تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 113. Al-Falaq · Ayah 3
وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ﴿3﴾
- وَمِنْ شَرِّاور شر سے
- غَاسِقٍاندھیرا
- اِذَا وَقَبَجب وہ چھاجائے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اندھیرے کی آفت سے جب وہ چھا جائے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
شر کا وجود مستقل بالذات نہیں ہے: ’غَاسِقٌ‘ رات کو کہتے ہیں جب شفق غائب ہو جانے کے بعد اس کی تاریکی بڑھ جائے۔ ’وَقَب‘ کے معنی تاریکی چھا جانے کے ہیں۔ اہل لغت نے ’غَاسِقٌ‘ کے معنی چاند کے بھی لکھے ہیں لیکن یہاں ’اِذَا وَقَبَ‘ کا قرینہ اشارہ کر رہا ہے کہ اس سے مراد رات ہی ہے۔ اس لیے کہ اس کی تاریکی جب بڑھتی ہے تو اپنے دامن میں آفتیں لیے ہوئے بڑھتی ہے۔
یہ ٹکڑا بہترین مثال ہے اس بات کی کہ اس دنیا میں شر کا وجود مستقل بالذات نہیں ہے کہ خیر و شر کے خالق الگ الگ مانے جائیں اور دونوں کی دہائی دی جائے بلکہ، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، یہ چیز اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیزوں ہی کے متعلقات و حواشی میں سے ہے اس وجہ سے اس سے بچنے کے لیے کسی غیر اللہ کی نہیں بلکہ اللہ ہی کی پناہ ڈھونڈنی اور اسی کی دہائی دینی چاہیے۔
قرآن میں یہ بات جگہ جگہ بیان ہوئی ہے کہ اس دنیا کے بقا کے لیے جس طرح دن اور اس کی روشنی و حرارت ضروری ہے اسی طرح رات اور اس کی خنکی و سکون بخشی بھی ضروری ہے، پھر ظاہری تضاد کے باوصف دنیا کے بقا میں ان دونوں کے توافق کو توحید کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہاں اسی رات کے شر سے پناہ مانگنے کی دعا تلقین کر کے گویا یہ درس دیا گیا ہے کہ رات کی جو تاریکی تمہاری راحت کے لیے ناگزیر ہے اسی کے ظلال و آثار میں سے یہ چیز بھی ہے کہ اس میں چور، قاتل، دشمن اور حشرات و ہوام نکلتے ہیں جن سے تمہیں نقصان پہنچ سکتا ہے۔ شب کے سکون میں ان غیر مطلوب چیزوں کی مداخلت سے یہ نتیجہ نکالنا تو بالکل غلط ہو گا کہ رات کا خالق کوئی اور ہے اور ان کے نمودار ہونے والے ان ناخواندہ مہمانوں کا خالق کوئی اور، پھر دونوں کی دہائی پکاری جائے۔ بلکہ صحیح اور موافق عقل و فطرت بات یہی ہو سکتی ہے کہ ان دونوں کا خالق ایک ہی ہے۔ اسی نے رات کا سکون بخشا ہے اور وہی اس میں خلل انداز ہونے والی آفتوں سے پناہ دے سکتا ہے۔ یعنی جس طرح اس کی برکتیں خدا ہی کے فیض سے ہیں اسی طرح اس کی زحمتیں بھی اسی کے اذن سے ہیں۔ پس ہر حال میں مرجع اسی کو بنانا چاہیے۔
یہاں وہ بات یاد رکھیے جس کی طرف ہم نے پیچھے اشارہ کیا کہ شر کے وجود کی اس نوعیت کو نہ سمجھ سکنے کے سبب ہی سے نادانوں نے شر کو بھی مستقل حیثیت دے دی اور پھر خیر و شر دونوں کے الگ الگ خالق مان کر ثنویت کی بنیاد رکھ دی۔ قرآن نے یہاں بہترین مثال دے کر واضح کر دیا کہ شر کی اصل حیثیت کیا ہے اور اس سے پناہ دینے والا کون ہے۔