Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 26

Tafseer
  1. قَالَ هِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَ هُوَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ﴿26﴾

    1. قَالَاس نے کہا
    2. هِىَاس
    3. رَاوَدَتْنِيْمجھے پھسلایا
    4. عَنْسے
    5. نَّفْسِيْمیرا نفس
    6. وَشَهِدَاور گواہی دی
    7. شَاهِدٌایک گواہ
    8. مِّنْسے
    9. اَهْلِهَااس کے لوگ
    10. اِنْاگر
    11. كَانَہے
    12. قَمِيْصُهٗاس کی قمیص
    13. قُدَّپھٹی ہوئی
    14. مِنْ قُبُلٍآگے سے
    15. فَصَدَقَتْتو وہ سچی
    16. وَهُوَاور وہ
    17. مِنَسے
    18. الْكٰذِبِيْنَجھوٹے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس نے کہا اسی نے مجھے پھسلانے کی کوشش کی اور عورت کے خاندان والوں میں سے ایک گواہ نے گواہی دی کہ اگر اس کا کرتا آگے سے پھٹا ہوا ہو تو وہ سچی ہے ور وہ جھوٹا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
26۔ 28:۔ قَالَ هِىَ رَاوَدَتْنِيْ عَنْ نَّفْسِيْ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا ۚ اِنْ كَانَ قَمِيْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ۔ وَاِنْ كَانَ قَمِيْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ۔ فَلَمَّا رَاٰ قَمِيْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَيْدِكُنَّ ۭ اِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيْمٌ۔ قرآن کی شہادت : جب اس نے حضرت یوسف کو متہم کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے مختصر الفاظ میں اصل حقیقت ظاہر کردی کہ اس میں میرا قصور نہیں ہے بلکہ یہی میرے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ کی خبر خاندان میں بھی پھیل گئی اور یہ بھی لوگوں کو علم ہوگیا کہ اس کشمکش میں یوسف کا کرتا پھٹ گیا ہے۔ گویا ایک مقدمہ بن گیا۔ عورت کا بیان کچھ، یوسف کا بیان کچھ۔ اب جھوٹا کون ہے اور سچا کون ؟ اس کا فیصلہ کرنے میں اگر حالات و قرائن میں سے کوئی چیز مددگار ہوسکتی تھی تو کرتا پھٹنے کا واقعہ تھا۔ عورت کے خاندان کے لوگوں میں سے ایک شخص نے، جو غالباً خاندان کے بڑوں بوڑھوں میں سے رہا ہوگا، یہ رائے دی کہ اگر کرتا آگے سے پھٹا ہو تب تو عورت سچی ہے یوسف کہتے ہیں اور اگر تا پیچھے سے پھٹا ہو تو یوسف سچے ہیں، عورت جھوٹ بولتی ہے۔ یہ بات نہایت معقول تھی اس سے شوہر کو اس پر اطمینان ہوگیا۔ جب اس نے دیکھا کہ یوسف کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہے تو اس نے عورت کو ڈانٹا کہ یہ سب تمہارا فریب ہے اور تمہارا فریب بڑا ہی خطرناک ہوتا ہے۔ " من کیدکن " میں جمع کی ضمیر مرد کے غصہ کی تیزی اور شدت کو ظاہر کرتی ہے۔ گویا اس کے فعل نے تنہا اس کو نہیں بلکہ اس کی پوری جنس کو اس کی نگاہوں میں کیّاد اور مبغوض بنادیا۔