Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 113. Al-Falaq · Ayah 5

  1. وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۠ع﴿5﴾

    1. وَمِنْ شَرِّاور شر سے
    2. حَاسِدٍحسد کرنے والا
    3. اِذَاجب
    4. حَسَدَوہ حسد کرے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور حسد کرنے والے کی آفت سے جب وہ حسد کرے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
حاسدوں کے حسد سے بچنے کی دعا: یہ آخر میں حاسدوں کے حسد کے شر سے بچنے کی دعا سکھائی گئی ہے۔ اگرچہ لفظ ’حَاسِد‘ یہاں عام ہے اور اس کو عام ہی رکھنا چاہیے بھی، اس لیے کہ جس حاسد کا حسد بھی بحرانی شکل اختیار کر لے وہ قابیل کے حسد کی طرح ہابیل کا خون بہا کر ہی اترتا ہے، اس وجہ سے اس سے پناہ مانگتے رہنا چاہیے۔ لیکن سورہ کی تمہید میں ہم واضح کر چکے ہیں کہ بنی آدم کا سب سے بڑا حاسد شیطان ہے اور اس کو خاص کد عقیدۂ توحید سے ہے۔ اس عقیدہ سے برگشتہ کرنے کے لیے اس نے اپنے جس عزم بالجزم کا اظہار کیا ہے اس کے شواہد ہم اوپر نقل کر آئے ہیں۔ یہاں سورۂ بنی اسرائیل کی آیات بھی نقل کیے دیتے ہیں تاکہ ’اِذَا حَسَدَ‘ کے الفاظ کا زور اچھی طرح واضح ہو جائے: قَالَ أَرَءَیۡتَکَ ہٰذَا الَّذِیْ کَرَّمْتَ عَلَیَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ لأَحْتَنِکَنَّ ذُرِّیَّتَہٗٓ إَلاَّ قَلِیْلاً ۵ قَالَ اذْہَبْ فَمَن تَبِعَکَ مِنْہُمْ فَإِنَّ جَہَنَّمَ جَزَآؤُکُمْ جَزَآءً مَّوْفُوْرًا ۵ وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْہُمْ بِصَوْتِکَ وَأَجْلِبْ عَلَیْہِمۡ بِخَیْلِکَ وَرَجِلِکَ وَشَارِکْہُمْ فِی الأَمْوَالِ وَالأَوْلادِ وَعِدْہُمْ وَمَا یَعِدُہُمُ الشَّیْْطَانُ إِلاَّ غُرُوْرًا ۵ إِنَّ عِبَادِیْ لَیْْسَ لَکَ عَلَیْہِمْ سُلْطَانٌ وَکَفٰی بِرَبِّکَ وَکِیْلاً (بنی اسرائیل ۱۷: ۶۲-۶۵) ’’شیطان نے کہا، اچھا یہی ہے وہ جسے تو نے مجھ پر فضیلت بخشی ہے! اگر تو نے مجھے قیامت کے دن تک مہلت بخشی تو میں اس کی ذریت کو چٹ کر جاؤں گا، صرف تھوڑے ہی بچیں گے۔ خدا نے فرمایا، جا، جو ان میں سے تیرے پیرو بنیں گے تو تمہارا بدلہ پورا کرنے کے لیے جہنم کافی ہے تو ان میں سے جن پر تیرا بس چلے ان کو اپنے پراپیگنڈے سے گھبرا لے، ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا لے اور ان کے مال و اولاد میں حصہ بٹا لے اور ان سے پرفریب وعدے کر لے اور شیطان کے سارے وعدے محض فریب ہیں میرے خاص بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں اور تیرا رب اعتماد کے لیے کافی ہے۔‘‘ اس آیت سے اس زور، اس ولولہ اور ان اسباب و وسائل کا اظہار ہوتا ہے جو شیطان انسان کو توحید سے ہٹانے کے لیے بروئے کار لانے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ اسی چیز کی طرف ’اِذَا حَسَدَ‘ کے الفاظ اشارہ کر رہے ہیں یعنی جب کہ یہ حاسد اپنے حسد کے جوش میں اپنے ترکش کے سارے تیر آزمانے پر آمادہ ہو جائے۔ ایک ضعیف روایت: یہ سورہ کسی شان نزول کی محتاج تو نہیں ہے لیکن اس کے تحت لوگوں نے ایک واقعہ نقل کیا ہے جس سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ نبی ﷺ پر العیاذ باللہ کچھ یہودیوں نے ایک زمانہ میں جادو کر دیا تھا جس سے آپ بیمار ہو گئے تو آپ کو یہ سورہ سکھائی گئی اور آپ اس جادو کے اثرات بد سے محفوظ ہوئے۔ اگرچہ دعویٰ یہ کیا جاتا ہے کہ اس جادو کا کوئی اثر آپ کے فرائض نبوت پر نہیں پڑا لیکن ساتھ ہی نہایت سادہ لوحی سے یہ اعتراف بھی لیا گیا ہے کہ اس کا اثر حضور ﷺ پر یہ پڑا کہ آپ گھلتے جا رہے تھے، کسی کام کے متعلق خیال فرماتے کہ کر لیا ہے لیکن نہیں کیا ہوتا، ازواج مطہرات کے متعلق خیال فرماتے کہ ان کے پاس گئے ہیں لیکن نہیں گئے ہوتے، بعض اوقات اپنی نظر پر بھی شبہ ہوتا کہ ایک چیز کو دیکھا ہے مگر نہیں دیکھا ہوتا۔ ان حضرات کے بیان کے مطابق حضور ﷺ کی حالت گھنٹے دو گھنٹے یا دن دو دن نہیں بلکہ پورے چھ ماہ رہی۔ اب سوال یہ ہے کہ جب پورے چھ ماہ آپ پر، العیاذ باللہ، تعطل دماغ کی یہ کیفیت طاری رہی تو کیا یہ امکان مستبعد قرار دیا جا سکتا ہے کہ، العیاذ باللہ، آپ نے خیال فرمایا ہو کہ نماز پڑھ لی ہے درآنحالیکہ نہ پڑھی ہو یا یہ کہ نازل شدہ وحی کاتبین وحی کو لکھوا دی ہے حالانکہ نہ لکھوائی ہو یا یہ کہ جبریل امین کو دیکھا ہے حالانکہ نہ دیکھا ہو؟ ان امکانات کو کس دلیل سے آپ رد کر سکتے ہیں؟ اگر کوئی کہے کہ اس طرح کی کوئی بات روایات میں نہیں ملتی تو ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ روایات میں تمام جزئیات کہاں بیان ہو سکتی ہیں، لیکن ایک ایسے شخص سے جس کی ذہنی حالت آپ کے بیان کے مطابق وہ ہے جو مذکور ہوئی تو اس سے ان باتوں کا صادر ہونا تعجب انگیز نہیں بلکہ نہ صادر ہونا تعجب انگیز ہے۔ میرے نزدیک اس شان نزول کو رد کرنے کے لیے یہ دلیل کافی ہے کہ یہ اس مسلمہ عقیدے کے بالکل منافی ہے جو قرآن نے انبیاء علیہم السلام سے متعلق ہمیں تعلیم کیا ہے۔ عصمت، حضرات انبیاء (علیہم السلام) کی ان خصوصیات میں سے ہے جو کسی وقت بھی ان سے منفک نہیں ہو سکتیں۔ اس عصمت کو اس امر سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا کہ نبی کے دندان مبارک شہید ہو گئے یا وہ زخمی ہو گیا یا وہ قتل کر دیا گیا۔ ان میں سے کوئی چیز بھی اس کی نبوت میں قادح نہیں ہے کہ اس کو آپ اس امر کی دلیل بنائیں کہ جب نبی ان چیزوں میں مبتلا ہو سکتا ہے تو مسحور بھی ہو سکتا ہے یہاں تک کہ اس کو کردہ اور ناکردہ، دیدہ اور نادیدہ میں کوئی امتیاز ہی باقی نہیں رہ جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس طرح کے شیطانی تصرفات سے اپنے نبیوں کو محفوظ رکھا ہے اور ان کی یہ محفوظیت دین کے تحفظ کے لیے ناگزیز ہے۔ یہ محفوظیت ہی نبی کے ہر قول و فعل کو سند بناتی ہے۔ پورا قرآن انبیاء کی عصمت پر گواہ ہے اور ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ ان کی عصمت پر ایمان رکھے۔ شان نزول کے اس واقعے کو اگر روایت کے اصولوں پر جانچا جائے تو اس میں نمایاں ضعف موجود ہے۔ صِحاح کی ایک روایت میں رنگ آمیزی کرنے کے لیے تیسرے درجے کی ضعیف و موضوع روایتوں کا سہارا لیا گیا ہے اور اس کو ایک امر واقعہ کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔ یہ روایت صِحاح میں سے صرف بخاری، مسلم اور ابن ماجہ نے لی ہے اور سند کے تیسرے واسطہ تک یہ خبر واحد ہی رہی ہے۔ حتیٰ کہ بخاری کی ایک روایت میں سفیان بن عینیہ یہ اقرار کرتے ہیں کہ میں نے اسے ابن جریج سے بالکل پہلی مرتبہ سنا۔ گویا اس واقعہ نے نبی ﷺ کے وصال کے سو سال بعد شہرت پائی، اس سے پہلے اس کا علم صرف بعض افراد تک محدود رہا۔ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ، العیاذ باللہ، اگر حضور ﷺ چھ ماہ تک مسحور رہے ہوتے تو یہ واقعہ اتنا غیر معمولی تھا کہ صدر اول ہی میں اس کا چرچا ہو جاتا اور یہ روایت ایک متواتر روایت کی حیثیت سے ہم تک پہنچتی۔ صِحاح کی کسی روایت میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اگر یہ جادو ہوا تو حضور ﷺ پر اس کا اثر کتنا عرصہ رہا۔ اس کے برعکس ان تینوں کتابوں کی متفق علیہ روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ ’حتّٰی اذا کان ذات یوم او ذات لیلۃ دعا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ثم دعا ثم دعا‘ (یہاں تک کہ جب ایک دن یا ایک رات گزر گئی تو رسول اللہ ﷺ نے پے در پے دعا کی) اس سے معلوم ہوا کہ اگر اس کا کوئی اثر آپ کی قوت متخیلہ پر پڑا بھی تو وہ چند گھنٹوں سے زیادہ نہیں رہا۔ پھر آپ نے اللہ تعالیٰ سے بار بار دعا کی اور یہ اثر جاتا رہا۔ اگر ایسا ہوا تو یہ بالکل اسی قسم کی بات ہوئی جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جادوگروں کی رسیوں اور لاٹھیوں کو سانپ سمجھ لیا اور وقتی طور پر گھبرا گئے۔ اس طرح کی کیفیات تھوڑی دیر کے لیے طاری ہو جانا ناممکن نہیں ہوتا۔ یہ کیفیات بطور امتحان بھی نبی کو پیش آ سکتی ہیں لیکن ہوتی یہ وقتی اور عارضی ہیں تاکہ نبی کی عصمت مجروح نہ ہو۔ یہ حقیقت بھی ملحوظ رہے کہ صحاح میں نہ اس واقعہ کو سورہ کے شان نزول کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور نہ یہ بتایا گیا ہے کہ معوذتین کی آیات پڑھ پڑھ کر حضور ﷺ نے کسی تانت کی گرہیں کھولیں۔ یہ چیز واضح کرتی ہے کہ محدثین نے اس واقعہ کو سورۂ فلق سے متعلق نہیں مانا۔ یہ بعد والوں کی ذہانت ہے کہ وہ اس روایت کو معوذتین کے ذیل میں لے آئے۔ حالانکہ، جیسا کہ سورۂ فلق کی تفسیر سے واضح ہوا اور آگے سورۂ ناس کی تفسیر سے واضح ہو گا، ان کا مفہوم اس سے اِبا کرتا ہے کہ ان کے نزول کو کسی مجہول جادوگر کے کسی شیطانی عمل کا نتیجہ قرار دیا جائے۔