تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 5
قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقْصُصْ رُءْیَاكَ عَلٰۤى اِخْوَتِكَ فَیَكِیْدُوْا لَكَ كَیْدًا١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ﴿5﴾
- قَالَاس نے کہا
- يٰبُنَيَّاے میرے بیٹے
- لَا تَقْصُصْنہ بیان کرنا
- رُءْيَاكَاپنا خواب
- عَلٰٓيپر (سے)
- اِخْوَتِكَاپنے بھائی
- فَيَكِيْدُوْاوہ چال چلیں گے
- لَكَتیرے لیے
- كَيْدًاکوئی چال
- اِنَّبیشک
- الشَّيْطٰنَشیطان
- لِلْاِنْسَانِانسان کے لیے (کا)
- عَدُوٌّدشمن
- مُّبِيْنٌکھلا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس نے جواب دیا کہ اے میرے بیٹے تم اپنے اس خواب کو اپنے بھائیوں کو نہ سنانا کہ وہ تمہارے خلاف کسی سازش میں لگ جائیں۔ شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قَالَ يٰبُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلٰٓي اِخْوَتِكَ فَيَكِيْدُوْا لَكَ كَيْدًا ۭ اِنَّ الشَّيْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ۔
حضرت یعقوب کی تعبیر اور حضرت یوسف کو ہدایت : حضرت یعقوب نے خواب سنتے ہی یہ اندازہ فرما لیا کہ یہ منصب نبوت پر سرفرازی کا اشارہ ہے لیکن اس بشارت سے پہلے انہوں نے حضرت یوسف کو تاکید کے ساتھ منع فرمایا کہ یہ خواب اپنے بھائیوں کے آگے نہ بیان کردینا کہ کہیں وہ حسد سے جل بھن کر تمہارے خلاف کسی سازش میں سرگرم ہوجائیں۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ حضرت یوسف کے کل گیارہ بھائی تھے جن میں سے دس ان کی سوتیلی ماؤں سے تھے۔ صرف سب سے چھوٹے بھائی بن یامین ان کی اپنی ماں سے تھے۔ یہاں اشارہ انہیں دس سوتیلے بھائیوں کی طرف ہے۔ چونکہ ان بھائیوں کی پرخاش حضرت یوسف کے ساتھ واضح تھی اس وجہ سے حضرت یعقوب کو اندیشہ ہوا کہ اگر کہیں انہوں نے یوسف کا خواب سن لیا تو ان کی حسد کی آگ اور بھڑک اٹھے گی اور عجب نہیں کہ وہ حسد سے اندھرے ہو کر ان کو نقصان پہنچانے کی کوئی خطرناک سازش کر ڈالیں۔ ان الشیطان للانسان عدومبین یعنی کھلا ہوا دشمن شیطان تو موجود ہی ہے، وہ کہیں ان کو کسی فتنہ کی راہ پر نہ ڈال دے۔