Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 20

Tafseer
  1. وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ١ۚ وَ كَانُوْا فِیْهِ مِنَ الزَّاهِدِیْنَ۠ع﴿20﴾

    1. وَشَرَوْهُاور انہوں نے اسے بیچ دیا
    2. بِثَمَنٍدام
    3. بَخْسٍکھوٹے
    4. دَرَاهِمَدرہم
    5. مَعْدُوْدَةٍگنتی کے
    6. وَكَانُوْااور وہ تھے
    7. فِيْهِاس میں
    8. مِنَسے
    9. الزَّاهِدِيْنَبےرغبت، بےزار
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور انہوں نے اس کو ایک حقیر قیمت، چند درم کے عوض، بیچ دیا اور اس کے معاملے میں بالکل بےپروا تھے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍۢ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ ۚ وَكَانُوْا فِيْهِ مِنَ الزَّاهِدِيْنَ۔ بخس اور زہد کا مفہوم۔ شری یشری خریدنے اور بیچنے دونوں معنی میں آتا ہے۔ یہاں اپنے دوسرے معنی میں آیا ہے۔ بخس کے معنی ناقص اور حقیر کے ہیں۔ زہد فی الشیء، رغب عنہ و ترکہ۔ یعنی وہ فلاں چیز سے بےرغبت ہوگیا۔ اس کو چھوڑ بیٹھا۔ تارک دنیا کو زاہد اس لیے کہتے ہیں کہ وہ دنیا اور اسباب دنیا سے بےرغبت و بےنیاز ہوجاتا ہے۔ حضرت یوسف ؑ کی فروخت۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے مصر پہنچتے ہی اس کو نہایت حقیر قیمت، گنتی کے چند درم کے عوض بیچ چیا، انہوں نے حضرت یوسف کے حاصل کرنے پر کچھ دام تو خرچ نہیں کیے تھے کہ اپنے د ام وصول کرنے اور اس پر کچھ مزید نفع حاصل کرنے کی فکر ہوتی۔ ایک چیز مفت ہاتھ آئئی تھی وہ جس قیمت پر بھی بک گئی ان کے لیے نفع ہی نفی تھی۔ چناچہ انہوں نے غالبا خریدار اول ہی کے ہاتھ، جو قیمت بھی اس کی زبان سے نکل گئی، اسی قیمت پر ان کو فروخت کردیا۔ انہیں کیا پتہ تھا کہ وہ جس لڑکے کو بیچ رہے ہیں وہ خانوادہ یعقوبی کا چشم و چراغ اور خدا کا پیغمبر ہے اور بہت جلد مصر کی پوری مملکت اس کے انگوٹھے کے نیچے آنے والی ہے، جب وہ ان باتوں میں سے کسی بات سے واقف ہی نہیں تھے تو ان کو بےپر وہ تو ہونا ہی تھا۔
Tadabbur-e-Quran - 12 : 20