تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 111. Al-Masad · Ayah 4
وَّ امْرَاَتُهٗ١ؕ حَمَّالَةَ الْحَطَبِۚ﴿4﴾
- وَّامْرَاَتُهٗاور اس کی بیوی
- ۭ حَمَّالَةَلادنے والی
- الْحَطَبِلکڑی (ایندھن)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس کی بیوی بھی ایندھن ڈھوتی ہوئی۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فرمایا کہ اس کی بیوی بھی ایندھن ڈھوتی ہوئی اس کے ساتھ جہنم میں پڑے گی۔ عذاب میں اس کی بیوی کی یہ شرکت اسی صورت میں مطابق عدل ہے جب وہ بھی اس کے ان جرائم میں شریک رہی ہو جو اس کو جہنم میں لے جانے والے بنے۔ آدمی کے بیوی بچے بسا اوقات اس کے لیے ایسے جرائم کا سبب بن جاتے ہیں جو اس کی تباہی کا بھی سبب بنتے ہیں اور بیوی بچوں کی بھی۔ اسی بنا پر قرآن میں اہل ایمان کو خبردار کیا گیا ہے کہ
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِکُمْ وَاَوْلَادِکُمْ عَدُوًّا لَّکُمْ فَاحْذَرُوْھُمْ.(التغابن ۶۴: ۱۴)
(اے ایمان والو، تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں بعض تمہارے دشمن بھی ہیں تو ان سے بچ کے رہو۔)
بیوی بچوں کے دشمن ہونے کی شکل یہی ہو سکتی ہے کہ ان کی بے جا خواہشوں اور فرمائشوں کی تعمیل اور ان کی غلط نازبرداریوں کے فتنہ میں مبتلا ہو کر آدمی خدا کے احکام و حدود کی پاس داری سے غافل اور بخل و خیانت کا مرتکب ہو جائے۔ بیوی بچوں کو اسی پہلو سے فتنہ قرار دیا گیا ہے اور نبی کریم ﷺ نے متنبہ فرمایا ہے کہ آدمی کی اولاد اس کو بخل اور بزدلی میں مبتلا کرنے والی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ابولہب کی بیوی بگڑی ہوئی بیگمات کی طرح فیشن کی دلدادہ، زیورات کی شوقین، دولت کی حریص اور نمائش کی رسیا تھی۔ اس نے ابولہب کے بگڑے ہوئے مزاج کو اور بگاڑا۔ یہاں تک کہ وہ بھی اسی عذاب کی مستحق ٹھہری جس میں اس کا شوہر داخل ہوا۔
’حَمَّالَۃَ الۡحَطَبِ‘ کی تاویل: ’حَمَّا لَۃَ الْحَطَبِ‘ کی تاویل میں بڑا اختلاف منقول ہے۔ اکثر مفسرین کی رائے تو یہ ہے کہ یہ بطور ہجو و تحقیر، اس کی وہ حالت بیان ہوئی ہے جو اس کی اس دنیا میں تھی۔ وہ لونڈیوں کی طرح گلے میں رسی ڈال کر جنگل جاتی اور سر پر ایندھن کا گٹھڑ لاد کر لاتی۔ یہ قول سب سے زیادہ مشہور ہے لیکن یہ جتنا ہی مشہور ہے اتنا ہی خلاف عقل و قیاس ہے۔
یہ امر یاد رکھیے کہ عرب کی عنان حکومت قریش کے ہاتھ میں تھی۔ خاص طور پر بنی ہاشم تو پورے عرب کے سرتاج تھے۔ ابولہب یوں تو خاندانی صاحب ثروت و دولت تھا پھر اس زمانے میں، جس کا ذکر ہے، اس کو قریش کی مذہبی حکومت میں اتنا اونچا مقام حاصل ہو گیا تھا کہ یہ کہنا مبالغہ نہیں ہے کہ پوری حکومت عملاً اس کے انگوٹھے کے نیچے آ گئی تھی۔ کیا یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے دولت مند لیڈر کی بیگم لونڈیوں کی طرح ایندھن ڈھونے کا کام کرے گی! ان لوگوں کا حال تو یہ تھا کہ ایک ایک خوش حال کے پاس درجنوں لونڈیاں اور غلام ہوتے اور ان کی بیگمات کی نازک مزاجی اس حد کو پہنچی ہوئی تھی کہ وہ اپنے بچوں کو دودھ پلانا بھی کسرشان سمجھتی تھیں۔ ان کے عام آدمی بھی اپنے بچوں کو دوسرے قبیلوں کی دائیوں سے دودھ پلواتے۔
پھر ابولہب کی بیوی بھی کوئی معمولی عورت نہیں تھی۔ یہ ام جمیل بنت حرب، خاندان بنی عبدالشمس کی ایک نہایت باعزت خاتون تھی جو ہاشمی خاندان میں بیاہی گئی۔ اس کے شوہر کا جو مرتبہ حکومت میں تھا اس کا اعتبار کیجیے تو یہ کہنا مبالغہ نہیں ہو گا کہ اس کو اس وقت قریش میں وہی درجہ حاصل تھا جو اس زمانے میں کسی قوم کے اندر ان بیگم صاحبہ کو حاصل ہوتا ہے جو خاتون اول کہلاتی ہیں۔
