تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 111. Al-Masad · Ayah 3
سَیَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍۚۖ﴿3﴾
- سَيَصْلٰىعنقریب داخل ہوگا
- نَارًاآگ
- ذَاتَ لَهَبٍشعلے مارتی
Translation · Tadabbur-e-Quran
وہ بھڑکتی آگ میں پڑے گا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آخرت میں جس انجام سے وہ دوچار ہو گا: پچھلی دونوں آیتوں میں اس کا وہ حشر بیان ہوا ہے جو اس دنیا میں اس کے سامنے آیا۔ اب یہ اس کا وہ انجام بیان ہو رہا ہے جس سے وہ آخرت میں دوچار ہو گا۔ فرمایا کہ وہ بھڑکتی آگ میں پڑے گا۔ یہاں آگ کی صفت ’ذَاتَ لَہَبٍ‘ ہو گی۔ ’لَہَبٌ‘ کے معنی شعلہ کے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ سرخ و سپید شعلہ رو تھا اس وجہ سے اس نے یا تو خود یہ کنیت اختیار کی یا اس کے خوشامدیوں نے اس سے اس کو پکارا اور یہ اتنی مشہور ہوئی کہ اس کا اصل نام۔۔۔ عبد العزّٰی۔۔۔ غائب ہو گیا۔ قرآن نے یہاں اس کا یہ انجام بیان کر کے یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ اس دنیا میں اس کو اپنی جس شعلہ روئی پر ناز رہا آخرت میں یہ اس کے لیے وبال بنے گی۔ وہ شعلوں والی آگ میں جھونکا جائے گا جس سے یہ سبق ملتا ہے کہ ظاہر کا حسن کوئی فخر کی چیز نہیں ہے۔ بلکہ یہ آدمی کے لیے وبال بن سکتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ باطن کا حسن نہ ہو۔