تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 113. Al-Falaq · Ayah 4
وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِۙ﴿4﴾
- وَمِنْ شَرِّاور شر سے
- النَّفّٰثٰتِپھونکیں مارنے والیاں
- فِي الْعُقَدِگرہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور گرہوں میں پھونک مارنے والوں کی آفت سے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
مادی اور محسوس آفات سے پناہ مانگنے کے بعد یہ روحانی و اخلاقی آفتوں سے پناہ مانگنے کی تلقین کی ہے۔
روحانی آفات سے پناہ مانگنے کا طریقہ: ’نَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ‘ کے معنی گرہوں میں پھونک مارنے والوں کے ہیں۔ اگرچہ یہ مؤنث ہے لیکن اس سے عورتوں کو مراد لینا لازم نہیں ہے۔ عربیت کے قاعدہ سے آپ اس سے ارواح خبیثہ اور نفوس خبیثہ مراد لے سکتے ہیں؛ عام اس سے کہ وہ مرد ہوں یا عورتیں اور قطع نظر اس سے کہ ان کا اشارہ یہود و مجوس کی طرف ہو یا عرب کے ساحروں اور کاہنوں کی طرف۔
گرہوں میں پھونک مارنے کا یہ طریقہ ٹونے ٹوٹکے اور گنڈے کا عمل کرنے والے اختیار کرتے ہیں۔ وہ دھاگے یا تانت پر اپنے تصور کے مطابق کچھ پڑھ کر پھونکتے اور گرہیں لگاتے جاتے ہیں۔ اور ان کے زعم کے مطابق ان کا معمول اس طرح ان کے دام میں اسیر ہو جاتا ہے اور پھر وہ اس کو جو اذیت پہنچانا چاہتے ہیں پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس صفت سے ان کا ذکر کرنے سے مقصود ان کے بھگل کی تصویر کھینچنا ہے۔ یہ اسی طرح کی تصویر ہے جس طرح سورۂ شعراء میں کاہنوں کے مراقبہ کی تصویر
’یُلْقُوْنَ السَّمْعَ وَأَکْثَرُہُمْ کَاذِبُوْنَ‘ (الشعراء ۲۶: ۲۲۳)
(اور وہ کان لگا کر بیٹھتے ہیں اور ان میں کے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں)
کے الفاظ سے کھینچی گئی ہے۔ میرے نزدیک اس سے مقصود اس چیز کی لغویت کی طرف اشارہ کرنا ہے۔
رہا یہ سوال کہ یہ اعمال سِفلیہ کچھ مؤثر ہوتے ہیں یا نہیں تو اس سوال پر ہم سورۂ بقرہ کی آیت ۱۰۲ کے تحت، بضمن قصۂ ہاروت و ماروت، اپنی رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔۱ ہمارے نزدیک اس کا اکثر حصہ، جیسا کہ سورۂ شعراء کی محولہ بالا آیت سے معلوم ہوتا ہے محض ڈھونگ اور بھگل ہے لیکن اس کے اندر اگر کچھ حقیقت ہے بھی تو قرآن میں یہ تصریح ہے کہ یہ مؤثر بالذات نہیں ہیں بلکہ ان سے کسی کو ضرر پہنچایا جا سکتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے اذن ہی سے پہنچایا جا سکتا ہے۔ چنانچہ سحر اور اعمال سفلیہ ہی سے متعلق فرمایا ہے:
’وَمَا ہُم بِضَآرِّیْنَ بِہٖ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ بِإِذْنِ اللّٰہِ‘ (البقرہ ۲: ۱۰۲)
(اور اس کے ذریعہ سے وہ کسی کو ضرر پہنچانے والے نہیں بن سکتے مگر اللہ کے اذن سے)
تو جب ان سے کوئی ضرر اللہ کے اذن ہی سے پہنچ سکتا ہے تو معلوم ہوا کہ اس شر سے بچنے کے لیے بھی اللہ کے سوا کسی اور کی پناہ ڈھونڈھنے کی حاجت باقی نہیں رہی۔
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی حفاظت کرتا ہے جو اس کو یاد رکھتے ہیں: اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ لوگ اپنے ذہن جس طرح کے بناتے ہیں ان کے ساتھ وہ اسی طرح کا معاملہ کرتا ہے۔ ایک شخص اگر اپنا تعلق اپنے رب سے استوار رکھتا ہے لاطائل اوہام سے اپنے کو بچاتا ہے، خدا کی یاد سے اپنے دل کو آباد رکھتا ہے، اگر کوئی افتاد پیش آتی ہے تو اس میں رہنمائی اور استعانت کے لیے اپنے رب ہی کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص پر شیطان کو غلبہ پانے نہیں دیتا۔ اگر اتفاق سے اس کو کوئی چھوت لگتی بھی ہے تو اللہ کی طرف توجہ اس کے شر سے اس کو بچا لیتی ہے۔
اس کے برعکس اگر کوئی شخص بالکل منفعل مزاج اور وہمی ہوتا ہے۔ عقل و بصیرت سے کام لینے کے بجائے وساوس میں مبتلا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ پر مضبوط بھروسہ رکھنے کے بجائے اپنے دل کے دروازے شبہات و شکوک کے لیے کھول دیتا ہے تو اس طرح کا آدمی بالعموم کسی شیطان جن و انس کے ہتھے چڑھ جاتا ہے پھر وہ اس کو ہر وادی میں گردش کراتے ہیں۔ اس گردش سے اپنے کو محفوظ رکھنے کا واحد طریقہ اس سورہ نے یہی بتایا ہے کہ آدمی اپنے کو ہمیشہ اپنے رب کی پناہ میں رکھے، جب کبھی دل میں کوئی دغدغہ محسوس کرے فوراً اس کی امان طلب کرے جس کا بہترین ذریعہ یہ دونوں سورتیں۔۔۔ معوذّتَین۔۔۔ ہیں۔
_____
۱ ملاحظہ ہو تدبر قرآن۔ جلد اول صفحات ۲۳۸-۲۴۴۔