Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 3

  1. نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ هٰذَا الْقُرْاٰنَ١ۖۗ وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ﴿3﴾

    1. نَحْنُہم
    2. نَقُصُّبیان کرتے ہیں
    3. عَلَيْكَتم پر
    4. اَحْسَنَبہت اچھا
    5. الْقَصَصِقصہ
    6. بِمَآاس لیے کہ
    7. اَوْحَيْنَآہم نے بھیجا
    8. اِلَيْكَتمہاری طرف
    9. ھٰذَایہ
    10. الْقُرْاٰنَقرآن
    11. وَاِنْاور تحقیق
    12. كُنْتَتو تھا
    13. مِنْ قَبْلِهٖاس سے قبل
    14. لَمِنَالبتہ۔ سے
    15. الْغٰفِلِيْنَبیخبر (جمع)
Translation · Tadabbur-e-Quran
ہم تمہیں ایک بہترین سرگزشت سناتے ہیں اس قرآن کی بدولت جو ہم نے تمہاری طرف وحی کیا۔ اس سے پہلے بیشک تم اس سے نا آشنا تھے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
" احسن القصص " کا مفہوم : " احسن القصص " میں " قصص " قصہ اور سرگزشت کے معنی میں ہے۔ مصدر یعنی قصہ بیان کرنے کے معنی میں نہیں ہے۔ اگر مصدر کے معنی میں ہوتا تو زبان کے معروف اسعمال کے مطابق اس پر الف لام نہ آتا بلکہ " احسن قصص " ہوتا۔ اس وجہ سے ہمارے نزدیک اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم تمہیں بہترین قصہ سناتے ہیں۔ یہ معنی اس کے صحیح نہیں ہیں کہ ہم تمہیں بہترین پیرایہ میں سناتے ہیں۔ قرآن کے نظائر سے اسی کی تائید ہوتی ہے۔ مثلاً سورة اعراف میں ہے۔ فاقصص القصص لعلہم یتفکرون (پس ان کو سرگزشت سناؤ تاکہ وہ غور کریں)۔ سورة قصص میں ہے فلما جاء ہو قص علیہ القصص (پس جب وہ اس کے پاس آیا اور اس کی سرگزشت سنائی)۔ ہمارے نزدیک " احسن القصص " اسی طرح کی تالیف کلام ہے جس کی نظیر قرآن میں اللہ نزل احسن الحدیث : اللہ نے بہترین کلام اتارا ہے۔ یہ امر بھی یہاں قابل توجہ ہے کہ " احسن القصص " کو مصدر کے معنی میں لینے کی صورت میں مفعول غائب ہوجاتا ہے درآنحالیکہ فعل اپنے مفعول کا مقتضی ہے اور قرآن میں ہر جگہ یہ اپنے مفعول کے ساتھ ہی آیا ہے۔ یہ چند اشارات تالیف کلام سے متعلق ہیں۔ رہا یہ سوال کہ حضرت یوسف کی اس سرگزشت کو " احسن القصص " سے کیوں تعبیر فرمایا گیا ہے تو اس کے بعض پہلو ہم اپنے تمہیدی مباحث میں واضح کچ کے ہیں اور بعض کی طرف ہم آگے ان کے محل میں انشاء اللہ اشارہ کریں گے۔ ایک سرگزشت آنحضرت ﷺ کے لیے بمنزلہ آئینہ : اوپر کی آیات میں خطاب عام ہے اور اس کی نوعیت، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، قریش کو تنبیہ کی تھی۔ اب اس آیت سے روئے سخن نبی ﷺ کی طرف براہ راست ہوگیا ہے۔ آپ کو خطاب کر کے فرمایا جا رہا ہے۔ کہ ہم تمہیں ایک بہترین سرگزشت سنا رہے ہیں اور یہ سرگزشت اس قرآن کی بیشمار برکتوں میں سے ایک برکت ہے جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں، اس سے پہلے تم اس سے بالکل نا آشنا تھے۔ یہاں غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اس سرگزشت کے دو نہایت اہم پہلو آپ کے سامنے واضح کیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ احسن القصص ہے، دوسرا یہ کہ آپ کی رسالت کی ایک نہایت واضح دلیل ہے۔ جہاں تک اس کے احسن القصص ہونے کا تعلق ہے اس کی وضاحت ہم پیچھے کرچکے ہیں۔ ایک سرگزشت اگر بجائے خود سچی بھی ہو اور جس کو سنائی جا رہی ہو اس کے لیے وہ بمنزلہ ایک آئینہ کے بھی بن جائے جس میں وہ اپنی زندگی کے تمام نشیب و فراز کامیابی کی آخری منزلوں تک، دیکھ لے تو اس سرگزشت سے زیادہ سبق آموز، بابرکت اور قیمتی سرگزشت کوئی اور نہیں ہوسکتی۔ آنحضرت ﷺ کے لیے حضرت یوسف کی سرگزشت کی نوعیت یہی تھی۔ اس میں آپ کو آپ کے حاضر اور مستقبل کا پورا نقشہ دکھا دیا گیا جس میں چند مقامات بہت سخت بھی تھے لیکن آخری منزل نہایت شان دار تھی۔ اس راہ میں اگرچہ غار ثور بھی آتا تھا لیکن غار ثور کی ظلمتوں سے مدینہ کی حکومت بھی نظر آرہی تھی اور مکہ کی پر محسن زندگی کے اندر اس دن کی جھلک بھی نمایاں تھی جب کہ مکہ کے متمردین گھٹنے ٹیک کر آپ سے عفو وکرم کی التجائیں کریں گے۔ سرگزشت کے دلیل رسالت ہونے کی نوعیت : رسالت کی دلیل یہ یوں ہے کہ نبی ﷺ امی تھے۔ آپ نہ تو اس سرگزشت سے واقف ہی تھے نہ آپ کے پاس اس سے واقف ہونے کا ذریعہ ہی تھا۔ یہ قرآن کا فیض تھا کہ آپ اس سے واقف ہوئے اور اس صحت و صداقت اور ایسی وسعت و تفصیل کے ساتھ واقف ہوئے کہ اہل کتاب بھی اس سے واقف نہ تھے۔ اس پہلو سے یہ آپ کی قوم کے لیے بھی آپ کی رسالت کی ایک دلیل تھی اور اہل کتاب کے لیے بھی، کہ اگر آپ وحی الٰہی سے مشرف نہیں ہیں تو یہ بائیں اس استقصا اور صحت و صداقت کے ساتھ آپ کو کیسے معلوم ہوئیں ! من قبلہ کے لفظ سے اس امر واقعی کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ اگر اس قرآن سے پہلے تمہیں اس سرگزشت کی کچھ بھی واقفیت ہوتی تو چالیس سال کی سیع مدت میں کبھی تو بات زبان پر آتی۔ پھر تمہارے مخالفین کیوں نہیں سوچتے کہ اگر یہ وحی الٰہی کا فیضان نہیں ہے تو یہ چشمہ یکایک کہاں سے پھوٹ پڑا۔ یہ امر بھی یہاں ملحوظ رہے کہ تورات اور تالمود میں یہ سرگزشت ہے ضرور لیکن اول تو، جیسا کہ ہم نے عرض کیا آپ کے پاس ان سے واقف ہونے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا، پھر ان کے بیان اور قرآن کے بیان میں قدم قدم پر اختلاف ہے اور اس اختلاف ہے اور اس اختلاف پر جو شخص بھی انصاف سے غور کرے گا وہ اسی نتیجہ وہ اسی نتیجہ پر پہنچے گا کہ قرآن کا بیان بالکل نیچرل ہے اور تورات کا بیان بالکل خلافِ عقل و فطرت اور شان نبوت کے منافی ہے۔