تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 114. An-Naas · Ayah 4
مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ١ۙ۬ الْخَنَّاسِ۪ۙ﴿4﴾
- مِنْ شَرِّشر سے
- الْوَسْوَاسِوسوسہ ڈالنے والے
- الْخَنَّاسِچھپ چھپ کر حملہ کرنے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
وسوسہ ڈالنے والے دبک جانے والے کی آفت سے ،
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اس چیز کا بیان جس سے پناہ مانگی گئی ہے: یہ اس چیز کا بیان ہے جس کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے۔ فرمایا کہ کہو میں وسوسہ ڈالنے والے، دبک جانے والے کے شر سے پناہ مانگتا ہوں۔ الفاظ میں اگرچہ تصریح نہیں ہے لیکن ان صفات اور آگے کی تصریح سے واضح ہے کہ مراد اس سے شیطان ہی ہے۔
شیطان کی تکنیک: یہ شیطان کے تکنیک کی وضاحت ہے کہ اس کا سارا اعتماد وسوسہ اندازی، پراپیگنڈے اور پر فریب وعدوں پر ہے۔ انہی چیزوں سے وہ لوگوں کو اپنے دام فریب میں پھنساتا ہے۔ پھر جب پھنسا لیتا ہے تو اپنے کو بری قرار دے کر ان بے وقوفوں کی بد انجامی کا تماشا دیکھتا ہے جو اس کے دام میں پھنس کر اپنی دنیا اور عاقبت برباد کر لیتے ہیں۔
’وسواس‘ (وسوسہ ڈالنے والے) اور ’خنّاس‘ (دبک رہنے والے) کے درمیان حرف ربط نہیں ہے اور اس کے محل میں ہم واضح کر چکے ہیں کہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ دونوں صفتیں موصوف میں بیک وقت موجود ہیں۔
شیطان کا واحد ہتھیار: اس سے ایک حقیقت تو یہ واضح ہوئی کہ شیطان کے پاس واحد ہتھیار صرف وسوسہ اندازی ہے۔ اس کے سوا کوئی اور زور و اختیار اللہ تعالیٰ نے اس کو نہیں بخشا ہے کہ لازماً وہ لوگوں کو گمراہ کر ہی ڈالے۔ پرفریب وعدوں، ملمع کی ہوئی باتوں، ناصحانہ تنبیہات اور دھمکیوں سے وہ لوگوں کو ڈرانے کی بھی کوشش کرتا ہے اور پرچانے کی بھی لیکن اللہ کے بندے اس کی دھمکیوں سے مرعوب نہ ہوں تو ان کا وہ کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ چنانچہ اس نے جب اللہ تعالیٰ کو یہ دھمکی دی تھی کہ میں اولاد آدم کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا تو اللہ تعالیٰ نے صاف لفظوں میں یہ واضح فرما دیا کہ
’إِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْہِمْ سُلْطَانٌ‘ (بنی اسرائیل ۱۷: ۶۵)
(جا تیرا جو جی چاہے کر دیکھ، میرے خاص بندوں پر۔۔۔ جو میری بندگی پر قائم رہنا چاہیں گے۔۔۔ تیرا کوئی زور نہیں چلے گا)
ساتھ ہی بندوں کے بارے میں یہ اطمینان بھی دلا دیا تھا کہ
’وَکَفٰی بِرَبِّکَ وَکِیْلاً‘ (بنی اسرائیل ۱۷: ۶۵)
(اور تیرا خداوند اعتماد کے لیے بالکل کافی ہے)
یعنی اس کے جو بندے اپنے رب پر بھروسہ کر کے شیطان کا مقابلہ کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کے اعتماد کی لاج رکھے گا اور وہ سرخ رو ہوں گے۔
’خنّاس‘ کا مفہوم: ’خَنَّاس‘ کے لفظ سے اس کے کردار کا دوسرا رخ واضح کیا گیا ہے۔ عام طور پر لوگوں نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ وہ چھپ کر وسوسہ اندازی کرتا ہے، خود سامنے نہیں آتا اس وجہ سے اس کو ’خنّاس‘ کہا گیا۔ لیکن یہ بات اگر صحیح ہو سکتی ہے تو صرف انہی شیاطین کے حد تک صحیح ہو سکتی ہے جو جنات کے زمرے سے تعلق رکھنے والے ہیں درآنحالیکہ اسی سورہ کی آگے والی آیت میں تصریح ہے کہ شیاطین جنوں اور انسانوں دونوں میں سے ہوتے ہیں۔ اس دور کے بعض قلم کاروں نے اس کے معنی باربار آنے والے کے لکھے ہیں لیکن اس معنی کو عربی لغت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ہمارے نزدیک اس کے معنی وہی ہیں جو ہم نے ترجمہ میں اختیار کیے ہیں یعنی دبک رہنے والا۔ اس سے مقصود شیطان کے کردار کے اس پہلو کو سامنے لانا ہے کہ وہ اللہ کے بندوں کو ورغلانے کے لیے تو نمودار ہوتا ہے لیکن جب کوئی شخص اس کے چکمہ میں آ کر گناہ کر بیٹھتا ہے تو وہ اس کے نتائج کی ذمہ داری سے اپنے کو بالکل بری قرار دے کر اس کو چھوڑ بیٹھتا ہے۔ چنانچہ شیطان کی صفت قرآن میں ’خَذُوْل‘ بھی آئی ہے یعنی اپنے مریدوں کو دغا دینے والا۔ اس کی اس دغا بازی اور بے وفائی کا ذکر قرآن میں مختلف اسلوبوں سے جگہ جگہ آیا ہے۔ سابق سورہ میں ہم سورۂ بنی اسرائیل کی یہ آیت نقل کر آئے ہیں کہ
