تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 114. An-Naas · Ayah 1
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ﴿1﴾
- قُلْکہدیجئے
- اَعُوْذُمیں پناہ میں آتا ہوں
- بِرَبِّ النَّاسِلوگو کے رب کی
Translation · Tadabbur-e-Quran
کہہ، میں پناہ مانگتا ہوں لوگوں کے رب کی ،
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اللہ تعالیٰ کی تین صفتوں کے واسطہ سے تعوّذ: یہ اللہ تعالیٰ کی پناہ اس کی تین صفتوں کے واسطہ سے چاہی گئی ہے اور یہ تینوں صفتیں غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کے ان بنیادی حقوق کو بھی معین کرتی ہیں جو بندوں پر عائد ہوتے ہیں اور پھر یہ رہنمائی بھی دیتی ہیں کہ ان صفات سے جو ذات متصف ہے وہی اہل ہے کہ بندے مشکلات میں اس کی پناہ ڈھونڈیں اور وہی اس لائق ہے کہ وہ بڑے سے بڑے دشمن کے مقابل میں بھی ان کو پناہ دے۔
اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کے حقوق: حقوق کی وضاحت یوں ہوتی ہے کہ جو لوگوں کا پروردگار ہے وہی حق دار ہے کہ لوگوں کا بادشاہ حقیقی ہو اور جو بادشاہ حقیقی ہے وہی حق دار ہے کہ لوگوں کا معبود ہو۔ اگر پروردگار کے سوا کوئی دوسرا لوگوں کا بادشاہ بن کر اپنا قانون اور حکم چلائے تو یہ چیز بھی خلاف عقل و فطرت اور ناجائز ہے اور رب کے سوا اگر کسی اور کو لوگ اپنا معبود بنائیں گے تو یہ چیز بھی خلاف عقل و فطرت اور حرام ہے۔
سورۂ فاتحہ میں ربوبیت ہی کی دلیل پر بندوں کی تمام شکرگزاری کا حق دار اللہ تعالیٰ کو ٹھہرایا گیا ہے اور پھر اسی کو تمام عبادت اور استعانت کا مرجع بتایا گیا ہے۔ وہی بات یہاں بھی فرمائی گئی ہے۔ بس الفاظ مختلف ہیں۔
اللہ تعالیٰ کو ان تین صفتوں سے متصف مان لینے کے بعد غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ شرک کے تمام رخنے بند ہو جاتے ہیں اور ان صفتوں میں ایسا لزوم ہے کہ ایک کو مان لینے کے بعد دوسری صفتوں کو ماننا لازم ہو جاتا ہے۔