تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 111. Al-Masad · Ayah 2
مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَؕ﴿2﴾
- مَآ اَغْنٰىنہ کام آیا
- عَنْهُاس کے
- مَالُهٗاس کا مال
- وَمَا كَسَبَاور جو اس نے کمایا
Translation · Tadabbur-e-Quran
نہ اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ اس کی کمائی۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
روپیہ کی بڑی سے بڑی مقدار بھی خدا کی پکڑ سے نہیں بچا سکتی: روپیہ کے حریص روپیہ ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے ذہن کے اندر یہ خناس سما جاتا ہے کہ اگر روپیہ ہے تو وہ خدا کی گرفت سے بھی محفوظ ہیں۔ سورۂ ھمزہ میں زرپرست بخیلوں کی ذہنیت سے یوں پردہ اٹھایا گیا ہے:
الَّذِي جَمَعَ مَالا وَعَدَّدَهٗ۔ يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهٗٓ أَخْلَدَهٗ۔ الھمزہ: ۲-۳
(جس نے مال جمع کیا اور اس کو گن گن کر رکھا گمان کرتے ہوئے کہ اس کا مال اس کو ہمیشہ رکھے گا۔)
ہم نے اس آیت کی تفسیر کے تحت لکھا ہے کہ یہ درحقیقت ابولہب اور اس کے ہم مشربوں کی تصویر ہے۔ اسی طرح کے لوگ کبھی یہ نہیں سوچتے کہ انہیں خدا سے بھی سابقہ پیش آنے والا ہے اور وہ ان کو کسی ایسی آزمائش میں ڈال سکتا ہے جس سے روپیہ کی بےحقیقتی بالکل واضح ہو جائے گی۔ ابولہب اسی خبط میں عمر بھر پڑا رہا بالآخر اس پر وہ گردش آئی کہ اس نے اپنی آنکھوں دیکھ لیا کہ روپیہ کی بڑی سے بڑی مقدار بھی خدا کی پکڑ سے انسان کو نہیں بچا سکتی۔
’وَمَا کَسَبَ‘ کی تاویل: ’وَمَا کَسَبَ‘ کی تاویل میں مفسرین سے کئی قول منقول ہیں۔ بعض لوگوں نے اس سے اس کے بیٹوں کو مراد لیا ہے۔ اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ آخر میں، جیسا کہ اوپر ہم نے اشارہ کیا ہے، اس کے بیٹے بھی اس کے کچھ کام نہ آئے لیکن اس تاویل میں تکلف ہے۔ بعض لوگوں نے اس سے اس کی وہ کمائی مراد لی ہے جو اس نے حرام راستوں سے حاصل کی، لیکن اس مفہوم کے لیے اول تو یہ لفظ کچھ موزوں نہیں ہے۔ ثانیاً ’مَآ أَغْنٰی عَنْہُ مَالُہٗ‘ کے بعد اس کی کچھ ضرورت باقی نہیں رہتی۔ ہمارے نزدیک اس سے اس کے وہ اعمال مراد ہیں جو اس نے اپنی دانست میں نیکی کے سمجھ کے کیے لیکن اس کے خبث باطن اور شرک کے سبب سے وہ بھی رائگاں ہو گئے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ وہ بیت اللہ کے شعبۂ مالیات کا انچارج تھا اس وجہ سے اسے غریبوں، مسکینوں اور حاجیوں کی خدمت کے کچھ کام کرنے ہی پڑتے تھے۔ لیکن یہ محض نمائش کے لیے مجبوراً نہ صرف اس غرض سے کیے جاتے کہ اس کی خیانتوں پر پردہ پڑا رہے۔ اس طرح کے کام خدا کے ہاں درخور اعتناء نہیں ٹھہرتے۔