’وَمَا یَعِدُہُمُ الشَّیْْطَانُ إِلاَّ غُرُوۡرًا‘۱ (بنی اسرائیل ۱۷: ۶۴)
(اور شیطان کے سارے وعدے محض فریب ہیں)۔
شیطان کا یہ کردار سورۂ حشر میں نہایت واضح لفظوں میں یوں بیان ہوا ہے:
کَمَثَلِ الشَّیْْطَانِ إِذْ قَالَ لِلْإِنۡسَانِ اکْفُرْ فَلَمَّا کَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْءٌ مِّنۡکَ إِنِّیْٓ أَخَافُ اللہَ رَبَّ الْعَالَمِیْنَ۔(الحشر ۵۹: ۱۶)
’’ان کی مثال شیطان کی ہے۔ جب کہ وہ انسان سے کہتا ہے کہ کفر کر تو جب وہ کفر کر بیٹھتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں تجھ سے بری ہوں، میں عالم کے خداوند، اللہ سے ڈرتا ہوں۔‘‘
اسی شیطانی کردار کا مظاہرہ یہود نے جنگ بدر کے موقع پر قریش کے ساتھ کیا کہ ان کو بھڑی دے کر مدینہ پر چڑھا لائے کہ وہ مسلمانوں کو ختم کر دیں، مسلمان ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے، اگر ضرورت ہوئی تو وہ بھی ان کے ساتھ ہوں گے۔ لیکن جب معرکۂ کارزار گرم ہوا اور انھوں نے میدان جنگ کا نقشہ دیکھا تو چھپ کر گھروں میں بیٹھ رہے۔ قرآن نے ان کے اس کردار کا نقشہ یوں کھینچا ہے:
وَإِذْ زَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْْطَانُ أَعْمَالَہُمْ وَقَالَ لاَ غَالِبَ لَکُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَإِنِّیْ جَارٌ لَّکُمْ فَلَمَّا تَرَآءَ تِ الْفِئَتَانِ نَکَصَ عَلٰی عَقِبَیْہِ وَقَالَ إِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنۡکُمْ إِنِّیْ أَرٰی مَا لاَ تَرَوْنَ۔۲ (الانفال ۸: ۴۸)
’’اور جب کہ شیطان (یہود) نے ان کے (قریش کے) اعمال ان کی نگاہوں میں کھبا دیے اور کہا کہ اب آپ لوگوں پر غالب ہونے کا بوتا کسی میں نہیں ہے اور میں آپ لوگوں کا پڑوسی ہوں تو جب دونوں گروہ آمنے سامنے ہوئے تو وہ دم دبا کر بھاگا اور بولا کہ میں تم سے بری ہوں۔ میں وہ مشاہدہ کر رہا ہوں جو تم نہیں کر رہے ہو۔‘‘
شیطان اور اس کے پیروؤں کا یہی کردار اس دنیا میں بھی ہے اور اسی کا مظاہرہ وہ آخرت میں بھی کریں گے۔ قرآن میں جگہ جگہ گمراہ لیڈروں اور ان کے پیروؤں کی اس توتکار کی تصویر کھینچی گئی ہے جو ان کے درمیان جہنم میں برپا ہو گی۔ عوام اپنے لیڈروں سے کہیں گے کہ ہم نے آپ لوگوں کی پیروی کی اور اس کے نتیجہ میں یہاں پہنچے تو کیا آپ لوگ اس عذاب میں سے کچھ حصہ بٹائیں گے جو ہمارے حصہ میں آیا؟ لیڈر جھٹ جواب دیں گے کہ تم خود شامت زدہ تھے کہ تم نے ہماری پیروی کی، ہم کو تمہارے اوپر کوئی زور تو حاصل نہیں تھا، تم جو کچھ بنے خود بنے تو اپنے کیے کی سزا خود بھگتو۔
لفظ ’خَنَّاسٌ‘ یہاں اس کے اسی کردار کی تصویر پیش کر رہا ہے تاکہ لوگ اس کے صرف اس چاؤ اور پیار ہی کو نہ دیکھیں جو وہ اس وقت ظاہر کرتا ہے جب وہ ان کے پاس فریب دینے کے لیے آتا ہے بلکہ اس کی اس غداری اور بے وفائی کو بھی پیش نظر رکھیں جس کا مظاہرہ وہ اس وقت کرتا ہے جب آدمی اس کے دام فریب میں پھنس جاتا ہے اور متوقع ہوتا ہے کہ وہ اپنے کیے ہوئے وعدے پورے کرے گا۔
_____
۱
وَکَانَ الشَّیْْطَانُ لِلْإِنۡسَانِ خَذُوۡلاً (الفرقان ۲۵: ۲۹)
’’اور شیطان انسان کے ساتھ بڑا ہی بے وفائی کرنے والا ہے۔‘‘
۲ اس آیت کی تفسیر کے لیے ملاحظہ ہو تدبرقرآن۔ جلد سوم، صفحات ۸۰-۸۳۔