تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 102
ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ۚ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ یَمْكُرُوْنَ﴿102﴾
- ذٰلِكَیہ
- مِنْسے
- اَنْۢبَآءِ الْغَيْبِغیب کی خبریں
- نُوْحِيْهِہم وہ وحی کرتے ہیں
- اِلَيْكَتمہاری طرف
- وَمَا كُنْتَاور تم نہ تھے
- لَدَيْهِمْان کے پاس
- اِذْجب
- اَجْمَعُوْٓاانہوں نے جمع کیا (پختہ کیا)
- اَمْرَهُمْاپنا کام
- وَهُمْاور وہ
- يَمْكُرُوْنَچال چل رہے تھے
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ سرگزشت غیب کی خبروں میں سے ہے جس کی ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں اور تم تو ان کے پاس اس وقت موجود نہیں تھے جب کہ انہوں نے اپنی رائے پختہ کی اور وہ سازش کر رہے تھے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آگے کا مضمون۔ آیات 102 تا 111: خاتمہ سورة : اب یہ خاتمہ سورة کی آیات ہیں جن میں نبی ﷺ کو خطاب کر کے آپ کو تسلی دی گئی ہے اور ساتھ ہی قریش کو دھمکی ہے کہ اگر انہوں نے قوموں کی تاریخ سے سبق نہ لیا تو اس انجام سے دوچار ہونے کے لیے تیار رہیں جس سے پچھلی قومیں دوچار ہوچکی ہیں۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔
ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ ۚ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْٓا اَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُوْنَ۔
" ذلک " کا اشارہ اسی سرگزشت کی طرف ہے جو سنائی گئی۔ فرمایا کہ یہ غیب کی خبروں میں سے ہے یعنی یہ تمہارے علم و اطلاع سے بالکل باہر کی چیز ہے، نہ تمہیں اس کا کوئی علم تھا اور نہ اس کے معلوم کرنے کا تمہارے پاس کوئی ذریعہ ہی تھا۔ یہ صرف اللہ کا فضل ہے کہ اس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے تمہیں آگاہ فرمایا، اور نہ تم کہیں اس وقت یوسف کے بھائیوں پاس موجود تو تھے نہیں جب وہ یوسف کے خلاف سازش کر رہے تھے، کسی کی رائے کچھ تھی کسی کی کچھ، بالآخر اس رائے پر سب کا اتفاق ہوگیا کہ ان کو کسی کنوئیں میں ڈال دیا جائے۔
یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ تورات میں حضرت یوسف کا قصہ اگر ہے بھی تو آنحضرت ﷺ کے لیے اس سے واقف ہونے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا اس لیے کہ آپ امی تھے۔ پھر تورات کے بیان اور قرآن کے بیان میں قدم قدم پر اختلاف ہے اور ان تمام اختلافات پر جو شخص بھی غور کرے گا وہ یہ تسلیم کیے بغیر نہی رہ سکتا کہ قرآن کا بیان بالکل عقل و فطرت کے مطابق ہے اس لیے کہ یہ براہ راست وحی الٰہی پر مبنی ہے۔