Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 100

  1. وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا١ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ١٘ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّا١ؕ وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ﴿100﴾

    1. وَرَفَعَاور اونچا بٹھایا
    2. اَبَوَيْهِاپنے ماں باپ
    3. عَلَيپر
    4. الْعَرْشِتخت
    5. وَخَرُّوْااور وہ گرگئے
    6. لَهٗاس کے لیے ( آگے)
    7. سُجَّدًاسجدہ میں
    8. وَقَالَاور اس نے کہا
    9. يٰٓاَبَتِاے میرے ابا
    10. هٰذَایہ
    11. تَاْوِيْلُتعبیر
    12. رُءْيَايَمیرا خواب
    13. مِنْ قَبْلُاس سے پہلے
    14. قَدْ جَعَلَهَااس کو کردیا
    15. رَبِّيْمیرا رب
    16. حَقًّاسچا
    17. وَاور
    18. قَدْ اَحْسَنَبیشک اس نے احسان کیا
    19. بِيْٓمجھ پر
    20. اِذْجب
    21. اَخْرَجَنِيْمجھے نکالا
    22. مِنَسے
    23. السِّجْنِقید خانہ
    24. وَجَآءَاور لے آیا
    25. بِكُمْتم سب کو
    26. مِّنَسے
    27. الْبَدْوِگاؤں
    28. مِنْۢ بَعْدِاس کے بعد
    29. اَنْکہ
    30. نَّزَغَجھگڑا ڈالدیا
    31. الشَّيْطٰنُشیطان
    32. بَيْنِيْمیرے درمیان
    33. وَبَيْنَ اِخْوَتِيْاور میرے بھائیوں کے درمیان
    34. اِنَّبیشک
    35. رَبِّيْمیرا رب
    36. لَطِيْفٌعمدہ تدبیر کرنیوالا
    37. لِّمَا يَشَآءُجس کے لیے چاہے
    38. اِنَّهٗبیشک وہ
    39. هُوَوہ
    40. الْعَلِيْمُجانے والا
    41. الْحَكِيْمُحکمت والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اس نے اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب اس کے لیے سجدہ میں گر پڑے۔ اور اس نے کہا، اے میرے باپ ! یہ ہے میرے پہلے کے خواب کی تعبیر۔ میرے رب نے اس کو سچ کر دکھایا۔ اور اس نے بڑے ہی کرم کے ساتھ میری خبرگیری فرمائی جب کہ مجھے قید خانے سے نکالا اور آپ لوگوں کو دیہات سے لایا بعد اس کے کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈلوا دیا تھا۔ بیشک میرا رب جو کچھ چاہتا ہے اس کے لیے نہایت باریک بین اور دقیقہ رس ہے۔ بیشک وہی علیم و حکیم ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَرَفَعَ اَبَوَيْهِ عَلَي الْعَرْشِ وَخَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا ۚ وَقَالَ يٰٓاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ ۡ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّيْ حَقًّا ۭ وَقَدْ اَحْسَنَ بِيْٓ اِذْ اَخْرَجَنِيْ مِنَ السِّجْنِ وَجَاۗءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّيْطٰنُ بَيْنِيْ وَبَيْنَ اِخْوَتِيْ ۭ اِنَّ رَبِّيْ لَطِيْفٌ لِّمَا يَشَاۗءُ ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ۔ " عرش " سے مراد یہاں تخت شاہی نہیں بلکہ وہ تخت ہے جس پر حضرت یوسف ؑ فصل مقدمات وغیرہ کے لیے فروکش ہوا کرتے تھے۔ معلوم ہوتا ہے اس دور میں وزراء اور اعلی حکام تخت ہی پر بیٹھتے تھے۔ " خَرَّ یَخِرُّ " کے معنی اوپر سے نیچے کی طرف گرنے اور سجود کے معنی فرماں بردارانہ جھکنے کے ہیں۔ پیشانی زمین پر ٹیکنا اس کے لیے لازم نہیں بلکہ یہ اس کی تکمیلی صورت ہے جب اس کے ساتھ " خر " کا لفظ آئے تو اس کے معنی بےاختیارانہ جھک پڑنے کے ہوں گے۔ عام اس سے کہ یہ جھک پڑنا صرف جھک پڑنے کی حد تک ہو یا پیشانی زمین پر ٹیک دینے کی حد تک۔ جس عہد کا یہ واقعہ ہے تورات وغیرہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں بڑوں کی تعظیم کے لیے یہ طریقہ معروف رہا ہے لیکن اس کی صورت زمین پر پیشانی ٹیک دینے کی نہیں بلکہ جھک پڑنے کی تھی۔ اور اگر کوئی شخص اس سجود سے اصطلاح سجدہ ہی مراد لے جب بھی کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کیونکہ سجدہ بجائے خود شرک نہیں بلکہ شرک کے اشباہ و قوالب میں سے ہے اور یہ اشباہ و قوالب حتمی طور پر آخری اور کامل دین یعنی اسلام میں حرام ہوئے۔ حضرت یوسف ؑ نے اپنے والدین کو تعظیماً تخت پر جگہ دی۔ بقیہ لوگ حسب دستور عام لوگوں کے بیٹھنے جگہ پر بیٹھے ہوں گے۔ اس کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف نمودار ہوئے اور قاعدے کے مطابق ان کے خدم و حشم ان کی تعظیم کے لیے جھکے تو ماحول سے متاثر ہو کر یہ لوگ بھی بےاختیارانہ ان کی تعظیم کے لیے جھک پڑے۔ خواب کی تعبیر : وَقَالَ يٰٓاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ ۡ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّيْ حَقًّا۔ یا ابت میں " ت " " ی " کی قائم مقام ہے۔ حضرت یوسف نے یہ منظر دیکھا تو انہیں اپنا وہ خواب یاد آگیا جو انہوں نے پہلے دیکھا تھا کہ گیارہ ستارے اور سورج اور چاند مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے والد ماجد کو مخاطب کر کے فرمایا کہ والد ماجد ! یہ ہے میرے اس خواب کی تعبیر جو میں نے پہلے دیکھا، میرے رب نے اس کو سچ کر دکھایا۔ اس کے بعد حضرت یوسف نے جیل سے رہائی اور ایک مدت کی جدائی کے بعد ماں باپ اور بھائیوں کی یکجائی پر اپنے رب کا شکر ادا کیا۔ اِنَّ رَبِّيْ لَطِيْفٌ لِّمَا يَشَاۗءُ ، یعنی میرا رب جس کام کو کرنا چاہتا ہے اس کے لیے اپنے علم اور اپنی حکمت سے ایسی باریک راہیں نکال لیتا ہے کہ اس کا سان گمان بھی نہیں ہوتا۔ حضرت یوسف ؑ کی یہ پوری سرگزشت اس حقیقت کی ایک عظیم شہادت ہے۔