوں کی ناکامی اور بے بسی کامل بے بسی کی تعبیر ہے۔ اگر کہیں کہ ’تبت یداہ‘ تو اس کا مفہوم یہ ہو گا کہ وہ مقابلہ کرنے سے بالکل عاجز ہو گیا۔ اسی طرح ’کسر ید‘ یعنی ہاتھ توڑ دینا، کسی کا زور توڑ دینے کی تعبیر ہے۔ فند الزمانی کا شعر ہے:
وترکنا دیار تغلب تفرا
وکسرنا من الفواۃ الجناھا
(یعنی ہم نے تغلب کے علاقہ کو چٹیل بنا کے چھوڑ دیا اور ان کے سرکشوں کے بازو توڑ دیے۔)
عبرانی زبان میں بھی، جو عربی کی بہن ہے، یہ محاورہ استعمال ہوا ہے۔ صحیفہ ذی الکفل کے باب۳ آیات ۲-۲۲ کے فقرے ملاحظہ ہوں:
’’گیارھویں برس کے پہلے مہینہ کی ساتویں تاریخ کو یوں ہوا کہ خداوند کا کلام مجھے پہنچا اور اس نے کہا کہ اے آدم زاد میں نے مصر کے بادشاہ، فرعون کا بازو توڑا اور دیکھ وہ باندھا نہیں جائے گا اور دوا کی تدبیر کر کے اس پر پٹیاں نہیں کی جائیں گی کہ تلوار پکڑنے کے لیے مضبوط ہو۔ اس لیے خداوند یہوہ یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں مصر کے بادشاہ، فرعون کا مخالف ہوں اور اس کے بازووں کو، اسے جو پرزور ہے اور اسے جو ٹوٹا تھا، توڑوں گا اور اس کے ہاتھ سے تلوار گراؤں گا۔‘‘
اس سے معلوم ہوا کہ اس لفظ کے اندر ہجو و مذمت کا کوئی پہلو نہیں ہے بلکہ یہ صرف ابو لہب کے اقتدار کے زوال اور اس کی تباہی کی پیشین گوئی ہے۔ یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ یہاں اس کا ذکر کنیت کے ساتھ ہوا ہے اور اہل عرب جب کسی کا ذکر کنیت کے ساتھ کرتے ہیں تو اس میں فی الجملہ احترام مدنظر ہوتا ہے۔
ایک سوال اور اس کا جواب: یہاں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ پورے قرآن میں آنحضرت ﷺ کے دشمنوں میں سے کسی کا ذکر بھی اس کے نام کی تصریح کے ساتھ نہیں ہوا پھر ابولہب ہی کی کیا خصوصیت تھی کہ اس کا ذکر اس کے نام سے ہوا؟
اس کا جواب یہ ہے کہ خاص اہتمام کے ساتھ اس کا ذکر کرنے کی یوں تو کئی وجہیں ہو سکتی ہیں لیکن دو باتیں خاص اہمیت رکھتی ہیں جن کا ذکر ہم یہاں کریں گے۔
ایک یہ کہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ ابولہب کی عداوت کی نوعیت دوسرے مخالفوں کی عداوتوں سے بہت مختلف تھی۔ قریش کے دوسرے لیڈروں کو آپ سے جو اختلاف تھا اس کی بڑی وجہ صرف یہ تھی کہ آپ کی دعوت کو دین آبائی کے خلاف سمجھتے تھے، یہ وجہ نہیں تھی کہ وہ اس میں اپنے ذاتی اغراض ومفادات کے لئے کوئی خطرہ محسوس کرتے ہوں۔ آپ جن مکارم اخلاق کی دعوت دیتے تھے ان کی عزت ان کے دلوں میں بھی تھی۔ آپ یتیموں اور مسکینوں اور غلاموں کے ساتھ جس حسن اخلاق پر لوگوں کو ابھارتے تھے قریش کے بہت سے شریفوں کے اندر اس کے لیے بھی بڑا احترام تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ یہ سارے کام ہوں۔ اور اس معاملہ میں ان کو آنحضرت ﷺ کے ساتھ حسن ظن بھی تھا اس لیے کہ وہ آپ کو تمام اعلی اوصاف سے عملاً متصف پاتے تھے۔ ان کو غصہ تھا تو اس بات پر تھا کہ اپنی دعوت میں آپ ان کے بتوں کی تحقیر کرتے ہیں۔ سورۂ کافرون کی تفسیر میں ہم ذکر کر چکے ہیں کہ وہ اس بات پر آمادہ تھے کہ آنحضرت ﷺ ان کے بتوں کے معاملے میں اپنا لب ولہجہ کچھ نرم کر دیں تو وہ بھی آپ کی دعوت کے معاملہ میں اپنی روش تبدیل کر دیں گے۔
