Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 4

  1. اِذْ قَالَ یُوْسُفُ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ رَاَیْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ رَاَیْتُهُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ﴿4﴾

    1. اِذْجب
    2. قَالَکہا
    3. يُوْسُفُیوسف
    4. لِاَبِيْهِاپنے باپ سے
    5. يٰٓاَبَتِاے میرے باپ
    6. اِنِّىْبیشک میں
    7. رَاَيْتُمیں نے دیکھا
    8. اَحَدَ عَشَرَگیا رہ
    9. كَوْكَبًاستارے
    10. وَّالشَّمْسَاور سورج
    11. وَالْقَمَرَاور چاند
    12. رَاَيْتُهُمْمیں نے انہیں دیکھا
    13. لِيْاپنے لیے
    14. سٰجِدِيْنَسجدہ کرتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ اس وقت کی بات ہے جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا جان ! میں نے خوب میں گیارہ ستارے اور سورج اور چاند دیکھے، میں نے ان کو دیکھا کہ وہ میرے آگے سربسجود ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اِذْ قَالَ يُوْسُفُ لِاَبِيْهِ يٰٓاَبَتِ اِنِّىْ رَاَيْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَاَيْتُهُمْ لِيْ سٰجِدِيْنَ۔ حضرت یوسف کا خواب : اب یہ اصل سرگزشت کی تمہید شروع ہوتی ہے۔ حضرت یوسف نے ایک اپنے والد حضرت یعقوب سے اپنا ایک خواب بیان کیا کہ گیارہ ستارے اور سورج اور چاند میرے آگے سربسجود ہیں۔ حضرت یوسف کا اس خواب کو سب سے پہلے اپنے والد کے علم میں لانا ان کی غیر معمولی سلیم الطبعی، نیک نیت اور سعادت مندی کی دلیل ہے۔ اس طرح کا خواب اگر کوئی اوچھی طبیعت کا آدمی دیکھتا تو سب سے پہلے اپنی بڑائی کا ڈھول دوسروں میں پیٹتا لیکن حضرت یوسف بچپن ہی سے نہایت رزین، متین اور سنجیدہ تھے۔ انہوں نے یہ خوب دیکھا تو انہیں یہ محسوس ہوا کہ یہ خواب خراب پریشاں کی نوعیت کا نہیں ہے بلکہ اہمیت رکھنے والا خواب ہے اس وجہ سے انہوں نے اس کو سب سے پہلے اپنے والد ماجد کے سامنے پیش کیا جن پر ہر پہلو سے ان کو سب سے زیادہ اعتماد تھا۔ آیت کے الفاظ پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ان کی طبیعت کے اندر جو تواضع تھی وہ خواب کو پیش کرنے کے انداز میں بھی نمایاں ہے۔ حضرت یعقوب کے سامنے جاتے ہی بےدھڑک یوں نہیں کہہ دیا کہ میں نے گیارہ ستاروں اور سورج چاند کو اپنے آگے سربسجود دیکھا بلکہ خواب کا ابتدائی حصہ کہ میں نے گیارہ ستاروں اور سورج چاند کو دیکھا، کہہ کر ٹھٹک گئے اس لیے کہ آگے کی بات میں ان کی بڑائی نمایاں تھی جس کے اظہار سے ان کی متواضع طبیعت جھجکتی تھی لیکن چونکہ اظہار ضوری تھا اس وجہ سے ذرا توقف کے بعد فرمایا رایتہم لی ساجدین میں نے ان کو دیکھا کہ وہ میرے لیے سجدے میں پڑے ہوئے ہیں۔ عربیت کا ذوق رکھنے والے اندازہ کرسکتے ہیں کہ فعل رایت کے اعادہ میں یہ بلاغت ہے کہ اس میں رویا کے بیان کرتے وقت خاص کر واقعہ سجدہ بیان کرتے وقت حضرت یوسف پر جو جھجھک طاری رہی ہے وہ واضح ہے۔