تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 105
وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ﴿105﴾
- وَكَاَيِّنْاور کتنی ہی
- مِّنْ اٰيَةٍنشانیاں
- فِي السَّمٰوٰتِآسمانوں میں
- وَالْاَرْضِاور زمین
- يَمُرُّوْنَوہ گزرتے ہیں
- عَلَيْهَاان پر
- وَهُمْلیکن وہ
- عَنْهَااس سے
- مُعْرِضُوْنَمنہ پھیرنے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ گزرتے ہیں تو ان سے منہ موڑے ہوئے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَكَاَيِّنْ مِّنْ اٰيَةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ يَمُرُّوْنَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ۔ نشانیوں کے مطالبہ کا جواب : یعنی ان کے ایمان نہ لانے میں اس چیز کو بھی کوئی دخل نہیں ہے کہ ان کے طلب کے مطابق ان کو کوئی نشانی نہیں دکھائی جای۔ اصل یہ ہے کہ نشانیوں کو دیکھنے اور ان سے عبرت حاصل کرنے والی آنکھیں ہی ان کے پاس موجود نہیں ہیں، ورنہ آسمان و زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ گزرتے ہیں، اگر ان کے پاس آنکھیں ہوتیں تو یہ ان کو دیکھتے اور ان سے عبرت حاصل کرتے۔ مطلب یہ ہے کہ اس پہلو سے بھی نہ قصور تمہارا ہے اور نہ قرآن کا بلکہ اصل بیماری خود ان کے اپنے اندر ہے کہ وہ آنکھیں کھول کر کسی چیز کو دیکھنے ہی کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ قرآن جب ان کو یہ خبر دیتا تھا کہ اگر وہ رسول پر ایمان نہ لائے تو ان پر اللہ کا عذاب آجائے گا تو اس کا جواب وہ یہ دیتے تھے کہ آخر اس عذاب کی کوئی نشانی ہمیں دکھا کیوں نہیں دی جاتی۔ یہ اسی کا جواب ہے کہ اگر وہ آنکھیں کھول کر دیکھیں تو ان کے گردوپیش میں اس کی بہت سی نشانیاں ہیں لیکن یہ تو اسی کو نشانی سمجھتے ہیں جو ان پر آدھمکے۔