غالباً انہی اعتراضات سے بچنے کے لیے بعض لوگوں نے اس کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ وہ خاردار جھاڑیاں لا لا کر نبی ﷺ کے دروازے پر ڈالتی تھی اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اس کے اندر لگانے بجھانے کی عادت تھی جس کی تعبیر ’حَمَّا لَۃَ الْحَطَبِ‘ سے کی گئی ہے۔ یہ اقوال اس قدر کمزور اور عربیت سے اس درجہ بعید ہیں کہ ان پر تنقید کرنا محض اپنا اور قارئین کا وقت ضائع کرنا ہے، اس وجہ سے ہم ان سے صرف نظر کرتے ہیں۔ اگر کسی کو تفصیل مطلوب ہو تو وہ مولانا فراہی علیہ الرحمۃ کی تفسیر میں ان پر تنقید پڑھ لے۔
ہمارے نزدیک ’حَمَّا لَۃَ الْحَطَبِ‘ ترکیب میں حال پڑا ہوا ہے اور اس کی یہ حالت اس وقت کی بیان ہوئی ہے جب وہ اپنے شوہر کے ساتھ دوزخ میں پڑے گی۔ اس وقت اس کا حال اس مجرم کا سا ہو گا جواپنی سولی کا تختہ اور اپنے جلانے کا ایندھن خود اٹھائے ہوئے ہو۔
حال کے سوا کوئی اور ترکیب اس کی ازروئے عربیت صحیح نہیں ہو سکتی اور اس صورت میں وہ تمام اقوال ازخود بے معنی ہو جاتے ہیں جو اوپر مذکور ہوئے اس لیے کہ حالیت کی صورت میں ان کو قبول کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔
قیامت کے دن مجرموں کا جو حال ہو گا اس کی تصویر قرآن میں جگہ جگہ کھینچی گئی ہے اس پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ’حَمَّا لَۃَ الْحَطَبِ‘ کے الفاظ سے جو تصویر ابولہب کی بیوی کی سامنے آتی ہے وہ ٹھیک ٹھیک اسی کے مطابق ہے۔ مثلاً فرمایا ہے:
وَھُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَھُمْ عَلٰی ظُھُوْرِھِمْ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ.(الانعام ۶: ۳۱)
(اور وہ اپنے بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے اور سن لو کہ نہایت ہی بری چیز ہو گی جو وہ اٹھائے ہوئے ہوں گے۔)
اس سے زیادہ وضاحت سورۂ نحل میں ہے:
لِیَحْمِلُوْٓا اَوْزَارَھُمْ کَامِلَۃً یَّوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَمِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَھُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ.(النحل ۱۶: ۲۵)
(تاکہ وہ اٹھائیں اپنے بوجھ قیامت کے دن پورے پورے اور ساتھ ہی ان لوگوں کے بوجھ کا بھی کچھ حصہ جن کو وہ بغیر کسی علم کے گمراہ کر رہے ہیں۔)
اس سے معلوم ہوا کہ وہ اپنے گناہوں کا بوجھ بھی اٹھائے ہوئے ہو گی اور ابولہب کے جن گناہوں کی وہ محرک بنی ہو گی کچھ بوجھ ان کا بھی اس کو اٹھانا پڑے گا اور یہ بوجھ اس کے جلانے کے ایندھن کی صورت میں ہو گا۔
اس تفصیل سے یہ حقیقت بھی اچھی طرح واضح ہو گئی کہ ابولہب کی بیوی کے ذکر سے مقصود یہاں اس کی مذمت اور ہجو کر کے دل کو تسلی دینا نہیں ہے، جیسا کہ عام طور پر لوگوں نے گمان کیا ہے، بلکہ اصل مقصود لوگوں، بالخصوص طبقۂ نسواں کو، اس کے انجام سے عبرت دلانا ہے کہ ایک بگڑی ہوئی عورت کس طرح اپنی تباہی کا بھی سامان کرتی ہے اور اپنے شوہر اور اپنی اولاد کی تباہی کا بھی۔ قرآن نے مردوں کے پہلو بہ پہلو عورتوں کا ذکر اسی لیے کیا ہے کہ ہر طبقہ اپنے طبقہ کے لوگوں کے حال اور انجام سے زیادہ بہتر طریقہ پر سبق حاصل کر سکتا ہے۔ یہ عورت دنیوی اعتبار سے چونکہ اونچے طبقہ سے تعلق رکھنے والی تھی اس وجہ سے اس کے انجام سے لونڈیاں اور بیگمات دونوں عبرت حاصل کر سکتی ہیں۔