Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 99

  1. فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ﴿99﴾

    1. فَلَمَّاپھر جب
    2. دَخَلُوْاوہ داخل ہوئے
    3. عَلٰي يُوْسُفَیوسف پر (پاس)
    4. اٰوٰٓىاس نے ٹھکانہ دیا
    5. اِلَيْهِاپنے پاس
    6. اَبَوَيْهِاپنے ماں باپ
    7. وَقَالَاور کہا
    8. ادْخُلُوْاتم داخل ہو
    9. مِصْرَمصر
    10. اِنْاگر
    11. شَآءَ اللّٰهُاللہ نے چاہا
    12. اٰمِنِيْنَامن (دلجمعی) کے ساتھ
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس جب وہ یوسف کے پاس پہنچے اس نے اپنے والدین کو خاص اپنے پاس جگہ دی اور کہا مصر میں انشاء اللہ امن و چین سے رہیے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ۔ حضرت یوسف ؑ کی خدمت میں حاضر : یہاں قرینہ کی موجودگی کے سبب سے اتنی بات محذوف ہے کہ یہ لوگ حضرت یوسف کے ارشاد کی تعمیل میں اپنے والدین اور اہل و عیال سمیت مصر پہنچے۔ مصر پہنچ کر جب حضرت یوسف کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے اپنے والدین کو خاص اپنے پاس جگہ دی اور ان سب لوگوں کا خیر مقدم کیا۔ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ۔ ، خیر مقدم کا جملہ ہے یعنی مصر میں داخل ہوجیے، یہ داخلہ انشاء اللہ امن و اطمینان کا موج ہوگا۔ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف نے شہر سے باہر نکل کر ان لوگوں کا خیر مقدم کیا اور اس شان سے ان لوگوں کو شہر میں لائے کہ ایک جشن کی صورت پیدا ہوگئی۔ " ابویہ " کا لفظ یہاں علی سبیل التغلیب استعمال ہوا ہے اس لیے کہ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف کی والدہ کا انتقام ہوچکا تھا۔ ان کی پرورش سوتیلی ماں نے کی تھی جو ان کی حقیقی خالہ بھی تھیں۔