ابولہب کا ذکر نام کے ساتھ کیے جانے کے وجوہ: اس کے برعکس ابولہب کی مخالفت تمام تر اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے تھی۔ وہ بیت اللہ کے بیت المال کا نگران تھا اور اپنے زمانے میں اس نے اس طرح اس پر قبضہ کر رکھا تھا کہ اس کا بڑا حصہ یتیموں، مسکینوں اور حاجیوں کے بجائے اس کے اپنے جیب میں جاتا جس کی بدولت وہ اپنے زمانے میں قارون بن گیا۔ اس نے جب آنحضرت ﷺ کی مکارم اخلاق کی دعوت اور بیت اللہ کے مقصد تعمیر کی آیتیں سنیں۱ تو اسے محسوس ہوا کہ اس کے احتساب کا وقت قریب آ رہا ہے۔ اگر جلد سے جلد آپ کی دعوت کو دبانے کی اس نے تدبیر نہ کی تو ان تمام مفادات سے اسے دست بردار ہونا پڑے گا جن سے وہ اس وقت بے روک ٹوک بہرہ مند ہو رہا ہے۔ چنانچہ وہ کمر باندھ کے آپ کی دعوت کی مخالفت کے لئے اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کے کردار کی تصویر سورۂ ھمزہ اور بعض دوسری سورتوں میں کھینچی گئی ہے۔ جن لوگوں کی مخالفت یا موافقت ذاتی اغراض سے بالا تر کسی مقصد کے لیے ہوتی ہے، اگرچہ وہ مقصد غلط ہی ہو، ان کے اندر فی الجملہ شرافت ہوتی ہے برعکس اس کے جس کی مخالفت و موافقت محض اس کی ذات کے مفاد کے اردگرد گھومتی ہے وہ شرافت سے بالکل تہی ہوتی ہے۔ یہی رمز ہے کہ ابوجہل اور ابوسفیان کی مخالفت اور ابو لہب کے انداز مخالفت میں نمایاں فرق نظر آتا ہے اور یہی فرق ہے جو سبب ہوا اس بات کا کہ اس عدو کا ذکر خاص طور پر نام لے کر کیا جائے تاکہ لوگوں پر یہ حقیقت واضح ہو کہ کس کردار کے لوگ حق کے اصلی دشمن ہوتے ہیں اور اللہ تعالی ان کے ساتھ کیا معاملہ کرتا ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ اس سے حضرات انبیاء علیہم السلام کی دعوت کا مزاج ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں وصل اور فصل کی بنیاد صرف اللہ کا دین ہے۔ وہ لوگ نبی کے ساتھی اور محبوب و محب بن جاتے ہیں جو اللہ کے دین کو اختیار کر لیتے ہیں اگرچہ وہ کتنے ہی دور کے ہوں اور وہ لوگ کاٹ پھینکے جاتے ہیں جو اللہ کے دین کے مخالف ہوتے ہیں، اگرچہ باعتبار نسب و رشتہ وہ نبی کے کتنے ہی قریبی ہوں۔ اسی حقیقت کے اظہار کے لیے قرآن مجید میں حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے باپ اور حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کے واقعات نہایت خاص اہتمام کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ اسی مقصد سے یہاں ابولہب کا ذکر خاص اہتمام کے ساتھ ہوا ہے تاکہ یہ حقیقت واضح کر دی جائے کہ اللہ تعالی کے نزدیک خاندان اور نسب کوئی چیز نہیں ہے۔ ایک گڈریا رسول کا محب اور محبوب بن سکتا ہے اگر وہ اس کی دعوت قبول کر لیتا ہے اور اگر اس کا چچا بھی اس کی دعوت کو رد کر دے تو اس کا تعلق بھی اللہ اور رسول سے یک قلم ختم ہو جاتا ہے۔ سورۂ کافرون میں اہل کفر سے براء ت کا جو اعلان ہے یہ گویا اس کی عملی شہادت ہے۔
ایک اور سوال اور اس کا جواب: یہاں ایک سوال یہ بھی سامنے آتا ہے کہ ابو لہب کے اقتدار کے زوال کی پیشین گوئی کے لیے تو ’تَبَّتْ یَدَآ أَبِیْ لَہَبٍ‘ کے الفاظ بظاہر بالکل کافی ہیں، پھر اس کے بعد ’وتب‘ کا لفظ لانے کا کیا خاص فائدہ ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ پہلے ٹکڑے میں اس کی سیاسی قوت کے ٹوٹ جانے کی پیشین گوئی ہے اور اس دوسرے میں اس کی اپنی ذات کے خاتمہ کی طرف اشارہ ہے۔ چنانچہ یہ پیشین گوئی ٹھیک ٹھیک اسی طرح پوری بھی ہوئی۔ غزوۂ بدر میں قریش کے جو سردار مارے گئے ان میں سے اس کے بہت سے خاص حامی تھے جن کی موت سے اس کی سیاسی ساکھ کو بہت نقصان پہنچا۔ پھر غزوۂ بدر کے کچھ ہی بعد وہ خود چیچک میں مبتلا ہوا۔ اس بیماری کے دوران چھوت سے اندیشہ سے، نہ اس کے ساتھیوں نے اس کی خبر گیری کی نہ اس کے بیٹوں اور خاندان کے عزیزوں نے۔ اس بے کسی کے حال میں اس نے جان دی اور لاش کئی دن تک گھر ہی میں پڑی سڑتی رہی۔ بالآخر لوگوں کے طعنوں سے تنگ آ کر اس کے بیٹوں نے کرایہ کے کچھ حبشیوں کی مدد سے لاش مکہ کے بالائی حصہ میں پھنکوائی اور دور دور ہی سے اس پر پتھر وغیرہ ڈال کر ڈھانک دی۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ کسی پر پتھر پھینکنا اس پر لعنت کرنے کے ہم معنی ہے۔
علاوہ ازیں یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ غزوۂ بدر میں، قریش کے سردار پورے جوش وخروش سے شریک ہوئے، لیکن ابولہب نے بزدلی کے سبب سے شرکت نہیں کی بلکہ ایک دوسرے شخص کو، جس پر اس کا کچھ قرض آتا تھا، جس کی وصولی کی توقع باقی نہیں رہی تھی، اس نے مجبور کیا کہ وہ اس قرض کے عوض میں اس کی طرف سے جنگ میں شریک ہو۔ چنانچہ وہ شریک ہوا اور غالباً مارا بھی گیا اور یہ بزدل گھر میں بیٹھا رہا لیکن یہ تدبیر بھی بھی اس کو موت سے بچانے میں کارگر نہ ہو سکی۔ اس جنگ کے تھوڑے ہی عرصہ بعد، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، یہ چیچک میں مبتلا ہو کر نہایت ذلت کی موت مرا۔ ہمارے نزدیک ’وتب‘ کا لفظ اس کے اسی انجام کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
_____
۱ اس گروپ کی سورتوں میں سے بھی متعدد سورتوں میں یہ مضمون بیان ہوا ہے۔ مثلاً سورۂ بلد، سورۂ فیل اور سورۂ قریش وغیرہ میں۔